Book Name:Samandari Gumbad

تعلُّق دودھ کے رِشتے اور حُرمتِ نِکاح سے ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  1182 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 2 صَفْحَہ 36پرہے : بچّے کو (ہِجری سن کے حساب سے )دو برس تک دودھ پلایا جائے ، اِس سے زیادہ کی اجازت نہیں ، دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں ۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے لیے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو ۲ برس کے بعد اگرچِہ دودھ پلانا حرام ہے مگر(ہجری سن کے اعتبار سے ) ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حُرمت نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا، تو حُرمت نکاح نہیں اگرچِہ پلانا جائز نہیں  ۔

ظالِم والِدَین کی بھی فرمانبرداری  لازِمی ہے

          حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہبِن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ سلطانِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’جس نے اس حال میں صُبح کی کہ اپنے ماں باپ کا فرمانبردار ہے ، اُس کیلئے صُبح ہی کو جنّت کے دو دروازے کُھل جاتے ہیں اور ماں باپ میں سے ایک ہی ہو تو ایک دروازہ کُھلتا ہے ۔ اورجس نے اِس حال میں شام کی کہ ماں باپ کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتاہے اس کے لئے صُبح ہی کو جہنَّم کے دو دروازے کُھل جاتے ہیں اور (ماں باپ میں سے ) ایک ہوتو ایک دروازہ کھلتاہے ۔ ایک شخص نے عرض کی :  اگرچِہ ماں باپ اُس پر ظلم کریں ۔ فرمایا :  اگر چِہ ظلم کریں ، اگرچِہ ظلم کریں ، اگرچِہ ظلم کریں  ۔ ‘‘(شُعَبُ الْاِیمان  ج۶ ص۶ ۰ ۲ حدیث ۷۹۱۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقِعی وہ شخص بڑا خوش نصیب ہے جو ماں باپ کو خوش رکھتا ہے ، جو بدنصیب ماں باپ کو ناراض کرتاہے اُس کیلئے بربادی ہے ۔  اللہ تَبَارکَ وَ تَعَالٰی پارہ  15سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر23تا25میں ارشادفرماتاہے  :

وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان : اورماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ’’ہُوں ‘‘(اُف)نہ کہنا اورانہیں نہ جِھڑکنا اوران سے تعظیم کی بات کہنا ۔  اور ان کیلئے عاجِزی کا بازو بچھا اورعرض کر کہ اے میرے رب!تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے چُھٹپن میں مجھے پالا ۔ تمہارا رب  خوب جانتاہے جو تمہارے دلوں میں ہے  ۔

     بچپن میں ماں بھی تو اولاد کی’’ گندَگی‘‘ برداشت کرتی ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مُنْدَرَجَۂبالا آیات ِکریمہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے والِدَین(وا ۔ لِ ۔ دَین) کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کا حکم دیاہے اور خُصوصاً انکے بڑھاپے میں زیادہ خدمت کی تاکید فرمائی ہے ۔ یقینا ماں باپ کا بُڑھاپاانسان کو ا متِحان میں ڈال دیتاہے ، سخت بڑھاپے میں بَسا اوقات بِستر ہی پر بَول وبَراز(یعنی گندَگی) کی ترکیب ہوتی ہے جس  کی وجہ سے عُمُوماًاولاد بیزار ہوجاتی ہے ، مگر یاد رکھیے !ایسے حالات میں بھی ماں باپ کی خدمت لازِمی ہے ، بچپن میں ماں بھی توآخِر بچّے کی گندَگی برداشت کرتی ہی ہے ۔  بُڑھاپے اور بیماریوں کے باعِث ماں باپ کے اندرخواہ کتناہی چِڑچِڑاپن آجائے ، سَٹھیا جائیں ، خوب بڑ بڑائیں ، بِلا وجہ لڑیں ، چاہے کتنا ہی جھگڑیں ، بے شک پریشان کرکے رکھدیں مگرصبر، صبر اور صبرہی کرنا اور ان کی تعظیم بجا لانا ہے ۔ اُن سے بدتمیزی کرنا، ان کو جھاڑنا وغیرہ دَرکَنار اُن کے آگے ’’اُف‘‘تک نہیں کرنا ہے ، ورنہ بازی ہاتھ سے نکل سکتی اور دونوں جہان کی تباہی مقدَّربن سکتی ہے کہ والِدَین کا دل دُکھانے والا اِس دنیا میں بھی ذلیل وخوار ہوتاہے اورآخِرت کے عذاب کابھی حقدار ہوتا ہے ۔

دل دُکھانا چھوڑدیں ماں باپ کا

                        ورنہ اس میں ہے خسارہ([1])آپ کا (وسائلِ بخشش ص۳۷۷)

 گدھانُمامُردہ

 



[1]     نقصان



Total Pages: 12

Go To