Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

طرف سے اِلحاقات کر کے دین کو نقصانات پہنچائے جانے کے خطرات ہوں  ایسے نازک فتاوٰی قلم سے لکھ لینے چاہئیں  کہ اِس سے اگر چِہ اندیشے ختم نہیں  ہوں  گے مگر کم ضَرور ہو جائیں  گے۔

(7)واٹر پروف قلم مَثَلاًبال پوائنٹ سے لکھنے کی عادت بنائیے ورنہ تحریر پر پانی گرجانے کی صورت میں  آپ کو بَہُت بَہُت بَہُت صدمہ ہوگا۔حاصلِ مطالعہ یا کسی بھی اہم مضمون کو لکھتے وقت بھی یہ احتیاط کام دے گی۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ

پہلے سوال سمجھئے پھر جواب لکھئے

(8)سوال کو اوّل تا آخر سمجھ کر پڑھئے کہ سائل کیا پوچھنا چاہتا ہے ، سرسری طور پر یا اَدھورا سوال پڑھ کر جواب لکھنے کا آغاز کردینا ضیاعِ وقت کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ سوال میں  کچھ پوچھا گیا ہو، آپ کا جواب کچھ اورہو !

(9) اگر سوال میں  کوئی بات وضاحت طلب ہو یا کسی طرح کا اِبہام ہوتوحسبِ ضرورت سائل سے پوچھ لیجئے ۔

(10)بسا اوقات سوا ل بہت طویل ہوتا ہے اور لمبے چوڑے سوال میں  کہاں  فقہی حکم پوچھا گیا ہے یہ سمجھنا اصل کمال ہے ۔لھٰذا سوال پڑھ کرسب سے پہلے آپ یہ تَعَیُّن کرلیجئے کہ آپ نے کس حصے کا جواب لکھنا ہے، پھر اس حصے کا جواب لکھئے۔

(11) سوال آسان لگے یا مشکل! یکساں  توجہ سے جواب لکھئے ۔کسی سوال کوآسان سمجھ کرغوروخوض کئے بغیر جلدبازی میں  لکھنے سے غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔

(12)بعض سوالات بدیہی (یعنی بہت واضح اور آسان)ہوتے ہیں  ، ان کا جواب آپ کوپہلے سے آتا ہوگا لیکن بہت سارے سوالات ایسے بھی ہوں  گے جن کا جواب آپ کو تلاش کرنا پڑے گا ۔ ایسے میں  خالی الذہن ہو کر(یعنی ’’ہاں ‘‘ یا ’’نا‘‘کا تصوّر ذہن میں  جمائے بغیر ) جواب تلاش کیجئے۔ اگر آپ نے ابتدا ہی سے ایک حتمی موقف ذہن میں  بٹھا لیا پھر جواب تلاش کیا تو ہو سکتا ہے کہ جن عبارات سے قوی استدلال ہو سکتا تھا وہ آپ کے سامنے سے گزر جائیں مگر آپ توجّہ نہ کرپائیں  کیونکہ آپ تو پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ مجھے اس سوال کا جواب ’’نہ ‘‘میں  دینا ہے پھر آپ کی ساری توجہ نفی کی طرف رہے گی، اثبات کے دلائل آپ کی نظروں  سے اوجھل ہو جائیں  گے۔یہ بات یاد رکھئے کہ کسی بھی علمی تحقیق پر کام کی ابتدا اندھیرے سے ہوتی ہے اور اختتام اجالے اور روشنی میں  ہوتا ہے ، لہٰذا خالی الذہن ہو کر تحقیق شروع کی جائے اور دلائل جس موقف کی تائید کریں  اسے لکھ کر اساتذہ کی بارگاہ میں  پیش کر دیجئے ۔اس کافیصلہ وہ کریں  گے کہ آپ کا جواب درست ہے یا غلط ۔

(13)اگر سائل نے ایک سے زیادہ سوالات پوچھے ہوں  تو جس ترتیب سے سوالات ہوں ، اسی ترتیب سے جوابات لکھئے اور سائل کو تشویش میں  مبتلا ہونے سے بچائیے۔بہتر یہ ہے کہ سوال اور جواب دونوں  پر نمبر ڈال دیجئے تا کہ ہر سوال اور ہر جواب ممتاز ہو جائے۔

جواب کی ابتِدا کا طریقہ

(14)جواب کی ابتدا میں  ذیل کے مطابِق حمد وصلوٰۃ اورتعوذ و تسمیہ وغیرہ لکھئے :

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                    

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                                                                 

اَلْجَوابُ بِعَونِ الْمَلِکِ الْوَھّاب                    اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّواب                                                                                                                          

( 15)’’ربِّ العٰلمین‘‘ لکھنے کا قراٰنی انداز دیکھ لیجئے کہ اِس میں  ’’عا‘‘نہیں  ، عَین پر کھڑا زبر ہے۔ آپ بھی اِسی طرح لکھئے۔نیز قراٰنِ پاک میں ’’اِنْشَآءَ اللہ‘‘ یوں  نہیں  لکھا، بلکہ یہ انداز ہے :  ’’اِنْ شَآءَاللہ‘‘

 



Total Pages: 41

Go To