Book Name:Khazanay Kay Ambaar

نہیں روکاجائے گا کیونکہ حساب کے بعد نَجات ہوگی یا سختی۔  ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبیِّ اکرم،  نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ،  نبیِّ مُحتَشَم، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’ فُقَراء مُہاجِرین ، مالدار مُہاجِرین سے پانچ سو سال پہلے جنَّت میں جائیں گے۔ ‘‘  (تِرمِذیحدیث ۲۳۵۸)       (ماخوذاً اِحیاء العُلوم ج۳ ص۳۳۲) 

مجھ کو دنیا کی دولت نہ زَر چاہئے

شاہِ کوثر کی میٹھی نظر چاہئے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مال کا اِستِعمال اوراُخرَوی وبال

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُنیَوِی نعمتوں اور راحتوں سے مالا مال لوگوں کومال کے اِستِعمال کے وقْت خبردار رہنا چاہئے کہ اِس کے غَلَط اِستِعمال کا اَنجام اُخرَوِی وبال ہے،  یونہی مال ودولت کی بے جا  مَحَبَّت گناہوں پر اُ کساتی،  دربدر پِھراتی،  لُوٹ مار کرواتی حتّٰی کہ لاشیں گِرواتی ہے اور جب یہ دولت کسی مُحبِّ مال کے ہاتھ سے نکلنے پر آتی ہے تو بے حد ستاتی اور خُوب تڑپاتی اور رُلاتی ہے، لہٰذا ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین مال ودولت کے مُعامَلے میں نِہایَت ہی مُحتاط تھے۔  چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو الدَّرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا سَلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ایک مکتوب روانہ فرمایا جس میں تھا:  اے میرے بھائی!  دُنیا سے اِتنا کچھ جمْع نہ کرو کہ حقِّ شکْر ادا نہ کر سکو،  میں نے اَنبیاء کے تاجْدار،   شَہَنْشاہِ اَبرار، دو۲ عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا ہے کہ بروزِ قِیامت ایک ایسے مال دار شخص کو لایا جائے گا  جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی فرماں برداری میں زندَگی بَسَر کی ہو گی،  پُلْ صراط پار کرتے ہوئے اُس کا مال اس کے سامنے ہوگا،  جب وہ لڑکھڑانے لگے گا تو اُس کا مال کہے گا:   ’’چلتے جاؤ!    کیونکہ تم نے مجھ سیمُتَعَلِّق اللہ تَعَالٰی  کا حق ادا کردیا ہے۔  ‘‘  پھر ایک اور مال دار کو لایا جائے گا، جس نے دُنیا میں اپنے مال میں سے اللہ تَعَالٰی کا حق ادا نہیں کیا ہو گا،  اُس کا مال اُس کے دونوں کندھوں کے درمیان ہو گا،  وہ شخص جب پُلْ صِراط پر لڑکھڑائے گا تو اُس کا مال اُس سے کہے گا :   تُو برباد ہو!  تُو نے مجھ سے اللہ تَعَالٰی کا حق کیوں ادا نہیں کیا؟  پس وہ اسی طرح ہلاکت وبربادی کو پکارتا رہے گا۔   (تاریخ دِمَشق لابن عَساکِر ج۴۷ص۱۵۳دارالفکربیروت

تیری طاقت، تیرا فن،  عُہدہ تِرا                        کچھ نہ کام آئے گا سَرمایہ تِرا

دبدبہ دُنیا ہی میں رہ جائے گا                زور تیرا خاک میں مل جائے گا

              جیتنے دنیا سکندر تھا چلا               جب گیا دنیا سے خالی ہاتھ تھا   (وسائل بخشش ص ۳۷۵،  ۳۷۶) 

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ رِوایت میں عِبرت ہے اُن صاحِبانِ ثَروَت وحیثیت کے لئے جو فرض ہونے کے باوُجُود زکوٰۃ دینے سے کتراتے،  اپنی دولت  کوگناہوں کے کاموں میں گَنواتے،  بھلائی کے کاموں میں خَرچ کرنے سے جی چُراتے اور محتاجوں کی مددسے جان چُھڑاتے ہیں ۔  غور فرمالیجئے کہ آج خوش حال کردینے والا مال بروزِ قِیامت وبال کی صورت اِختِیار کرگیا تو ہمارا کیا بنے گا؟   کاش! ہمارے دلوں سے دُنیا ومالِ دُنیا کی بے جا مَحَبَّت نکل جائے اور ہماری قَبْر وآخِرت بہتر ہو جائے۔  

مِرے دل سے دُنیا کی اُلفت مِٹا دے                  مجھے اپنا عاشِق بنا یاالٰہی!

تُو اپنی وِلایَت کی خیرات دے دے                   مِرے غوث کا واسِطہ یاالٰہی!

مَدَنی اِنْعامات میں اَسلاف کی یاد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بَیان کردہ رِوایتِ مُبارَکہ سے یہ بھی پتا چلا کہ اپنے اِسلامی بھائیوں کو مکتو بات کے ذَریعے نیکی کی دعوت پیش کرناصَحابۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنَّتِ کریمہ ہے۔   اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ! تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالَمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی دیگر مَدَنی خوبیوں کی حامِل ہونے کے ساتھ ساتھ اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی یاد بھی تازہ کرتی ہے جیسا کہ نیکی کی دعوت پر مُشتَمِل مدَنی مکتوبات روانہ کرنا۔  اِس کی ترغیب دلاتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی طرف سے پیش کردہ 72 مَدَنی اِنعامات میں سے مدَنی اِنعام نمبر 57 ہے: } ’’ کیا آپ نے اِس ہفتے کم ازکم ایک اسلامی بھائی کو مکتوب روانہ فرمایا ؟  ‘‘   (مکتوب میں مَدنی اِنعامات اور مدَنی قافِلے کی ترغیب دلائیں )   {آپ سے بھی مدَنی التِجا ہے کہ’’  دعوتِ اسلامی ‘‘ کے مدنی ماحول سے تادمِ حیات مُنسَلِک رہئے،   ’’ مَدَنی اِنعامات‘‘  کے مطابِق عمَل کی کوشِش کیجئے،   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین کے فُیُوضات اور دُنیا وآخِرت کی کثیر برکات حاصِل ہوں گی اورکثرتِ دولت کی ہَوَس کے بجائے نیکیوں کی کثرت کی حِرص بڑھے گی۔

دے جذبہ  ’’ مَدَنی اِنْعامات‘‘   کا تُو     کرَم ہو دعوتِ اسلامی پر یہ

 



Total Pages: 13

Go To