$header_html

Book Name:Samandari Gumbad

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند’’ سنّتیں اور آداب‘‘ بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔    (اِبنِ عَساکِر ج۹ ص۳۴۳دارالفکربیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’راہِ مدینہ کا مسافر‘‘ کے پندرہ حُرُوف کی نسبت سے چلنے کی 15سنَّتیں اورآداب

{1} پارہ 15سورۂ بنی اسرائیلآیت 37میں ارشاد ِ ربُّ العِباد ہے :  وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجَمۂ کنز الایمان : اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بے شک ہر گز زمین نہ  چِیر ڈالے گا اورہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔ {2} دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ 78 پر فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے :  ایک شخص دو چادریں اَوڑھے ہوئے اِترا کر چل رہا تھا اور گھمنڈ میں تھا، وہ زمین میں دھنسادیا گیا، وہ قِیامت تک دھنستا ہی جائے گا ۔  (مُسلِم ص۱۱۵۶حدیث ۲۰۸۸){3}سرورِکائنات ، شَہَنشاہِ موجود۱تصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بسا اوقات چلتے ہوئے اپنے کسی صَحابی کا ہاتھ اپنے دستِ مبارَک سے پکڑ لیتے ۔  (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۷ص۲۷۷){4} رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چلتے توکسی قَدَر آگے جھک کر چلتے گویا کہ آپ بُلندی سے اتر رہے ہیں ۔ (الشمائل المحمدیۃ  للترمذی ص۸۷رقم۱۱۸){5}گلے میں سونے یا کسی بھی دھات (یعنی مَیٹل کی )چَین ڈالے ، لوگوں کو دکھانے کے لئے گِرِیبان کھول کر اکڑتے ہوئے ہرگز نہ چلیں کہ یہ احمقوں ، مغروروں اور فاسِقوں کی چال ہے ۔  گلے میں سونے کی چین پہننا مرد کیلئے حرام اور دیگر دھاتوں (یعنی میٹلز)کی بھی ناجائز ہے {6}اگر کوئی رُکاوٹ نہ ہو تو راستے کے کَنارے کَنارے درمیانی رفتار سے چلئے ، نہ اتنا تیز کہ لوگوں کی نگاہیں آپ کی طرف اٹھیں کہ دوڑے دوڑے کہاں جا رہا ہے !اور نہ اِتنا آہِستہ کہ دیکھنے والے کو آپ بیمارلگیں ۔ اَمْرَد کا ہاتھ نہ پکڑے ، شَہوت کے ساتھ کسی بھی اسلامی بھائی کاہاتھ پکڑنا یا مُصافحہ کرنا (یعنی ہاتھ ملانا )یا گلے ملنا حرام  اور جہنَّم میں لیجانے والا کام ہے {7}راہ چلنے میں پریشان نظری(یعنی بِلا ضَرورت ادھر اُدھر دیکھنا)سنّت نہیں ، نیچی نظریں کئے پُروَقار طریقے پر چلئے ۔ حضرتِ سیِّدُناحَسّان بِن اَبی سِنان علیہ رَحمَۃُ الحنّان نَماز عید کے لیے گئے ، جب واپَس گھر تشریف لائے تو اہلیہ(یعنی بیوی) کہنے لگیں  : آج کتنی عورَتیں دیکھیں ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخاموش رہے ، جب اُس نے زیادہ اِصرار کیا تو فرمایا : ’’ گھر سے نکلنے سے لے کر، تمہارے پاس واپَس آنے تک میں اپنے ( پاؤں کے ) انگوٹھوں کی طرف دیکھتا رہا  ۔ ‘‘(کتابُ الْوَرَع  مع موسُوعَہ امام ابن ابی الدُّنیا ج ۱ص۲۰۵) سُبْحٰنَ اللہِ! اللہ والے راہ چلتے ہوئے بِلا ضَرورت بِالْخُصُوص بھیڑکے موقَع پر اِدھر اُدھر دیکھتے ہی نہیں کہ مَبادا(یعنی ایسا نہ ہو) شَرعاًجس کی اجازت نہیں اُس پر نظر پڑجائے !یہ اُن بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا تقویٰ تھا، مسئلہ یہ ہے کہ کسی عورت پر بے اختیار نظر پڑبھی جائے اور فوراً لوٹالے توگناہ گار نہیں {8}کسی کے گھر کی بالکونی یاکِھڑکی کی طرف بِلاضَرورت نظر اٹھا کر دیکھنا مناسِب نہیں {9}چلنے یا سیڑھی چڑھنے اُترنے میں یہ احتیاط کیجئے کہ جوتوں کی آواز پیدا نہ ہو ہمارے پیارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جوتوں کی دَھمک ناپسند تھی{10}راستے میں دو عورَتیں کھڑی ہوں یا جارہی ہوں تو ان کے بیچ میں سے نہ گزریں کہ حدیثِ پاک میں اس کی مُمانَعَت آئی ہے {11} راہ چلتے ہوئے ، کھڑے بلکہ بیٹھے ہونے کی صورت میں بھی لوگوں کے سامنے تھوکنا، ناک سنکنا، ناک میں انگلی ڈالنا، کان کُھجاتے رہنا، بدن کا میل اُنگلیوں سے چُھڑانا، پردے کی جگہ کُھجانا وغیرہ تہذیب کے خلاف ہے {12}بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ راہ چلتے ہوئے جو چیز بھی آڑے



Total Pages: 12

Go To
$footer_html