Book Name:Khazanay Kay Ambaar

دولتِ دُنیا کے پیچھے تُو نہ جا                  آخِرت میں مال کا ہے کام کیا؟

                        مالِ دُنیا دوجہاں میں ہے وبال              کام آئے گا نہ پیشِ ذُوالْجَلال          (وسائل بخشش ص۳۷۵) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  …جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے مال ودولت کے دیوانے کی قابِلِ عِبْرَت حِکایَتسماعت فرمائی کہ ایسا شخص جو عُمْر بھر عیش کوشیوں اورنفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑا رہا،  اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ملی ہوئی ڈھیل سے بجائے سنبھلنے کے اُس کی غفلتوں کا سِلسِلہ طویل ہوتاچلا گیا،   مال کے نَشے میں مَخمور،  غریبوں اورمُحتاجوں کی امداد سے دُور اور عیّاشیوں میں مَسرور رہا۔ آخِر کار ’’  ایک دن مرنا ہے آخِر موت ہے ‘‘ کے مِصداق موت کافِرِشتہ آپہنچا،  اگرچِہ اُس وقت مال کا خُمار اُترا،  ہوش ٹھکانے آئے لیکن ’’ اب پچھتائے کیا ہَوت جب چِڑیاں چُگ گئیں کھیت۔ ’‘ مال و دولت کے حَریص اَفراد جنہیں دُنیا و آخِرت کے بربادہونے کی کوئی فکْر نہیں ہوتی اُن کے لئے اِس حِکایت میں درسِ عِبرت کے بے شمار مَدَنی پھولہیں ۔  

گھپ اندھیری قبر میں جب جائے گا                       بے عمل!  بے انتِہا گھبرائے گا

کام مال و زر وہاں نہ آئے گا                                 غافِل انساں یاد رکھ پچھتائے گا

                       جب ترے ساتھی تجھے چھوڑ آئیں گے                            قبر میں کیڑے تجھے کھا جائیں گے  (وسائل بخشش ۳۷۶) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مالِ کثیر میں کہیں خُفیہ تدبیر تو نہیں ؟

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یہ حقیقت ہے کہ بعض اَوقات اللہ عَزَّوَجَلَّکثرتِ مال ومَنال سے نواز کر بھی آزمائش میں ڈال دیتا ہے،  جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’ فیضانِ سنّت‘‘ جلد اوّل صَفْحہ682پر ہے:  صِحّت کی نعمت اور دولت کی کثرت اکثر مُبتَلائے مَعصِیَت کر دیتی ہے،  لہٰذا جو   (حسین وشانداریا)   خوب جاندار یا   (زبردست)  مالدار یا صاحِبِ اقتِدارہو اُس کو خدائے علیم و خبیرعَزَّوَجَلَّ کی خُفیہ تدبیرسے بَہُت زیادہ ڈَرنے کی ضَرورت ہے،  جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں :  ’’ جس شخص پر اللہ عَزَّوَجَلَّدُنیا میں    (روزی میں خوب کثرت ،  فرمانبردار اولاد کی نعمت،  مال و دولت ،  حسین صورت،  اچھی صِحّت،  منصبِ وَجاہت،  عُہدۂ وَ زارت یا صدارت یا حکومت وغیرہ کے ذَرِیعے)  فراخی  (فَ۔ رَا۔ خی)   کرے مگر اُسے یہ اندیشہ نہ ہو کہ کہیں یہ   (آسائشیں )   اللہ عَزَّوَجَلَّکی خُفیہ تدبیر تو نہیں،  تو ایسا شخص اللہ عَزَّوَجَلَّکی خُفیہ تدبیر سے غافِل ہے۔  ‘‘     (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن  ص۱۲۸دارالمعرفۃ بیروت 

تو یہ  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کی طرف سے  ڈھیل ہے

             خبردار اے جاندار! خبردار اے شاندار!  خبر دار اے مالدار! رخبر دار اے سرمایہ دار!  خبر دار اے صاحِبِ اقتِدار! خبر دار اے افسر وعہدیدار!  ربِّ عزیز و قدیر عَزَّوَجَلَّکی خُفیہ تدبیرسے خبر دار !  خبر دار! خبردار!  کہیں ایسا نہ ہو کہ ملی ہوئی جانی ، مالی یاحکومتی نعمتوں کے ذَرِیْعے ظلم،  تکبُّر ،  سر کشی اور طرح طرح کے گناہوں کا سِلسِلہ بڑھتا رہے اور کَسا کَسایا سُڈَول   (یعنی خوبصورت)   بدن اورمال و دَھن جہنَّم کا ایندھن بننے کا سبب بن جائے ۔  اِس ضِمْن میں حدیثِ نبَوِی علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاممَع آیتِ قراٰنی سنئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی خُفیہ تدبیر سے تھرّایئے:  حضرتِ سیِّدُنا عُقْبہ بن عامِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے رِوایت ہے،  نبیِّ اَکرم،  نورِ مُجَسَّم،  رسولِ مُحتَشَم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عِبرَت نشان ہے:    ’’جب تم دیکھو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّدُنیا میں گناہ گار بندے کو وہ چیزیں دے رہا ہے جو اُسے پسند ہیں تو یہ اُس کی طرف سے ڈِھیل ہے۔  پھر یہ آیَتِ کریمہ تِلاوت فرمائی:

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ  (۴۴)     (پ۷،  اَلْانعام:  آیت۴۴) 

ترجَمَۂ کنزالایمان: پھر جب اُنہوں نے بُھلا دیا جو نصیحتیں اُن کو کی گئی تھیں ،  ہم نے اُن پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اُس پرجو اُنہیں ملا تو ہم نے اچانک اُنہیں پکڑ لیا اب وہ آس ٹوٹے رَہ گئے۔   (مُسندِ اِمام احمد ج ۶ ص۱۲۲حدیث۱۷۳۱۳ دارالفکربیروت 


 



Total Pages: 13

Go To