Book Name:Khazanay Kay Ambaar

زمین نہ روئے اور انہیں مُہلَت نہ دی گئی ۔  

سَونے کا گھوڑا اور سونے کی اُونٹنی

            مدائن سے مسلمانوں کو مالِ غنیمت میں کروڑوں دینار   (یعنی کروڑوں سونے کے سکّوں )  کا خزانے کا انبار ہاتھ آیا جس میں نہایت ہی نادِر و نایاب چیزیں تھیں ،  ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں :  ایران کے مشہورآتَش پرست بادشاہ نَوشیرواں کا زَرنِگار  (یعنی سونے کا)  تاج،  شاہانِ سَلَف  ( یعنی ایران کے گزرے ہوئے بادشاہوں کے یادگار ہیروں )  سے جَڑاؤخنجر ،  زِرہیں ،  خَود اور تلواریں ، خالِص سونے کا قد آور گھوڑا جس کے سینے پر یاقُوت جَڑے  تھے،  اُس پر سونے کا بنا ہوا ایک سُوارتھا جس کے سر پر ہیروں کا تاج تھا،  اِسی طرح ایک طِلائی   ( یعنی سونے کی)   اُونٹنی اور اس کا طِلائی  ( یعنی سونے کا)   سُوار ۔  اَیوانِ کِسریٰ   (یعنی ایران کے بادشاہوں کے شاہی مَحَل)   کا طِلائی فرش یعنی سَونے کا قالین   (CARPET)   جو بیش قیمت جواہِرات سے آراستہ تھا اور اس کا رَقبہ 60مُرَبَّع گز تھا وغیرہ وغیرہ ۔  مسلمان مالِ غنیمت جَمع کرنے میں ایسے دِیانت دار ثابت ہوئے کہ تاریخِ عالَم اِس کی مثال پیش کرنے سے قاصِرہے،  اگر کسی مجاہِد کو ایک معمولی سی سُوئی ملی یا قیمتی ہیرا، اُس نے بِلاتاَ مُّل   (تَ ۔ اَم ْ۔ م ُل )    اسے خزانے کے انبار   (اَم ۔ بار)  میں شامِل کروادیا۔   (البدایۃ والنھایۃ ج۵ص۱۳۵تا۱۴۰ بتصرف وغیرہ

