Book Name:Khazanay Kay Ambaar

دن کا، اور ملازِم ہے کہ ماہوار ملتا ہے یا مکانوں دکانوں کے کرائے پر بسر ہے کہ  (کرایہ)   مہینہ پیچھے آتا ہے،  تو ایک مہینے کا اور زمیندار ہے کہ فصل  (چھ ماہ)   یا سال پر پاتا ہے تو چھ مہینے یا سال بھر کااور اصل ذَرِیعۂ مَعاش مَثَلاً آلاتِ حرفَت   ( یعنی کام کے اَوزار)  یا دکان مکان دیہات بَقَدرِ کِفایت کا باقی رکھنا تو مُطلَقاً اس پر لازِم ہے۔  

 {5}جو عالمِ دین مُفتِیِٔ شَرع یا مُدافِعِ بِدع   (بد مذ ہبیت کوروکنے والا)   ہو اور بیتُ المال سے رِزق نہیں پاتا،  جیسا   (کہ اب)  یہاں ہے، اور وہاں اس کا غیر  (یعنی کوئی دوسرا)   ان مَناصبِ دِینیہ   (یعنی دینی مَنصَبوں )   پرقِیام نہ کرسکے کہ اِفتا   ( فتویٰ دینے)  یا دَفعِ بِدعات میں اپنے اَوقات کا صَرف کرنا اس پر فرضِ عَین ہو اور وہ مال و جائداد رکھتا ہے جس کے باعث اُسے غَنا  (مالی طور پر مضبوطی )  اور ان فرائضِ دِینیہ کے لیے فارِغُ البالی ہے   (یعنی روزگار وغیرہ سے بے فکری ہے)   کہ اگر   (سارا ہی مال)  خَرچ کر دے مُحتاجِ کَسب   (یعنی کام کاج کرنے کا محتاج )  ہو اور ان اُمُور  (یعنی ان دینی فریضوں کی ادائیگی)   میں خَلَل پڑے،  اس پر بھی اَصل ذَرِیعے کا اِبقا   (یعنی باقی رکھنا)  اور آمَدَنی کا بَقَدرِ مذکور جَمع رکھنا واجِب ہے ۔  

 {6}اگر وہاں اور بھی عالِم یہ کام کرسکتے ہوں تو اِبقاء وجمعِ مذکور  (حسبِ ضَروت مال جمع کرنا اور مال کے ذرائِع باقی رکھنا)   اگر چِہ واجِب نہیں مگر اَہَم و مُؤَکَّدْ  (سخت تاکید کیا ہوا)  بیشک ہے کہ علمِ دین و حمایتِ دین کے لیے فَراغ بال   ( یعنی خوشحالی)   ،  کَسبِ مال  ( یعنی مال کمانے)   میں اِشتِغال  ( یعنی مشغول ہونے)   سے لاکھوں درجے افضل ہے مَعہٰذا   (یعنی اسی کے ساتھ )   ایک سے دو اور دوسے چاربھلے ہوتے ہیں ، ایک   (عالم)  کی نظر کبھی خطا کرے تو دوسرے   (عُلَماء)   اُسے صَو اب   (یعنی صحیح بات)   کی طرف پھیر دیں گے،  ایک   (عالم)  کو مرض وغیرہ کے باعث کچھ عُذر پیش آئے تو جب اور  (عُلماء)   موجود ہیں کام بند نہ رہے گا لہٰذا  تَعَدُّدِ عُلَمائے دین   (علمائے دین کی کثرت)   کی طرف ضَرور حاجت ہے۔

 {7} عالم نہیں مگر طلبِ علمِ دین میں مشغول ہے اورکَسب میں اِشتِغال  ( مال کمانے میں مشغول ہونا )   اُس   (یعنی علمِ دین کی طلب)  سے مانِع   (یعنی روکنے والا)   ہوگا تو اس پر بھی اُسی طرح اِبقاء و جمع مَسطُور آکد واَہَم ہے۔    (یعنی اس کے لئے بھی حسبِ ضَرورت مال جمع کرنا اور مال کے ذارئِع کو باقی رکھنابَہُت اَہَم وضَروری ہے )   

