Book Name:Ashkon Ki Barsat

اپنی عمارت بنا کر اُس کی ہوا اور روشنی میں رُکاوٹ کھڑی کی ہوگی،   کسی کی اسکوٹر یا کار وغیرہ کو اپنی گاڑی سے ڈَینٹ ڈال کر یا خَراش لگا کر راہِ فِرار اختیار کی ہوگی،   یابھاگ نہ سکنے کی صورت میں اپنا قُصُور ہونے کے باوُجُود اپنی چَرب زبانی یا رُعب داب سے اُسی کو مجرم باور کرا کر اُس کی حق تلفی کی ہوگی،   عیدِ قرباں وغیرہ کے موقع پر صاحِبِ مکان کی رِضا مندی کے بِغیر اُس کے گھر کے آگے جانور باندھ کر یا ذَبح کر کے اُس کی دیوار یا گھر سے نکلنے کا رَستہ گوبر ،    خون اور کیچڑ وغیرہ سے آلود کر کے اُس کیلئے ایذا کا سامان کیا ہو گا،   کسی کے مکان یا دکان کے پاس یا اس کی چھت یا پلاٹ پر پریشان کُن گند کچرا پھینکا ہو گا،   اَلغَرَض لوگوں کے حُقُوق پامال کرنے والا اگر چِہ نَمازیں ،   حج ،   عمرے ،   خیراتیں اور بڑی بڑی نیکیاں لیکر گیا ہوگا،   مگربروزِ قیامت اُس کی عبادتیں وہ لوگ لے جائیں گے جن کو ناحق نقصان پہنچایا ہوگا یا بِلااجازتِ شَرعی کسی طرح سے ان کی دل آزاری کا باعث بنا ہو گا۔   نیکیاں دینے کے باوُجُودحُقُوق باقی رہنے کی صورت میں اُن کے گناہ اِس  ’’نیک نَمازی ‘‘  کے سر تھوپ دیئے جائیں گے اوریوں دوسروں کی حق تلفی کرنے کے سبب حاجی،   نمازی،  روزہ دار اور تہجُّد گزار ہونے کے باوُجُودوہ جہنَّم میں جا پڑے گا ۔    وَالْعِیاذ بِاللہ تعالٰی۔     (اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ) ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ جس کے لئے چاہے گا محض اپنے فضل و کرم سے صُلح کرائے گا ۔    مزید تفصیلات کیلئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہکا مطبوعہ رسالہ ’’ ظلم کا ا نجام‘‘  مُلاحظہ فرما لیجئے۔   حُقُوقُ الْعِبادکے مُتَعلِّق ایک اور عبرت انگیز حکایت پڑھئے اور خوفِ خدا وندی سے لرزیئے:  

قیامت کا خوف دلانے پر  بے ہوش ہوگئے

          سیِّدُنا مِسْعَر بِن کِدامعلیہ رَحمَۃُ اللہ السلام سے روایت ہے:  ایک روز ہم امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ کہیں سے گزر رہے تھے کہ بے خیالی میں امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا مبارَک پاؤں ایک لڑکے کے پَیْر پر پڑ گیا،   لڑکے کی چیخ نکل گئی اور اُس کے منہ سے بے ساختَہ نکلا:  یَا شَیْخُ اَلَاتَخَافُ الْقِصَاصَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ!   ’’یعنی جناب !   کیا آپ قِیامت کے روز لئے جانے والے انتِقام خُداوندی سے نہیں ڈرتے؟  ‘‘   یہ سنتے ہی امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پر لرزہ طاری ہوگیا اور غش کھا کر زمین پر تشریف لائے،    جب کچھ دیر کے بعد ہوش میں آئے تو میں نے عرض کی کہ ایک لڑکے کی بات سے آپ اس قَدَر کیوں گھبرا گئے؟  فرمایا:  ’’ کیا معلوم اُس کی آواز غیبی ہِدایت ہو۔   ‘‘  (اَ لْمَناقِب  لِلْمُوَفَّق ج ۲ ص۱۴۸)

شہا عَدو کا ستم ہے پَیہَم ،  مدد کو آؤ امامِ اعظم

سوا تمہارے ہے کون ہمدم ،  امامِ اعظم ابو حنیفہ  (وسائلِ بخشش ص ۲۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دوسروں کو اِیذا دینے والو خبردار!  

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یہ تصوُّر بھی نہیں کیا جاسکتا کہ امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم جان بوجھ کر کسی پرظُلم کریں اور اُس کا پَیْر کُچل دیں ،   بے خیالی میں سر زد ہونے والے فِعل پر بھی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب بے ہوش ہوگئے اور ایک ہم لوگ ہیں کہ جان بوجھ کر نہ جانے روزانہ کتنوں کو طرح طرح سے اِیذائیں دیتے ہوں گے ،   مگر افسوس!  ہمیں اِس بات کا اِحساس تک نہیں ہوتا کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قِیامت کے روز ہم سے انتِقام لیا تو ہمارا کیا بنے گا!

فُضُول باتوں سے نفرت

          ایک بار خلیفہ ہارونُ الرشیدنے سیِّدُنا امام ابو یوسُف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کی:  حضرتِ سیِّدُنا امامِ ابو حنیفہ  رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اَوصاف   (یعنی خوبیاں ) بیان کیجئے۔  فرمایا:  امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نہایت ہی پرہیزگار تھے،   ممنوعاتِ شَرعی سے بچتے تھے،   اہلِ دنیا سے پرہیز فرماتے،  فُضُول باتوں سے نفرت کرتے،   اکثر خاموش رَہ کر   (دین اور آخِرت کے بارے میں )  سوچتے رہتے،   جب کوئی مسئلہ   (مَس۔   ءَ۔   لَہ)  پوچھتا تو معلوم ہونے پر جواب دے دیتے ورنہ خاموش رہتے،   ہر طرح سے اپنے دین و ایمان کی حفاظت فرماتے،    ہر ایک   (مسلمان)  کا ذِکر بھلائی کے



Total Pages: 14

Go To