Book Name:Ashkon Ki Barsat

رَحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت کی عظیم سعادت ملی۔    لبہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحمت کے پھول جھڑنے لگے ، اور میٹھے بول کے الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے:  جو اِس ماہ روزانہ پابندی سے مَدَنی اِنعامات سے مُتَعَلِّق فکرِ مدینہ کرے گا،   اللہعَزَّوَجَلَّ اُس کی مغفِرت فرمادیگا۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دشمن کے لئے دعا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ کوئی کتنی ہی بُرائی کرتا،   آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کی خیر خواہی ہی فرماتے۔    چُنانچِہ ایک بار کسی حاسِد نے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو سخت بُرا بھلا کہا،   گندی گالیاں بھی دیں اور گمراہ بلکہ مَعاذاللہ عزوجل زِندیق  (یعنی بے دین)  تک کہہ دیا۔    امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے جواب میں ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو مُعاف فرمائے،   اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ آپ جو کچھ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں میں ایسا نہیں ہوں ۔   ‘‘ اِتنا فرمانے کے بعد آپ کا دل بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمانے لگے:  ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اُمّید کرتا ہوں کہ وہ مجھے مُعافی عطا فرمائے گا،   آہ!  مجھے عذاب کا خوف رُلاتا ہے۔   ‘‘ عذاب کا تصوُّر آتے ہی گریہ   (یعنی رونا)  بڑھ گیا اور روتے روتے بے ہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔    جب ہوش آیا تو دعا مانگی:  ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ!  جس نے میری بُرائی بیان کی اس کومُعاف فرما دے۔   ‘‘  وہ شخص آپ کے یہ اَخلاقِ کریمہ دیکھ کر بَہُت مُتَأَثِّر ہوا اور مُعافی مانگنے لگا،   فرمایا:  جس نے لاعلمی کے سبب میرے بارے میں کچھ کہا اُس کو مُعاف ہے،   ہاں جو اہلِ علم ہونے کے باوُجُود جان بوجھ کر میری طرف غَلَط عَیب منسوب کرتا ہے وہ قُصُور وار ہے۔    کیوں کہ عُلَماء کی غیبتکرنا ان کے بعد بھی باقی رَہتا ہے۔     ( اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان ص ۵۵)  

نہ جیتے جی آئے کوئی آفت،   میں قبر میں بھی رہوں سلامت

بروزِ مَحشر بھی رکھنا بے غم،    امامِ اعظم ابو حنیفہ  (وسائلِ بخشش ص ۲۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          طمانچہ مارنے والے کو انوکھا انعام

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اپنے مخالف پر امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم  کے فضل و کرم کا ایک اور اَچُھوتا واقِعہ سنئے اور جھومئے اور اپنے ذاتی دشمنوں پر لاکھ غصّہ آئے درگزر کی عادت ڈال کر عملی طور پر امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی مَحَبَّت کا ثُبُوت فَراہَم کیجئے۔    چُنانچِہ ایک بار کسی حاسد نے کروڑوں مسلمانوں کے بے تاج بادشاہ اور امام و پیشوا سیِّدُنا امامِ اعظم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکو معاذاللہ زوردار طمانچہ رسید کردیا،   اس پر صَبْر و تَحَمُّل کے پیکر امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے انتہائی عاجِزی کے ساتھ فرمایا:  ’’بھائی جان!  میں بھی آپ کو طمانچہ مار سکتا ہوں مگر نہیں ماروں گا،    عدالت میں آپ کے خلاف دعویٰ دائر کرسکتا ہوں مگر نہیں کروں گا،    اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں آپ کے ظلم کی فریاد کرسکتا ہوں لیکن نہیں کرتا اور بروزِ قِیامت اِس ظلم کا بدلہ حاصل کرسکتا ہوں مگر یہ بھی نہیں کروں گا،   اگر بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پرخُصُوصی کرم فرمایا اور میری سِفارش آپ کے حق میں قَبول کرلی تو میں آپ کے بِغیر جنَّت میں قدم نہ رکھوں گا۔    ‘‘

ہوئی شہا فَردِ جُرم عائد،   بچا پھنسا ورنہ اب مُقلِّد

فرشتے لے کے چلے جہنَّم،   امامِ اعظم ابو حنیفہ  (وسائلِ بخشش ص ۲۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُعاف کرنے  والے بروزِ قیامت بے حساب داخلِ جنّت ہو نگے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  واقِعی ہمارے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم  صَبْر کے پہاڑ تھے اور وہ صَبْر کے فضائل سے آگاہ تھے۔   کاش!  ہم بھی



Total Pages: 14

Go To