Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

(23) اسی طرح مجمل جواب نہ دیجئے مثلاً یہ کہ شرائط حج مکمل ہونے کی صورت میں  آپ پرحج فرض ہوچکا ہے ، بلکہ ساتھ ہی شرائطِ حج کی مختصر وضاحت بھی لکھ دیجئے ۔

کس وقت جواب نہ لکھے!

(24)شدید بھوک یاپیاس ، استنجاء کی حاجت ، غصے یاگھبراہٹ کے عالَم میں  جواب نہ لکھئے ۔

بزرگوں  کے الفاظ بابَرَکت ہوتے ہیں

(25)         بُزُرگوں  کے بولے یا لکھے ہوئے الفاظ بِعَیْنِہٖ نَقْل کرنے میں  بَرَکت ہے۔صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے بہارِ شریعت حصّہ 6میں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتکا لکھا ہوا حج کے احکام پر مشتمل رسالہ’’انوارُالبِشارہ‘‘ پورا شامل کرلیا ہے اور عقیدت تو دیکھئے کہ کہیں  بھی الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں  کی تا کہ ایک ولیُّ اللہ اور عاشقِ رسول کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کی برکتیں  بھی حاصِل ہوں  چُنانچِہ لکھتے ہیں :  اعلیٰ حضرتقبلہ قدس سرہٗ العزیز  کا رسالہ’’ انوارُالبِشارہ ‘‘پورا اس میں  شامل کر دیاہے یعنی مُتَفَرَّق طور پر مَضامین بلکہ عبارَتیں  داخلِ رسالہ ہیں  کہ اَوَّلاً : تبرُّک مقصود ہے ۔ دُوُم :  اُن الفاظ میں جو خوبیاں  ہیں  فقیر سے ناممکن تھیں  لہٰذا عبارت بھی نہ بدلی۔ [1]؎(بہارِ شریعت ج ۱ص ۱۲۳۲ مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی )

ہم قافِیہ الفاظ سے تحریر میں  حُسن پیدا ہو تا ہے

(26)شاہِ خیرالانام صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکے مبارَک نام کے ساتھ جہاں  اَلقابات لکھنے ہوں  کوشش کر کے ہم قافِیہ الفاظ تحریر کیجئے کہ اس سے مضمون میں  حُسن پیدا ہوتا ہے مَثَلاًلکھئے :  سلطانِ دو جہان ، سرورِ ذیشان، رحمتِ عالمیان، شفیعِ مجرمان ، محبوبِ رحمٰنصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کافرمانِ عظمت نشان ہے :

 (27)بُزُرگوں  کے ناموں  کے ساتھ دعائیہ کلمہ لکھنے میں یاد آنے پر ہم قافِیہ الفاظ استعمال فرمائیے کہ اس سے تحریر میں  کشش پیدا ہوتی ہے مَثَلاًحضرتِ سیِّدُناعلامہ شامی کے ساتھ’’قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی‘‘اورسَیِّدُنا شیخ عبد الحق مُحدِّث دِہلوی کے ساتھ’’علیہ رحمۃُاللہِ الْقَوِی۔ ‘‘

( 28)صَحابہ اوربزرگوں  علیہم الرضوان کے مبارَک ناموں  کے ساتھ بہ نیّتِ تعظیم ، ’’حضرت ‘‘اور ’’سیِّدُنا‘‘وغیرہ الفاظ کا التِزام فرمائیے۔

(29)نیکی کی دعوت کا ثواب لوٹنے کی نیّت سے فتاوٰی رضویہ شریف کے اُسلُوب کے مطابِق ترغیب و تَرہِیب کے مَدَنی پھول شامل کرنے کا سلسلہ رکھئے اور اس ضِمْن میں  حتَّی الامکان ہر فتوے کے اندر موقع کی مناسَبت سے کم از کم ایک آیت ، ایک (یا تین) روایت بلکہ ہو سکے تو حکایت بھی درج فرمایئے۔

(30) احادیثِ مبارَکہ پیش کرنے میں  کُتُبِ احادیث کا، فِقہی جُزئیات (جُز۔ء ی ۔یات)  ہوں  تو فتاوٰی وفِقْہ کی کتابوں  کا اور تصوُّف کے مَدَنی پھولوں میں  تصوُّف کی کتب کا حوالہ لکھئے ۔ نصیحت آموز حکایات کتبِ مَواعِظ میں  سے بھی لی جا سکتی ہیں ۔ کوئی حوالہ اصل کتاب سے دیکھے بغیرنہ لکھئے مثلاً بخاری شریف کی کوئی حدیث ، تصوف کی کسی کتاب میں  لکھی ہے تو تصوف کی کتاب کا حوالہ دینے کے بجائے اصل بخاری شریف ہی کا



    1عملیات کی کُتُب سے بھی اس کا اندازہ ہو تا ہے مَثَلاً کتابوں  میں  بعض عجیب و غریب لکیروں  والے تعویذبنے ہوتے ہیں  ، ہوایوں  ہو گا کہ بعض اہلُ اللہنے مریضوں  کیلئے کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں  کھنیچ دی ہوں  گی اوربِاِذنِ اللہ بیمار صحیح ہو گیا ہو گا جس کے سبب اب وُہی مُتَبَرَّک (مُ۔تَ۔ب ر۔رَک)لکیریں  ’’تعویذ ‘‘کا کام دے رہی ہیں ۔بعض بزرگوں  نے اردو فارسی یا کسی بھی زَبان میں  کچھ بول کر مریض پر دم کردیا ہوگا تو اب انہیں  بابَرَکت الفاظ کو بول کر دم کرنے سے شِفائیں  ملنے لگی ہیں ۔مَثَلاً درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر بزرگوں  کے ارشاد فرمودہ یہ الفاظ : ’’دادا صاحِب کی گھوڑی وُہی اندھیری رات فُلاں  کا دردفُلاں  جگہ کا جائے یہی لگی مِری آس‘‘تین بار بو ل کر دم کردیا جائے تو سگِ مدینہ عفی عنہ کابارہاکا تجرِبہ ہے کہ درد ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    



Total Pages: 41

Go To