Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

(40)آیتوں  کا ترجَمہ کنزالایمان سے لیجئے اور شروع کرنے سے قبل لفظ’’ ترجمۂ کنزالایمان : ‘‘ لکھئے۔ [1]؎  اس کے علاوہ جب کسی اور عَرَبی یا فارسی عبارت مَثَلاًمَتَنِ حدیث کے معنیٰ بیان کریں  تو ابتِداء ً لکھئے : ’’ترجَمہ : اورہر طرح کے ترجَمے کا رسمُ الخَط قدرے باریک ہو، تاکہ دیگر عبارات سے مُمتاز رہے۔

(41)اسلامی بھائیوں  نے اگرتَبَرُّکاً کسی شہر یاعَلاقے کامَدَنی نام رکھاہو تو ضَرورتاً وہ بھی لکھئے مَثَلاًکراچی کے ساتھ ’’باب المدینہ‘‘، لاہور کے ساتھ ’’مرکز الاولیاء‘‘ ، سیالکوٹ کے ساتھ ’’ ضیاکوٹ ‘‘فیصل آباد کے ساتھ ’’سردارآباد ‘‘ سرگودھا کے ساتھ ’’ گلزارِ طیبہ ، ‘‘لاڑکانہ کے ساتھ’’ فاروق نگر‘‘وغیرہ۔

اُسلوبِ تحریر جارِحانہ نہ ہو

( 42)مانِعِ شرعی نہ ہونے کی صورت میں  نرم الفاظ استعمال کرنے کی سعی فرمائیے، اُسلُوبِ تحریر جارحانہ نہ ہو۔ حدیثِ پاک میں  ہے :  بشِّرُ وْا وَلَا تَنَفِّرُوا یعنی خوشخبری سناؤ نفرت مت دلاؤ۔        (صحیح مسلم ص۹۵۴حدیث۱۷۳۲)

 (43)مَرجوح قول پر مفتی کافتویٰ دینا جائز نہیں ، قاضی بھی اس کے مطابِق فیصلہ نہیں  کر سکتا۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلامفرماتے ہیں : ’’اَلْحُکْمُ وَالْفُتْیَا بِالْقَوْلِ الْمَرْجُوْحِ جَھْلٌ وَّخَرْقُ الْاِجْمَاع ‘‘قَولِ مَرجُوح پر فتویٰ اور حُکم دینا جَہَالَت اور اِجْمَاع کی مُخَالَفَت ہے ۔(د رمختار ج ۱ص ۱۷۶)میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : جو قولِ جمہو رکے خلاف قولِ مرجوح پر حکم یا فتویٰ دے وہ ضرور جاہل وفاسق ہے۔

                                                                                                     (ملخصاً فتاوٰی رضویہ، ج۲۲ ، ص ۵۱۵)

جواب کتنا طویل ہو ؟

(44)اِستفتاء کا جواب کتنا طویل ہونا چاہئے ! اس بارے میں میرے آقااعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃُ ربِّ العزّت کے مختلف انداز ملتے ہیں کہ بعض سوالات کے جوابات آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک جملے میں  دئیے ، بعض کے چند لائنوں  میں  ، بعض کے تو ایسے تفصیلی جوابات دئیے کہ وہ مستقل رسالے کی صورت اختیار کرگئے جیسا کہ فتاوٰی رضویہ جلد17صفحہ 395پر موجود رسالہ ’’کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِمِ  فِیْ اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِم(یعنی کاغذی نوٹ کے احکام کے بارے میں  سمجھدار فقیہ کا حصہ)‘‘109صفحات پر مشتمل ہے جو 12سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے ۔[2]؎  اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت کا انداز دیکھ کر سمجھ میں  تو یہی آتا ہے کہ ’’جیسی صورت ویسی ترکیب ‘‘ ہونی چاہئے۔

(45) فتوے کے مضمون کوبِلا ضَرورت اتنی بھی طوالت مت دیجئے کہ لوگ پڑھنے ہی سے کترائیں  اورعلمِ دین اور حکمِ شریعت سیکھنے سے محروم رہ جائیں ۔

قصداً مسئلہ چُھپانے کا عذاب

(46)         مسئلے کا جواب دیتے وقت ذِہن یہ نہ بنائیے کہ مجھے اپنی علمیّت کا سکّہ جمانا ہے، جواب جاننے کی صورت میں  نیّت یہ ہو کہ کِتْمانِ علم (یعنی علم چُھپانے )کے گناہ سے خود کو بچانا ہے۔حدیثِ پاک میں  ہے : جس سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے نہیں  بتائی اس کے منہ میں  قِیامت کے دن آگ کی لگام لگادی جائیگی۔(سنن الترمذی ج۱ ص۲۹۵حدیث۲۶۵۸) مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :  یعنی اگر کسی عالم سے دینی ضروری مسئلہ پوچھا جائے اور وہ بلاوجہ نہ بتائے تو قیامت میں  وہ جانوروں  سے بدتر ہوگا کہ جانور کے منہ میں  چمڑے کی لگام ہوتی ہے اور اُس کے منہ میں  آگ کی لگام ہوگی ، خیال رہے کہ یہاں  علم سے مُراد حرام حلال، فرائض



1     اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! مکتبۃ المدینہ نے قراٰن پاک ، ترجمۂ کنزالایمان اور تفسیر خزائن العرفان پر مشتمل ایک سافٹ ویئرCdبھی جاری کردی ہے ، مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃً حاصل کیجئے ۔

 1    یہ رسالہ مع تخریج وتسہیل دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے ’’کرنسی نوٹ کے احکام ‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے ، مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃً طلب کیجئے ۔



Total Pages: 41

Go To