Book Name:Samandari Gumbad

بھوک اورپیاس مٹ جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّگرمی ، سردی ، نیند ، سُستی ، غُنُود گی، نامانُوسِیَّت اوروَحشت (یعنی گھبراہٹ وخوف)یہ تمام چیزیں مجھ سے دُور رہتی ہیں ۔ اس کے بعد اُس نوجوان کی خواہِش پر سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا حکم پاکر حضر تِ سیِّدُنا آصِف بن بَرخِیارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سَمُندری گنبد کواٹھاکر سمندر کی تہ میں پہنچا دیا ۔  اس کے بعد حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا :  اے لوگو !اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ سب پر رحم فرمائے ، دیکھا آپ نے کہ والِدَین کی دعا کس قدر مقبول ہوتی ہے ! ماں با پ کی نافرمانی سے بچو ۔ (رَوْضُ الرِّیاحِین ص۲۳۳ مُلَخَّصاً  دارالکتب العلمیۃ بیروت) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا والِدَین کی خدمت بَہُت بڑی سعادت ہے ۔ اگر ان کا دل خوش ہوجائے اور وہ دُعا کردیں توبیڑا پار ہوجاتاہے ۔ اِس ضِمن میں ایک اورایمان افروزحِکایت سنیئے اور جھومئے :

زخمی اُنگلی

          حضرتِ سیّدُنا بایزیدبسطامیقُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں کہ سردیوں کی ایک سخت رات میری ماں نے مجھ سے پانی مانگا، میں آبخورہ (یعنی گلاس) بھر کر لے آیا مگر ماں کو نیند آگئی تھی، میں نے جگانا مناسِب نہ سمجھا، پانی کا آبخورہ لئے اِس انتِظار میں ماں کے قریب کھڑا رہا کہ بیدار ہوں تو پانی پیش کروں ۔ کھڑے کھڑے کافی دیر ہوچکی تھی اور آبخورے سے کچھ پانی بہ کر میری اُنگلی پر جم کربَرف بن گیا تھا ۔  بَہَرحال جب والِدۂ محترمہ بیدار ہوئیں تو میں نے آبخورہ پیش کیا ، برف کی وجہ سے چِپکی ہوئی انگلی جُوں ہی آبخورے (یعنی پانی کے گلاس) سے جدا ہوئی اس کی کھال اُدھڑگئی اور’’خون‘‘ بہنے لگا، ماں نے دیکھ کر فرمایا : ’’ یہ کیا‘‘؟میں نے ساراماجَراعرض کیا تو اُنہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں اس سے راضی ہوں تُو بھی اِس سے راضی رہ ۔  (نزہۃ المجالس ج۱ ص۲۶۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

روزانہجنَّت کی چوکھٹ چومئے

          جن خوش نصیبوں کے ماں باپ زندہ ہیں اُن کو چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک بار   ان کے ہاتھ پاؤں ضَرورچوماکریں والِدَین کی تعظیم کا بڑا دَرَجہ ہے  ۔ فرمانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّہَاتِ یعنی جنّت ماؤوں کے قدموں کے نیچے ہے ۔  (مسند الشّہاب ج ۱ص ۱۰۲ حدیث۱۱۹) یعنی ان سے بھلائی کرناجنّت میں داخلے کا سبب ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ 88پر ہے : والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے ، حدیث میں ہے : ’’ جس نے اپنی والِدہ کا پاؤں چوما، تو ایسا ہے جیسے جنَّت کی چوکھٹ(یعنی دروازے ) کو بوسہ دیا ۔ ‘‘(دُرِّمُختارج۹ص۶۰۶دارالمعرفۃ بیروت)  

ماں کے سامنے آواز بُلند ہوجانے پر دو غلام آزاد کئے

          ماں یا باپ کودُور سے آتا دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہو جایئے ، ان سے آنکھیں ملاکر بات مت کیجئے ، بُلائیں توفوراً  لَبَّیک( یعنی حاضِرہُوں ) کہئے ، تمیز کے ساتھ ’’آپ جناب‘‘سے بات کیجئے ، ان کی آواز پر ہرگز اپنی آواز بُلند نہ ہونے دیجئے ۔ حضرتِ سیِّدُنا  عبد اللّٰہبن   عَون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کی ماں نے بُلایاتو جواب دیتے وَقت ان کی آواز قَدرے (یعنی تھوڑی سی) بُلند ہوگئی ، اس وجہ سے انہوں نے دو غلام آزاد کیے ۔ (حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۳ص۴۵ رقم۳۱۰۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

بار بار حجِّ مَبرور کا ثواب کمائیے

 



Total Pages: 12

Go To