Book Name:Khazanay Kay Ambaar

آخِرت سے غفلت میں ڈالتی اوربے شمار گناہوں کا سبب بنتی ہے جن میں سے چند یہ ہیں :  ترکِ زکوٰۃ وعُشْر،  سُود ورِشوت کا لین دَین،  بُخل کی نُحُوست،  قطْعِ رِحمی  (یعنی رشتے داری توڑنا)  ،  جھوٹ اور ناحق دوسروں کا مال دبا لیناوغیرہ۔

مال کی دِینی ودُنیَوِی آفات

            دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ853 صفْحات پر مشتمل کتاب  ’’جہنَّم میں لے جانے والے اعمال‘‘  جلد1 صَفْحَہ565 تا 567 پر شیخُ الاسلام،   شہابُ الدِّین امام احمد بنحَجَر مکّی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  نے مال ودولت کی آفات تفصیلاً بیان فرمائی ہیں ،  اُن میں سے چندکا ذِکر کرتا ہوں :  

دِینی آفات

            مال ودولت کی کثرت انسان کو گناہوں پر اُبھارتی اور پہلے مُباح  (یعنی جائز)   لذّات کی طرف لے جاتی ہے حتّٰی کہ وہ اُن کا اِس قدَر عادی ہو جاتا ہے کہ اُس کے لئے  اُنہیں چھوڑنا انتہائی مشکِل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اگر وہ حلال کمائی کے ذریعے اُنہیں حاصل نہ کرسکے تو بسا اوقات حرام کام کرنے لگتا ہے،  کیونکہ جس کے پاس مال کثرت سے ہو،  اُسے لوگوں سے میل جول اور تعلُّقات بڑھانے کی بھی زیادہ ضَرورت ہوتی ہے اور جو اِس چیز میں مبتَلا ہو جائے وہ عُمُوماً لوگوں سے مُنَافَقَت سے پیش آئے گا اور اُنہیں راضی یا ناراض کرنے کے مُعامَلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی کا مُرتکِب ہو گا تو اِس کے نتیجے میں وہ عداوت،  کینہ،  حسد،   ریاکاری، تکبُّر،  جھوٹ،  غیبت،  چغلی وغیرہ کا باعث بننے والے دیگر کئی بڑے بڑے گناہوں میں مبتَلاہو جائے گا۔  

دُنیَوِی آفات

            مال داروں کو لاحِق ہونے والی دُنیوی آفات میں خوف و غم،  پریشانی،  مَصائب کا سامنا،   اَمارت  (یعنی مالداری)   برقرار رکھنے کے لئے ہر دم مال کمانا اور اُس کی حفاظت کرنا وغیرہ دیگر کئی آفات شامل ہیں ۔  

مال کا غلام ہلاک ہو

            امام ابن حجرعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکبرفرماتے ہیں : مال نہ تو مطلقاً خیر  (یعنی بھلائی کی چیز)   ہے نہ ہی مَحض شَر    (یعنی بُرائی کی شے)    مال بعض اوقات قابلِ تعریف ہوتا ہے اور کبھی قابلِ مذمّت۔ لہٰذا جس نے کِفایت   (ضَرورت)    سے زیادہ حصہ حاصل کیا گویا خود کو ہلاکت پر پیش کیا، کیونکہ طبیعتیں ہدایت سے روکنے والی ہیں اورشَہوات وخواہِشات کی طرف مائل رہتی ہیں اور مال ان میں آلے کا کام دیتا ہے۔  تو ایسی صورت میں ضَرورت سے زائد مال میں سخت خطرات ہیں ۔ مزید آگے چل کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حدیثِ پاک نقل کی ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،  حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا:    ’’دِرہَم ودینارکاغلام ہلاک ہو۔ ‘‘     (سُنَنِ اِبن ماجہ ج۴  ص۴۴۱حدیث۴۱۳۶دارالمعرفۃ بیروت 

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  کاش!  ہم پر اللہ  عَزَّوَجَلَّکی خُصوصی رَحمت کا نُزُول ہو کہ ہم دولتِ دُنیا سے پیار کرنے اور اِسی سوچ بِچار میں گُم رہنے کے بجائے اُخرَوی سعادتوں کی طرف دھیان دینے والے بن جائیں اور یہ اِستِغاثہ  (یعنی فریاد)   ہمارے حق میں دَرَجۂ قَبولیّت کا شرَف پا لے:

قلیل روزی پہ دو قناعَت                     فُضُول گوئی سے دیدو نفرت

                        دُرود پڑھنے کی بس ہو عادت                           نبیِّ رَحمت،  شفیعِ اُمّت    (وسائلِ بخشش ص۱۰۶) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اگر آپ سُد ھرنا چاہتے ہیں تو …

                                 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ سے مَدَنی اِلتِجا ہے کہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول اپنا لیجئے کہ یہ ماحول خزانوں کا اَنبار اِکٹھّے کرنے کے بجائے اَبدی سعادَتوں کا حقدار بننے کا ذِہن دیتا ہے، لہٰذا اگر آپ سُدھرنا چاہتے ہیں تو دل سے دُنیا کی بے جا مَحَبَّت نکالنے،  رِضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّحاصل کرنے کی تڑپ قلب میں ڈالنے،  سینہ سنّتِ مصطَفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مدینہ بنانے، مال ودولت کو صحیح مَصرَف  (یعنی خرچ کی دُرُست جگہ)  میں اِستِعمال کرنے کاعلْم پانے اور دل کو فکرِ آخِرت کی آماجگاہ بنانے کیلئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے،  مَدَنی اِنعامات کے مطابِق زندگی گزارئیے اورسُنَّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں  کے مسافِر بنتے رہئے،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ دونوں جہاں میں بیڑا پار ہوگا۔ آپ کی ترغیب و تَحریص کیلئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے چُنانچِہ

ویڈیوسینڑختم کردیا

 



Total Pages: 13

Go To