Book Name:Samandari Gumbad

      سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ!ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن ماں باپ کے کس قَدَر قَدر دان ہوا کرتے تھے اور ان کی کیسی عظیم مَدَنی سوچ تھی ۔  ہم ’’دو غلام‘‘ کہاں سے لائیں ! افسوس!اس طرح کے مُعامَلات میں ’’ دو مرغیاں ‘‘ بلکہ دوانڈے بھی راہ ِخدا عَزَّوَجَلَّ میں دینے کا ہم میں تو جذبہ نہیں !اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں  ماں باپ کی اَہَمِّیَّتسمجھنے کی توفیق بخشے ۔  اٰمین ۔ آیئے !بِغیر کسی خَرچ کے بِالکل مفت ثواب کا خزانہ حاصِل کیجئے ۔ خوب ہمدردی اور پیار ومَحَبَّت سے ماں باپ کادیدار کیجئے ، ماں باپ کی طرف بَنظرِرَحمت دیکھنے کے بھی کیا کہنے ! سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رَحمت نشان ہے : جب اولاد اپنے ماں باپ کی طرف رحمت کی نظر کرے تواللّٰہ تعالٰی اُس کیلئے ہر نظر کے بدلے حجِّ مبرور(یعنی مقبول حج )کا ثواب لکھتاہے ۔ صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان نے عرض کی :  اگرچِہ دن میں سومرتبہ نظر کرے !فرمایا : نَعَمْ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَاَطْیَبُ  یعنی ’’ہاں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ  سب سے بڑا ہے اوراَطْیَب (یعنی سب سے زیادہ پاک) ہے ۔  ‘‘(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص ۱۸۶ حدیث ۷۸۵۶ ) یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّہرشے پر قادِر ہے ، وہ جس قَدَر چاہے دے سکتا ہے ، ہرگز عاجِز ومجبور نہیں لہٰذا اگر کوئی اپنے ماں باپ کی طرف روزانہ 100بار بھی رَحمت کی نظر کرے تو وہ اُسے 100مقبول حج کا ثواب عنایت فرمائے گا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 جنَّت کا ساتھی

          حضرتِ سیّدُِناموسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامایک بارپرَوردگار عَزَّوَجَلَّکے دربارمیں عرض گزار ہوئے ۔ یار بّ ِغَفّارعَزَّوَجَلَّ!مجھے میرا جنّت کا ساتھی دکھا دے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا :  فُلاں شہر میں جاؤ، وَہاں فُلاں قَصّاب تمہارا جنّت کا ساتھی ہے ۔ چنُانچِہ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام وہاں اُس قصّاب کے پاس تشریف لے گئے ، (ناواقفِیَّت کے باوُجُود مسافِر و مہمان ہونے کے ناطے ) اُس نے آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی دعوت کی ۔ جب کھانا کھانے بیٹھے تو اُس نے ایک بڑا سا  ٹوکرا اپنے پاس رکھ لیا، اندر دونِوالے ڈالتا اورایک نِوالہ خود کھاتا ۔ اِتنے میں کسی نے دروازے پر دستک(دَسْ ۔ تک) دی، قصّاب اُٹھ کر باہَر گیا ۔  سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اُس زَنبیل(زَم ۔ بِیل یعنی ٹوکرے ) میں دیکھا تو اس کے اندر ضعیفُ العُمرمرد وعورت تھے  ۔ سیِّدُنا موسیٰکلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر نظر پڑتے ہی اُن کے ہونٹوں پر مُسکُراہٹ پھیل گئی، اُنہوں نے آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی رِسالت کی شہادت(یعنی گواہی ) دی اوراُسی وقت رِحلَت (رِحْ ۔ لَت  ۔ یعنی انتِقال )  کرگئے ۔ قصّاب واپَس آیا تو زنبیل میں اپنے والدَین کوفوت شُدہ دیکھ کر مُعامَلہ سمجھ گیا اور آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کی دست بوسی کر کے عرض کی :  آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرتِ موسیٰ کلیمُ اللّٰہ(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)  معلوم ہوتے ہیں ۔ فرمایا :  تمہیں کیسے اندازہ ہوا؟عرض کی : میرے ماں باپ روزانہ گِڑ گِڑا کر دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیںحضرت موسیٰکلیمُ اللّٰہ( عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)  کے جلووں میں موت نصیب کرنا ۔  ان دونوں کے اس طرح اچانک انتِقال فرمانے سے میں نے اندازہ لگایا کہ آپ ہی  حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ( عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) ہونگے ۔  قصّاب نے مزید عرض کی : میری ماں جب کھانا کھالیتی ، تو خوش ہوکر میرے لئے یوں دعا کیا کرتی تھی :  یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے کو جنّت میں حضرت ِسیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کا ساتھی بنانا ۔ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا :  مبارَک ہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے تم کو میرا جنَّت کا ساتھی بنایا ہے ۔ (نُزہۃُ الْمجالس ج۱ص۲۶۶دارالکتب العلمیۃ بیروت) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔

ماں باپ کے نافرمان کوجیتے جی سزا ملتی ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟ماں باپ کی دعا اولاد کے حق میں کس قَدَر مقبول ہوتی ہے ! اگر والِدَین ناراض ہوکر بد دُعا کردیں تو وہ بھی مقبول ہے ۔ لہٰذا ماں باپ کو ہمیشہ خوش رکھنا چاہیے ۔ سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ماں باپ تیری دوزخ اورجنَّت ہیں ۔ ( اِبن ماجہج۴ ص۱۸۶ حدیث ۳۶۶۲) ایک اور مقام پر ارشادفرمایا : سب گناہوں کی سزااللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو قِیامت کیلئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی



Total Pages: 12

Go To