 {8}تین صورَتوں میں جَمع مَنع ہُوئی،  دومیں واجِب ،  دو میں  مُؤَکَّدْ   (یعنی تاکیدی اور )  جو ان آٹھ  (قِسموں )   سے خارِج ہو،  وہ اپنی حالت پر نظر کرے اگر جَمع نہ رکھنے میں اس کاقَلب پریشان ہو،  تو جُّہ بَعبادت و ذِکرِ الہٰی میں خَلَل پڑے تو بمعنیٔ مذکوربَقَدرِ حاجت جَمع رکھنا ہی افضل ہے اور اکثر لوگ اِسی قسم کے ہیں ۔  

 {9}اگرجَمع رکھنے میں اس کا دل مُتَفَرِّق  (یعنی مُنتَشِر اور مال کے حفِظ  (یعنی حفاظت)   یا اس کی طرف مَیلان  (جُھکاؤ)   سے مُتَعلِّقہوتوجمع نہ رکھنا ہی افضل ہے کہ اَصل مقصود ذِکرِ الہٰی کے لیے فَراغ بال  (فارِغ ہونا)   ہے جو اُس میں مُخِل  ( خلل ڈالنے والا)   ہو وُہی ممنوع  ہے۔

 {10}جواصحاب نُفُوسِ مُطْمَئِنَّہ  (یعنی اہلِ اطمینان)   ہوں ،   (کہ)  نہ عَدَمِ مال  (مال نہ  ہونے )   سے اُن کا دل پریشان  (ہو)   نہ وُجُودِ مال   (یعنی مال ہونے )   سے اُن کی نظر   (پریشان ہو )    ،  وہ مُختار ہیں   ( یعنی با اختیار ہیں کہ چاہیں تو بقیہ مال صَدَقہ وخیرات کر دیں یا اپنے پاس ہی رکھیں )   ۔

 {11}حاجت سے زیادہ کا مَصارِفِ خیر  (یعنی اچّھی جگہوں )   میں صَرف   (خَرچ)   کردینا اور جَمع نہ رکھنا صورتِ سِوُم میں تو واجب تھا باقی جُملہ صُوَر  (یعنی دیگر تمام صورَتوں )   میں ضَرور مطلوب  (یعنی پسندیدہ)  ، اور جوڑ کر  (یعنی جمع)  رکھنا اس کے حق میں ناپسند ومَعیوب کہمُنْفَرِد کو اس کا جوڑنا طولِ اَمَلَ   (یعنی لمبی اُمّید )   یا حُبِّ دُنیا  (یعنی دنیا کی مَحَبَّت ہی سے ناشِی  (یعنی پیدا )  ہوگا۔   (مطلب یہ کہ مال جمع کرنا لمبی اُمّید یا دُنیا سے  مَحَبَّت ہی کی وجہ سے ہوگا اور یہ دونوں صورتیں اچّھی نہیں ہیں ) 

دُنْیا کا مُسافِر

            فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:  ’’دُنیا میں یُوں رہ گویا تُو مسافر بلکہ راہ چلتا ہے اور اپنے آپ کو قبر میں سمجھ کر صبح کرے تو دل میں یہ خیال نہ لاکہ شام ہوگی اور شام ہوتو یہ نہ سمجھ کہ صبح ہوگی۔ ‘‘   (سُنَنِ تِرمِذی ج۴ ص۱۴۹ حدیث۲۳۴۰ دارالفکربیروت

  تمہیں شرم نہیں آتی

          سلطانِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک موقع پرارشاد فرمایا:  یَا اَیُّہَا النَّاسُ اَمَا تَسْتَحْیُوْنَاے لوگو! کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ حاضِرین نے عَرض کی:  یا رسولَ اللہ! کس بات سے؟  فرمایا: جَمع کرتے ہو جونہ کھاؤ گے اور عمارت بناتے ہوتو جس میں نہ رہو گے اور وہ آرزُوئیں باندھتے ہو جن تک نہ پہنچو گے اس سے شرماتے نہیں ۔    (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۲۵ص۱۷۲حدیث۴۲۱  داراحیاء التراث العربی بیروت 

 جب کوئی لقمہ لیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

             حضرتِ سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ایک مہینے کے وعدے پر ایک کنیز سَو دینار کو خریدی،  رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: کیا اُسامہ سے تعجُّب نہیں کرتے جس نے ایک مہینے کے وَعدے پر  (کنیز)   خریدی، بیشک اُسامہ کی امّید لمبی ہے ، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں



Total Pages: 13

Go To