Book Name:Khazanay Kay Ambaar

قِیامت میں مالداروں کے حساب کی لرزہ خیز کیفیت

          حلال مال جمع کرنابے شک گناہ نہیں ، نیز دولتمندی کی وجہ سے کسی مالدار کوگنہگار کہنا روا نہیں۔  اگر100 فیصدی حلال مال کے سبب کوئی مالدار بنا اور اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرماں برداری کرتے ہوئے اُس نے اپنا مال خَرچ کیا تو گنہگار کُجا ثوابِ دارین کا حقدار ہے۔ لہٰذا مال کمانا ہی ہے تو صرف وصرف حلال طریقے پر کمانا چاہئے ۔  مگر صِرف بقدر ضَرورت کمانے ہی میں عافِیَّت ہے،  کیوں کہ حلال مال کا حساب ہو گا اوربروزِ قِیامت حساب کی کسی میں تاب نہ ہوگی ۔  حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  اِحیاءُ الْعُلُوم کی تیسری جلد میں نَقل کرتے ہیں :  ’’ قِیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جس نے حرام مال کمایا اور حرام جگہ پرخَرچ کیا،  کہا جائے گا: اسے جہنَّم کی طرف لے جاؤ اور ایک دوسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے حلال طریقے سے مال کمایا اور حرام جگہ پر خَرچ کیا،   کہا جائے گا: اسے بھی جہنَّم میں لے جاؤ،  پھر ایک تیسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے حرام ذرائِع سے مال جَمع کرکے حلال جگہ پرخَرچ کیا،  کہا جائے گاـ :  اسے بھی جہنَّم میں لے جاؤ پھر  (چوتھے)   ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس نے حلال ذرائِع سے کما کر حلال جگہ پر خَرچ کیا،  اُس سے کہا جائے گا:  ٹھہر جاؤ!  ممکِن ہے تم نے طلبِ مال میں کسی فرض میں کوتاہی کی ہو،  وقت پر نَماز نہ پڑھی ہو،  اور اس کے رُکوع وسُجُود اور وُضو میں کوئی کوتاہی کی ہو!  وہ کہے گا:   یَا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ! میں نے حلال طریقے پر کمایا اور جائز مَقام پرخَرچ کیا، اور تیرے فرائض میں سے کوئی فَرض بھی ضائِع  نہیں کیا۔ کہا جائے گا: ممکن ہے تو نے اس مال میں تکبُّرسے کام لیا ہو ،  سُواری یا لباس کے ذَرِیعے دوسروں پرفَخْرظاہِر کیا ہو!  وہ عَرض کرے گا:  اے میرے رب!  میں نے   تکبُّر بھی نہیں کیا اورفَخْرکا اظہار بھی نہیں کیا ۔ کہا جائے گا: ممکن ہے تو نے کسی کا حق دبایا ہو جس کی ادائیگی کا میں نے حکم دیا ہے کہ اپنے رشتے داروں ، یتیموں ،  مسکینوں اور مسافِروں کو ان کا حق دو!  وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے حلال طریقے پر کمایا اور جائز مقام پرخَرچ کیااور تیرے کسی فَرض کوترک نہیں کیا،  تکبُّر وغُرُور بھی نہیں کیا اور کسی کا حق بھی ضائِع نہیں کیا ، تُو نے جسے دینے کا حکم دیا   (میں نے اُسے دیا)   ۔  

          پھر وہ سب لوگ آئیں گے اور اس سے جھگڑا کریں گے،  وہ کہیں گے:  یَا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ !  تُو نے اسے مال عطا کیا اور مال داربنایااور اسے حکم دیا کہ وہ ہمیں دے اور ہماری مدد کرے۔  اب اگر اس نے ان کو دیا ہوگا، اور فرائض میں کوتاہی بھی نہیں کی ہوگی،  تکبُّر اور فخر بھی نہیں کیا ہوگا پھر بھی کہا جائے گا رُک جا! میں نے تجھے جو بھی نعمت عنایت کی تھی،   خواہ وہ کھانا تھا، پانی تھا یا کوئی سی بھی لذّت ،  ان سب کا شکر ادا کر، اِسی طرح سُوال پر سُوال ہوتا رہےگا۔  ‘‘  (اِحیاءُالعُلوم ج۳ ص۳۳۱ دارصادربیروت

سُوال اُس سے ہو گاجس نے حلال کمایا ہو گا

          یہ روایت نقل کرنے کے بعد سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے جو کچھ فرمایا ہے اُس کو اپنے انداز میں عرض کرنے کی سعی کرتا ہوں : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بتایئے!   اِن سُوالات کے جوابات دینے کے لیے کون تیار ہوگا؟ سُوالات اُس آدَمی سے ہوں گے جس نے حلال طریقے پر کمایا ہو گا نیزتمام حُقُوق اور فرائض بھی کما حَقُّہٗ  (مکمَّل طور پر)   ادا کیے ہوں گے۔  جب ایسے شخص سے یہ حِساب ہوگا تو ہم جیسے لوگوں کا کیا حال ہوگا جو دُنیوی فِتنوں ، شُبہوں ،  نفسانی خواہشوں، آرائشوں اور زینتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں !  ان سُوالات ہی کے خوف کے باعث اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے دُنیا اور اس کے مال ومَتاع سے آلُودہ ہونے سے ڈرتے ہیں ، وہ فَقَط ضَرورت کے مطابِق مختصر سے مالِ دُنیا پرقَناعت کرتے ہیں اوراپنے مال سے طرح طرح کے اچّھے کام کرتے ہیں ۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِینیک بندوں کے کثرتِ مال سے بچنے کی کیفیت بیان کرنے کے بعد عام مسلمانوں کو  ’’ نیکی کی دعوت ‘‘  دیتے ہوئے فرماتے ہیں : آپ کو اُن نیک لوگوں کے طریقے کو اختیار کرنا چاہئے،  اگر اس بات کوآپ اِس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ آپ اپنے خیال میں پرہیزگار اور نہایت ہی محتاط ہیں اورصرف حلال مال کماتے ہیں اور کمانے سے مقصود بھی محتاجی اورسُوال سے بچنا اور راہِ خدا میں خَرچ کرنا ہے اورآپ کا ذِہن یہ بنا ہوا ہے کہ میں اپنا حلال مال نہ توگناہوں میں صَرف کرتا ہوں نہ ہی اِس سے فُضُول خَرچی کرتا ہوں نیز مال کی وجہ سے میر ا دل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پسندیدہ راستے سے بھی نہیں بدلتا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میرے کسی ظاہِر اور پوشیدہ عمل سے ناراض بھی نہیں ہے،  اگرچِہ ایسا ہونا ناممکِن ہے۔  باِلفَرض ایسا ہو تب بھی آپ کو چاہئے کہ صِرف ضَرورت کے مطابِق مال پرہی راضی رہیں اور مال داروں سے علیٰحِدگی اختیار کریں ، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگاکہ جب ان مالداروں کو قِیامت میں حساب کیلئے روکا جائے گا توآپ پہلے ہی قافلے کے ساتھ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے پیچھے آگے بڑھ جائیں گے اورآپ کو حساب و کتاب اورسُوالات کے لیے



Total Pages: 13

Go To