Book Name:Samandari Gumbad

          حضرتِ سیِّدُنا عَوّام بن حَوشَب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرََّب (جو کہ تَبعِ تابِعی بُزُرگ گزرے ہیں اور انہوں نے  ۱۴۸ ؁ھ میں وفات پائی ) فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں کسی مَحَلّے سے گزرا، اُس کے کَنارے پر قبرِستان تھا، بعد ِ عَصرایک قَبْر شَق ہوئی(یعنی پھٹی ) اور اُس میں سے ایک ایسا آدَمی نکلا جس کا سر گدھے جیسا اورباقی جسم انسان کا تھا ، وہ تین بارگدھے کی طرح رَینکا(یعنی چیخا)، پھرقَبْر میں چلا گیا اورقَبْر بند ہوگئی ۔ ایک بڑی بی بیٹھی (سُوت)کات رہی تھیں ، ایک خاتون نے مجھ سے کہا  : ، بڑی بی کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا :  اس کا کیا مُعامَلہ ہے ؟کہا یہ قَبْر والے کی ماں ہے ، وہ شرابی تھا ، جب شام کو گھر آتا، ماں نصیحت کرتی کہ اے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈر، آخِر کب تک اس ناپاک کو پیئے گا !  یہ جواب دیتا : تُو گدھے کی طرح ڈِھیچوں ڈھیچوں کرتی ہے ۔ اس شخص کا عَصر کے بعدانتِقال ہوا، جب سے فوت ہواہے ہر روز بعد ِعَصر اس کیقَبْر شَق ہوتی ہے اوریوں تین بارگدھے کی طرح چِلّا کر پھر قَبْرمیں سَماجاتاہے اورقَبْر بند ہوجاتی ہے  ۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب للمنذری  ج۲ ص۲۲۶ حدیث ۱۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

والِدَین کے نافرمان کی کوئی عبادت مقبول نہیں

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ تَوّابعَزَّوَجَلَّ کی جناب میں ہم توبہ کرتے اور اِس سے عافیت کاسُوال کرتے ہیں  ۔ آہ !ماں باپ کی دل آزاری کس قَدَررُسوائی اور درد ناک عذاب کا باعِث ہے  ۔ حدیثِ پاک میں ہے : عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ یعنی’’ قبر کاعذاب حق ہے  ۔ ‘‘(نَسائی ص۲۲۵ حدیث۱۳۰۵) کبھی کبھی دنیا میں بھی اس کا منظر دکھا دیا جاتاہے تاکہ لوگ عبرت حاصِل کریں  ۔ اپنے باپ کے نافرمان کے مُتَعَلِّق کئے گئے ایک سُوال کے جواب میں  میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : باپ کی نافرمانی اللہ  جبّاروقَہّار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللّٰہجبّار وقَہّار کی ناراضی ہے ، آدَمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنّت ہیں اور ناراض کرے تو وُہی اس کے دوزخ ہیں  ۔ جب تک باپ کو راضی نہ کریگا، اُس کا کوئی فرض، کوئی نَفل، کوئی نیک عمل اَصلاً مقبول نہیں ، عذابِ آخِرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا (یعنی شدیدآفت)نازِل ہوگی، مَرتے وقت مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّکَلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہج۲۴ص ۳۸۴  ۔ ۳۸۵)  ماں باپ مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کافر بھی ہوں تب بھی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اُن کے ساتھ حُسنِ سُلوک ضَروری ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 2 صَفْحَہ 452پر صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ’’عالمگیری‘‘ کے حوالے سے نَقْل فرماتے ہیں : ’’اگر کسی مسلمان کا باپ یا ماں کافِرہے اور کہے کہ تو مجھے بُت خانے پہنچا دے تو نہ لیجائے اور اگر وہاں سے آنا چاہتے ہیں تو لاسکتا ہے ۔ ‘‘ (فتاوٰی عالمگیری ج۲ص۳۵۰ دارالفکربیروت)

ماں باپ کو گالیاں دلوانے والے

          جولوگ دوسروں کوماں کی گالی نکالنے کے عادی ہوتے ہیں وہ بَہُت بُرے بندے ہیں ، دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ 195پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقل کرتے ہیں : رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ حقیقت نشان ہے :  یہ بات کبیرہ گناہوں میں ہے کہ آدَمی اپنے والِدَین کو گالی دے ۔  لوگوں نے عرض کی : یا رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا کوئی  اپنے والِدَین کو بھی گالی دیتا ہے ؟ فرمایا :  ’’ہاں ، اس کی صورت یہ ہے کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے ، وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے ، اور یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے ، وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ۔ ‘‘(مسلم شریف ص۶۰حدیث۱۴۶)یہ حدیثِ پاک نَقل کرنے کے بعد حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  : صَحابۂ کرام( عَلَیْہِمُ الرِّضْوان) جنھوں نے عَرَب کا زمانہ  ٔ جاہلیت دیکھا تھا، ان کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ اپنے ماں باپ کو کوئی کیوں کر گالی دے گا یعنی (کوئی ماں باپ کو گالی بھی دے سکتا ہے )یہ بات ان کی سمجھ سے باہَر تھی ۔ حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے بتایا کہ مُراد دوسرے سے گالی دلوانا ہے اور اب



Total Pages: 12

Go To