Book Name:Khazanay Kay Ambaar

گُناہوں کو اچّھا سمجھنا کُفْر ہے

            مُفسِّرِشَہِیر ،  حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان اِس آیَتِ کریمہ کے تَحت ’’ تفسیرِ نورُ العِرفان‘‘ میں فرماتے ہیں :  اِس آیَتِ کرِیمہ سے معلوم ہوا کہ گناہ ومَعاصی کے باوُجُود دُنیو ِی راحتیں ملنا اللہ عَزَّوَجَلَّکا غضَب اور عذاب   (بھی ہو سکتا)   ہے کہ اِس سے انسان اور زیادہ غافِل ہو کر گناہ پر دِلَیرہو جاتا ہے ،  بلکہ کبھی خیال کرتا ہے کہ’’ گناہ اچّھی چیز ہے ورنہ مجھے یہ نعمتیں نہ ملتیں ‘‘  یہ کُفْرہے ۔    (یعنی گناہ کو گناہ تسلیم کرنا فرض ہے اِس کو جان بوجھ کر اچّھا کہنا یا اچّھا سمجھنا کُفْر ہے۔  کفریہ کلمات کی تفصیلات جاننے کے لئے  دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 692 صفْحات پر مشتمل کتاب ‘’ کفریہ کلِمات کے بارے میں سُوال جواب’‘  کا مُطالَعہ فرمایئے)  مزید فرمایا:  نعمت پر خوش ہونا اگر فخر،  تکبُّر اور شیخی کے طور پر ہو تو بُرا ہے اورطریقۂ کُفّار ہے اور اگر شُکْر کے لئے ہو تو بہتر ہے،  طریقۂ صالحین ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مال کے بارے میں سُوال

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دُنیا کی ہر آسائش میں آزمائش ہے،  قِیامت کے دن اِن آسائشوں   (راحتوں )   اورکَشائشوں   (یعنی فَراخِیوں )   کے مُتَعَلِّقسُوال ہونا ہے ۔  جس کو دُنیا میں جتنی زِیادہ نعمتیں اور وسائِل حاصل ہوں گے،  اُس کو آخِرت میں اُسی قدَر مسائل بھی درپیش ہوں گے،  جب بروزِ محشَر دُنیَوی مال واَسباب کے بارے میں سُوالات ہوں گے،  مال کے غلَط اِستِعمال پر اللہ عَزَّوَجَلَّعِتاب فرمائے گا تو غفلت شِعار مالدار کے سامنے یہ حقیقت کُھل کر آ جائے گی کہ’’ مجھ جیسادُنیا کا امیر آخِرت کافقیر ہے۔‘‘  جیساکہ حضرتِ سیِّدُناابوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا بَیان ہے کہ سردارِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ،  سلطانِ مَدِیْنَۂ مُنَوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا:  ’’ زیادہ مال و الے قِیامت کے دن کم ثواب والے ہوں گے،  مگر جسے اللہ عَزَّوَجَلَّمال دے اور وہ اُسے دائیں بائیں اور آگے پیچھے دے اور اس میں نیک عمل کرے۔ ‘‘   (صَحیح بُخاری ج۴ ص۲۳۱حدیث۶۴۴۳) 

نِعمتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہو گی

            پارہ 30 سُوْرَۃُ التَّکاَثُر  کی آخِری آیَت میں اِرشادِ ربِّ اکبرعَزَّوَجَلَّہے:

ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠  (۸)              ترجَمَۂ کنزالایمان :  پھر بے شک ضَرور اُس دن تم سے نعمتوں کی پُر سِش ہو گی۔

 دوزخ کے کَنارینِعمتوں کے مُتَعلِّق سُوالات

            مُفسِّرِ شَہیر، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ المنّاننے ’’ تفسیرِ نورُ العِرفان ‘‘ میں اِس آیَتِ مبارَکہ کے تحت قدرے تفصیل کے ساتھ کلام فرمایا ہے، اِس میں سے بعض باتیں عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں :  ’’ میدانِ حشْر یا دوزخ کے کَنارے پر تم سے فِرِشتے یا خود رب تعالیٰ نعمتوں کے مُتَعَلِّق سُوال فرمائے گا اور یہ سُوال ہر نعمت کے مُتَعَلِّقہوگا،  جسمانی یا رُوحانی  ،  ضَرورت کی ہو یا عیش وراحت کی،  حتّٰی کہ ٹھنڈے پانی،   دَرَخت کے سائے، راحت کی نیند کا بھی۔  مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں : بعدِ موت تین وقت اور تین جگہ حساب ہو گا،   (۱)   قَبْر میں ایمان کا  (۲)  حَشر میں ایمان واعمال کا   (۳)   دوزخ کے کَنارے نِعمتوں کے شُکر کا۔ بِغیر استِحقاق جو عطا ہو وہ نعمت ہے،  رب کا ہر عَطِیّہ نعمت ہے خواہ جسمانی ہو یا روحانی اِس کی دوقسمیں ہیں   (۱)   کسبی   (۲)   وَہبی ۔ کَسبی یعنی وہ نعمتیں جو ہماری کمائی سے ملیں ،  جیسے دولت ،  سلطنت وغیرہ ۔ وَہبییعنی وہ نعمتیں جو محض رب کی عطا سے ہوں ،  جیسے ہمارے اَعضاء ،  چاند ،  سورج وغیرہ ۔  کسبی   (یعنی اپنی کوششوں سے حاصل کئے ہوئے مال یا ہُنر ایسی)   نعمت کے مُتَعَلِّق تین سُوال ہوں گے،    (۱)   کہاں سے حاصل کیں ؟  (۲)   کہاں خَرچ کیں ؟  (۳)   ان کاکیا شکریہ ادا کیا ؟  وَہبی   (یعنی بغیر ہماری کوشش کے ملی ہوئی)   نعمتوں کے مُتَعَلِّق آخِری دو سُوال ہوں گے  (یعنی کہاں خرچ کیں ؟ان کا کیاشکریہ ادا کیا؟ )  ۔  تفسیرِخازِن، تفسیرِعزیزی،  تفسیرِ روحُ الْبَیان وغیرہ میں ہے کہ مذکورہ آیَتِ کریمہ میں ’’ اَلنَّعِیْم‘‘  سے نبیِّ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم کی ذات والا صِفات مُراد ہے،  ہم سے حُضورِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں سُوال ہوگا کہ تم نے اِن کی اِطاعت کی یا نہیں ؟  کیونکہ حُضورِ پُرنور،  شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو تمام نعمتوں کی اَصل ہیں ،  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّت جس دل کو روشن کر دے،   اُس کے لئے تمام نعمتیں رَحمتیں ہیں اور بدقسمتی سے جس کے دل میں رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مَحَبَّت نہ ہو اُس کے لئے سب نعمتیں زَحمتیں ہیں ،  دولت ِ عُثمانی رَحمت تھی،  دولتِ ابوجَہل زَحمت۔  ‘‘

صَدقہ پیارے کی حیاء کا کہ نہ لے مجھ سے حساب

            بخش بے پوچھے لَجائے کو لَجانا کیا ہے   (حدائقِ بخشش شریف)   

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 13

Go To