Book Name:Khazanay Kay Ambaar

            لانڈھی  (باب المدینہ، کراچی)  کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے:  ہمارے علاقے میں ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے عظیم جذبے کے تحت بڑی مستقل مزاجی سے چوک درس دیا کرتے تھے۔  ایک مرتبہ اس چوک درس میں ایک  ویڈیوسینٹروالے کو بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوگئی ۔  جب مبلغ دعوتِ اسلامی نے فیضانِ سنّت کا درس شروع کیاتوخوفِ خدا عَزَّ  وَجَلَّ اور عشقِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بھرپور، فکرِعاقِبت سے معمور الفاظ تاثیرکا تیربن کر  ’’ ویڈیو سینڑ والے ‘‘  کے دل میں پیوست ہوگئے،  بعدِ درس جب اسلامی بھائیوں نے اُن پراِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے دعوت اسلامی کے ہفتہ وارسُنَّتوں بھرے اجتِماع کی دعوت پیش کی تو فوراََراضی ہوگئے ۔ اور شرکت بھی کی جس کی بَرَکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّان میں تبدیلی آنے لگی ،  کچھ ہی عرصے میں انہوں نے ویڈیوسینڑ ختم کردیا اور دھاگے کا کاروبار شروع کرکے حلال روزی کی طلب میں مشغول ہو گئے ۔  

مالِ دنیا ہے دونوں جہاں میں وبال،         آپ دولت کی کثرت کا چھوڑیں خیال

قبر میں کام آئے گاہر گز نہ مال،                        حشر میں ذَرّے ذَرّے کا ہو گا سُوال

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مال جَمْعْ کرنے نہ کرنے کی صورَتیں

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  مال جمع کرنے نہ کرنے کی صورتوں کے متعلّق بارگاہِ رضویت میں ہونے والے ’’ سُوال وجواب‘‘  کے مختلف اِقتباسات پیش کرتا ہوں ،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی معلومات میں بے حد اِضافہ ہوگا: سُوال: ایک شخص جو اَہل و عِیال  (یعنی بال بچّے)   رکھتا ہے اپنی ماہانہ یا سالانہ آمدنی سے بِلا اِفراط وتَفرِیط  (یعنی بِغیر کمی وزِیادَتی کے)   اپنے بال بچّوں پرخَرچ کر کے بقایا خدا کی راہ میں دیتا ہے آئِند ہ کو اَہل وعِیال کے واسِطے کچھ نہیں رکھتا ، دوسرا اپنی آمدنی سے بچّوں پرایک حصّہ خَرچ کرکے دوسرا حصّہ خیرات کرتا اور تیسرا حصّہ آئندہ انکی ضَرورتوں میں کام آنے کی غَرَض سے رکھ چھوڑنے کو اچّھا جانتا ہے، ان دونوں میں افضل کون ہے؟

          الجواب: حُسنِ نیّت   ( یعنی اچّھی نیّت )   سے دونوں صورَتیں مَحمود  (بَہُت خوب)   ہیں ،  اور بَاِختِلافِ اَحوال   (یعنی حالات مختلِف ہونے کی وجہ سے )   ہر ایک   (کبھی)   افضل ،  کبھی واجِب،  وَلہٰذا اس بارے میں احادیث بھی مختلف آئیں اور سَلَفِ صالِح   (یعنی بزرگانِ دین )   کا عمل بھی مختلِف رہا۔  