خزانے کے اَنبار کی پُکار

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے،  ہمارے اَسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے بَقائے اسلام کے لیے کیسے کیسے جانبازانہ اِقدام فرمائے!  اِس حِکایت سے حضرتِ سیِّدُنا سَعدبن ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بے مثال کرامت بھی سامنے آئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بے خَطَراپنا گھوڑا دریائے دِجلہ کی بِپھری ہوئی موجوں میں ڈال دیا!  اور یہ بھی معلوم ہوا کہ خواہ کتنا ہی بڑا خزانے کا انبار ہو بِالآخِر بے کار ہو کر رہ جاتا ہے۔  اب ایک بَہُت بڑے غفلت شِعاراسرائیلی مالدار کی عبرتناک حکایت آپ کے گوش گزار کرتا ہوں ،  اگر آپ کا دل زندہ ہوا تو اسے سُن کر اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو خَزانے کے انبار بالکل بیکار محسوس ہونے لگیں گے چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ 412 صفْحات پرمُشتمِل کتاب  ’’عُیُونُ الحِکایات‘‘  حصّہ اوّل،  صفْحہ74 پر نقْل کردہ حِکایَت کا خُلاصہ مُلاحَظہ فرمائیے:  حضرتِ سیِّدُنا یزیدبن مَیْسَرَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ پہلی اُمَّتوں میں ایک مال دار مگر کنجوس شخْص تھا،  وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہ کرتا،  ہر وقْت کثرتِ دَھن کی دُھن   (یعنی دولت کی لگن)  میں مگن رہتا اوراِس کی پَیہَم کوشش رہتی کہ بس کسی طرح  مال بڑھتا رہے۔ اُس ناعاقِبت اَندیش،  حریصِ مال ودولت کی زندَگی کے شب وروز اپنے اَہل وعیال کے ساتھ خوب عَیْش وعِشْرت اور نہایت غَفْلت کے ساتھ بَسَرہو رہے تھے۔ ایک دن  اُس کے گھر کے دروازے پر کسی نے دَستک دی۔  اُس غافِل دولت مند کے غلام نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک فقیر کو پایا، آنے کا مقصد پوچھا،  جواب ملا: جاؤاور اپنے مالِک کو باہَربھیجو،  مجھے اُس سے کام ہے۔  غلام نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا: ’’ وہ تو تیرے ہی جیسے کسی فقیر کی مدَد کرنے باہَر گئے ہیں ۔  ‘‘  فقیر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد دَوبارہ دروازے پر دَستک پڑی،  غلام نے دروازہ کھولا تووُہی فقیر نظر آیا ،  اب کی بار اُس نے کہا: جاؤ!  اپنے آقا سے کہو،  مَیں مَلَکُ الْمَوت   (عَلَیْہِ السَّلام ہوں ۔  اُس مال کے نَشے میں دُھت اور یادِ خدا عَزَّوَجَلَّسے غافِل شخص کوجب یہ پتا چلا توتھرّا اُٹھااور گھبرا کر اپنے غلاموں سے کہنے لگا:  ’’ جاؤ!  اور اُن سے اِنتِہائی نَرمی کے ساتھ پیش آؤ۔  ‘‘  غُلام باہَر آئے اور مَلَکُ الْمَوتعَلَیْہِ السَّلامکی مِنّت سَماجت کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے :  ’’ آپ ہمارے آقا کے بدلے کسی اور کی رُو ح قَبْض کر لیجئے اور اُسے چھوڑ دیجئے ۔  ‘‘  آپ عَلَیْہِ السَّلام نے فرمایا:  ’’ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔  ‘‘  پھر اُس مالدار شخص سے کہا:  تجھے جو وَصِیَّتکرنی ہے ابھی کرلے،  میں تیری رُوح قبْض کئے بِغیر یہاں سے نہیں جاؤں گا ۔  یہ سُن کروہ مالدار شخص اور اُس کے اَہْل وعِیال چیخ اُٹھے اور رَو نا دَھونا مچا دیا،  اُس شخص نے اپنے گھر والوں اور غلاموں سے کہا:  سونے چاندی اور خزانوں کے صَندُو ق کھول کر میرے سامنے ڈھیر کردو۔  فوراً حُکْم کی تعمیل ہوئی اوراس کے سامنے زندَگی بھر کے جمْع کئے ہوئے  خزانے کا اَنبار لگ گیا۔ خزانے کے اَنبار کو مخاطَب کرکے وہ مالدار شخص کہنے لگا:   ’’ اے ذلیل وبَدترین مال ودولت!  تجھ پر لعنت!  میں تیری مَحَبَّت کی وجہ سے برباد ہوا،  ہائے !  ہائے !  میں تیرے ہی سبب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت اورتیاریٔ آخِرت سے غافِل رہا ۔  ‘‘  خزانے کے اَنبار سے آوازآئی:  اے مال و دولت کے پَرَستارپکّے دنیا دار اور غفلت شِعار!  مجھے مَلامَت کیوں کرتا ہے؟ کیا تُو وُہی نہیں جو دُنیا داروں کی نظروں میں ذلیل وخوار تھا!  پھرمیری وجہ سے آبرو دار بنااورتیری رَسائی شاہی دَربار تک ہوئی،  میری ہی بدولت تیرا نِکاح مالدار خاندان میں ہوا، یقینایہ تیری ہی بَدبختی ہے کہ تو مجھے شیطانی کاموں میں اُڑاتا رہا ، اگر توراہِ خدا میں خَرچ کرتا تو یہ ذِلّت ورُسوائی تیرا مُقَدّر نہ بنتی،  بتا!  کیا بُرے کاموں میں خرچ کرنے اور نیک کاموں میں صَرف نہ کرنے کا مشوَرہ میں نے دیا تھا؟ نہیں ، ہرگز نہیں ،  تجھے پیش آنے والی تمام تَرتباہی کا ذِمّے دارتُو خود ہی ہے ،   (اس کے بعد سیِّدُنا  مَلَکُ الْمَوتعَلَیْہِ السَّلامنے اُس کنجوس مالدار کی روح قبض کر لی )  ۔   (عُیُونُ الحِکایات   (عَرَبی ص۴۹مُلَخَّصًا دار الکتب العلمیۃ بیروت  

 



Total Pages: 13

Go To