Book Name:Khazanay Kay Ambaar

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ابھی آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ خالقِ کائنات،  اللہُ رَبُّ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰت عَزَّوَجَلَّکی راہ میں صدَقہ و خیرات کرنا  بے حد فائدے کا سودا ہے اور اس سے مال محفوظ ہو جاتا ہے۔  یقینا صَدَقہ و خیرات آفات سے نَجات کا ذَرِیعہ ہے،  لہٰذا ہر ایک کو چاہئے اپنے مال سے حسبِ توفیق و وُسعَت صدَقہ وخیرات کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہئے،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ بَہُت ساری آفتوں اور مصیبتوں سے حِفاظَت ہوگی۔  چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رِسالہ ’’ راہِ خدا میں خَرچ کرنے کے فضائِل‘‘  میں اعلیٰ حضرت،  امام اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک رِوایت نقْل کرتے  ہیں :   ’’ اَلصَّدَقَۃُ تَمْنَعُ سَبْعِیْنَ نَوْعًا مِّنْ اَنْوَاعِ الْبَلاءِ اَھْوَنُہَا الْجُذَامُ وَالْبَرَصُیعنی صدَقہ70    قسم کی بلاؤں کو روکتا ہے جن میں آسان تر بلا بدن بگڑنا  (کوڑھ)   اور سفید داغ ہیں   (تاریخ بغداد ج۸ ص۲۰۴دار الکتب العلمیۃ بیروت 

            لُقمے کے بد لے لُقمہ

      سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! صدَقہ واقِعی بلاؤں کو دفْع کرتا ہے ۔ اِس ضِمْن میں ایک ایمان افروزحِکایت سماعت فرمائیے چُنانچِہحضرتِ سیِّدُنا امام عبد اللہ بن اَسعَد یافِعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی   ’’ رَوْضُ الرِّیَاحِیْن‘‘ میں نقْل فرماتے ہیں :  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کیلئے ایک عورت نے کسی محتاج  (یعنی مسکین)   کوکھانا دیااور پھر اپنے شوہر کو کھانا پہنچانے کھیت کی طرف چل پڑی،  اُس کے ساتھ اُس کا بچّہ بھی تھا،  راستے میں ایک دَرِندے  (یعنی پھاڑ کھانے والے جانور)   نے بچّے پر حملہ کر دیا،   وہ دَرِندہ بچّے کو نگلنا ہی چاہتا تھا کہ ناگہاں   (یعنی اچانک)   غیب سے ایک ہاتھ ظاہِرہوا جس نے اُس دَرِندے کو ایک زوردارضَرب لگائی اوربچّے کو چُھڑا لیا،  پھر غیب سے آواز آئی:  ’’ اے نیک بخت!  اپنے بچّے کو سلامَتی کے ساتھ لے جا!  ہم نے لُقمے کے بدلے تجھے لُقمہ عطا کر دیا۔  ‘‘    (یعنی تُو نے غریب کو کھانے کا لُقمہ کِھلایا تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے تیرے بچّے کو دَرِندے کا لُقمہ بننے سے بچا لیا) ۔     (رَوْضُ الرَّیاحِین ص ۲۷۴  اللہ عَزّ   َوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْقے  ہماری بے حساب مَغْفِرَت ہو۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

رہِ حق میں سبھی دولت لُٹا دوں

                   خدا !  ایسا مجھے جذبہ عطا ہو         (وسائل بخشش ص۹۱) 

شیطان کا غلام کون؟

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جسے مالِ دُنیا ملنے کے ساتھ ساتھ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں خرْچ کرنے کا جذبہ بھی مل گیا وہ توسعادت مند ٹھہرا لیکن جو غفلَت میں ڈالنے والی دُنیوی آسایشوں میں مُنہمِک رہا اورنفسانی خواہِشات کی پَیروی کی،  اُس نے گویا شیطان کی غلامی اِختِیار کی جیسا کہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی اِحیا ءُالْعُلُوم میں نَقل کرتے ہیں :  جب سب سے پہلے دِرہَم و دِینارتیار ہوئے تو شیطان نے اُن کو اُٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھا پھر اُن کو چُوما اور بولا :  جس نے تم سیمَحَبَّت کی حقیقت میں وہ میرا غلام ہے۔    (اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۲۸۸) 

......وہ ذلیل خوار ہو

            میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِیندُنیوِی مال ودولت  اور اِس کی فکْر سے آزاد اور تَوَکُّلوقناعت کی دولت سے مالا مال تھے،  دُنیَوی مستقبِل سے بڑھ کراُخروی مستقبِل کی فکْر میں مَگن رہنے والے سعادت مند تھے،  وہ اِس حقیقت سے اچّھی طرح واقِف تھے کہ دولت کی مَحَبَّت باعث رُسوائی وذِلّت ہے،  جیسا کہ مشہور ومقبول وَلیُّ اللّٰہحضرتِ سیِّدُنا شیخ شِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِیکا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے:  جس نے دولتِ دُنیا کے ساتھ پیار کیا وہ ذلیل وخوارہوا۔   (رَوْضُ الرَّیاحِینص۱۳۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت             

مِرا دل پاک ہو سرکار دُنیا کی مَحَبَّت سے

                                    مجھے ہو جائے نفرت کاش!  آقا مال ودولت سے                   (وسائل بخشش ص۱۳۳) 

مَحَبّتِ مال ودولت کی تباہ کاریاں

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  واقِعی مال ودولت کی مَحَبَّت انسان کو خواری وذلّت کے عمیق  (یعنی گہرے)   گڑھے میں دھکیل دیتی ہے، اگرچِہ بعض اَوقات انسان دُنیا میں تھوڑی بہت عزّت وشہرت حاصل کر بھی لیتا ہے مگر اکثر اُخروی تباہی وبربادی اُس کا مقدَّر بن جاتی ہے۔  دولت کے نشے میں مست رہنے والوں کے لئے حضرتِ سیِّدُناشیخ شِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِیکے بیان کردہ اِرشاد میں عبرت ہی عبرت ہے۔  مال ودولت کی مَحَبَّت میں اندھا ہونے والا اَنجامِ آخِرت سے بالکل غافِل ہوکر اَحکامِ شریعت کو پسِ پُشت ڈال دیتا ہے پھر اُسے حکْمِ خدا عَزَّوَجَلَّکی پرواہ رہتی ہے، نہ ہی ارشادِ مصطَفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا پاس۔  یقینا فکْرِ مال ودولت فکْرِ



Total Pages: 13

Go To