اَقُول ُوَبِاللّٰہِ التَّوْفِیق  (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سے میں کہتا ہوں )  اس میں قَولِ مُوْجَزْ و جَامِع   (یعنی مختصر وجامِع قول)   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ یہ ہے کہ آدَمی دو  قسم   (کے)   ہیں :   (۱)    مُنْفَرِد کہ تنہا ہو اور  (۲)   مُعِیْلکہ عِیال  (یعنی بال بچّے وغیرہ)   رکھتا ہو،  سُوال اگر چِہ مُعِیْلسیمُتَعلِّق ہے مگر ہرمُعِیْل اپنے حقِّ نفس   (یعنی خود اپنے بارے)   میں مُنْفَرِد اور اس پر اپنے نفس  (یعنی اپنی ذات)   کے لحاظ سے وُہی اَحکام ہیں جو مُنْفَرِد پر ہیں لہٰذا دونوں کے اَحکام سے بَحث درکار۔   {1}وہ اَہلِاِنْقِطَاعوَ تَبَتُّل اِلَی اللّٰہاَصْحابِ تَجْرِیْد وَتَفْرِیْد   (یعنی ایسے لوگ جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی خاطِر دنیا سے کَنارہ کَشی اختیار کر لی ہو اور ان پر اہل وعِیال کی ذمّے داری نہ ہو یا انکے اہل و عِیال ہی نہ ہوں )   جنھوں نے اپنے رب سے کچھ   (مال)  نہ رکھنے کا عَہد باندھا   (وعدہ کیا )  ان پر اپنے عَہْد کے سبب تَرکِ اِدّ ِخار   (یعنی مال جمع نہ کرنا )  لازِم ہوتا ہے اگرکچھ بچارکھیں تونَقْضِ عَہْد  (یعنی وعدہ خِلافی)   ہے اور بعدِ عہد پھر جَمع کرنا ضَرور ضُعفِ یقین سے نَاشِیٔ   (یعنی یقین کی کمزوری کی وجہ سے ہے )   یا اُس کامُوْہِمْ   ( یعنی وہم ڈالنے والا )   ہوگا،  ایسے   (حَضرات )     اگر کچھ بھی ذَخیرہ کریں مستِحقِ عِقاب  ( یعنی سزاکے حق دار)   ہوں ۔  

 {2}فَقر و توکُّل ظاہِر کرکے صَدَقات لینے والا اگر یہ حالت مُستَمِر   (مُسْ۔ ت َ۔ مِرْ یعنی برقرار)   رکھنا چاہے تو اُن صَدَقات میں سے کچھ جمع کر رکھنااُسے ناجائز ہوگا کہ یہ دھوکا ہوگا اور اب جوصَدَقہ لے گا حرام و خبیث ہوگا۔  

 {3}جسے اپنی حالت معلوم ہو کہ حاجت سے زائد جو کچھ بچا کررکھتا ہے نَفس اُسے طُغیان وعِصیان   (یعنی سرکشی ونافرمانی)   پر حامِل ہوتا  (یعنی اُبھارتا )   ،  یاکسی مَعصِیَت   (یعنی نافرمانی)   کی عادت پڑی ہے اُس میں خَرچ کرتا ہے تو اُس پرمَعصِیَت سے بچنا فرض ہے اور جب اُس کایِہی طریقہمُعَیَّن  (م ُ۔ عَیْ۔ یَنْ یعنی مُقرَّر)  ہو کہ باقی مال اپنے پاس نہ رکھے تو اِس حالت میں اس پر حاجت سے زائد سب آمَدَنی کو مَصارِفِ خَیر   (یعنی بھلا ئی کے کاموں )   میں صَرف کر دینا لازِم ہوگا۔  

 {4} جو ایسا بے صَبرا ہوکہ اگر اُسے فاقہ پہنچے تو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّرب عَزَّوَجَلَّکی شکایت کرنے لگے اگر چِہ صِرف دل میں ،  نہ زَبان سے،  یا طُرُقِ ناجائزہ   (یعنی ناجائز طریقوں )   مِثلِ سَرِقہ   (سَ ۔ رِ۔ قَہ یعنی چوری)   یا بھیک وغیرہ کا مرتکِب ہو،  اس پر لازِم ہے کہ حاجت کے قَدَرجَمع رکھے،  اگر پیشہ وَر ہے کہ َروزکارَوزکھاتا ہے،  تو ایک



Total Pages: 13

Go To