Book Name:Ashkon Ki Barsat

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ  (۴) وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  (۵)    (پ۲۶،   الحجرات: 4-5)

ترجَمۂ کنز الایمان: بیشک وہ جو تمہیں حُجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عَقل ہیں ۔   اور اگر وہ صَبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔    

کیا مرتد استاد کی بھی تعظیم کرنی ہوگی؟  

       د ینی اُستاد کے احتِرم کے بارے میں جوبیان کیا گیا وہ صِرف صحیحُ الْعقیدہ مسلمان غیرِ فاسق استاذ کیلئے ہے اگرمعاذَاللہ اُستاد غیر مسلم یا مُرتد ہے تو اُس کا کوئی احتِرام نہیں بلکہ ایسوں سے پڑھنا ،   ان کی صحبت میں رہنا خود اپنے ایمان کیلئے خطرناک ہے ۔   مرتد اُستاد کے شاگرد پر حق کے بارے میں  میرے آقا اعلیٰ حضرت،  اِمامِ اَہلسنّت ،   مولانا شاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رَحمۃُ الرَّحمٰن کی خدمتِ بابَرَکت میں سُوال ہواتو فرمایا:  اِس قسم کے استاذ کا شاگرد پر وُہی حق ہے جو   ( کہ فرِشتوں کے سابِقہ استاد)  شیطانِ لعین کا فرِشتوں پر ہے کہ فرشتے اُس پر لعنت بھیجتے ہیں اور قِیامت کے دن   ( اپنے استادکو)  گھسیٹ گھسیٹ کر دوزخ میں پھینک دیں گے۔     (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۷۰۷) بَہَرحال بیان کردہ   ’’دو۲نوں حِکایتوں  سے ‘‘ بالخصوص وہ طَلَبہ درس حاصِل کریں جو اپنے مسلمان دینی اَساتِذہ کا احتِرام کرنے کے بجائے اُن کی توہین کرتے اور پیچھے سے اُن کا مذاقاُڑاتے پھرتے ہیں ،   ایسے طلبہ کو علمِ دین کی اصل روح کیوں کر حاصل ہو سکتی ہے!  مولائے روم علیہ رحمۃ القیوم فرماتے ہیں :      ؎

از خدا جوئیم توفیقِ ادب                     بے ادب محروم ماند از فضلِ رب

بے ادب تنہا نہ خود را داشت بد           بلکہ آتَش دَر ہمہ آفاق زد

  ( ہم اللہ تعالٰی سے حُصولِ ادب کی توفیق مانگتے ہیں کیونکہ بے ادب رب تعالیٰ کے فضل سے محروم رہتا ہے۔   بے ادب نہ صرف اپنے آپ کو بُرے حالات میں رکھتا ہے بلکہ اس کی بے ادبی کی آگ تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے)   (فتاویٰ رضویہ ج ۲۳ ص ۷۰۹)  

   ’’ اُستاذ تو رُوحانی باپ ہوتا ہے‘‘        کے بائیس حُرُوف کی نسبت سیاساتِذہ کی غیبتوں کی 22مثالیں

        دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  505 صَفحات پر مشتمل کتاب ،     ’’ غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘  صَفْحَہ419اورصَفْحَۂ بَعدِیَہ پر ہے: علمِ دین پڑھانے والا استاذ انتہائی قابلِ احترام ہوتا ہے مگر بعض نادان طَلَبہ اپنے اساتِذہ کے نام بگاڑتے ،   مذاق اُڑاتے ہوئے نقلیں اُتارتے ،    تہمتیں لگاتے ،   بدگمانیاں اور غیبتیں کرتے ہیں ،   ان کی اصلاح کی خاطِر اساتذہ کی غیبتوں کی 22مثالیں حاضِر کی ہیں : ٭  آج استاذ صاحِب کا موڈ آف ہے لگتا ہے گھر سے لڑ کر آئے ہیں ٭  یہ فُلاں مدرَسے میں پڑھاتے تھے ٭  وہاں تنخواہ کم تھی ،   زیادہ تنخواہ کیلئے ہمارے مدرسے میں تشریف لائے ہیں ٭   توبہ!   توبہ !  ہمارے استاذ  ( یا قاری صاحِب)  بالغات  (یعنی بڑی لڑکیوں )  کو ٹیوشن پڑھانے ان کے گھر جاتے ہیں ٭ اُستاذ صاحب پڑھانے میں مجھ غریب پر کم مگر فُلاں مالدار کے لڑکے پر زیادہ توجُّہ دیتے ہیں ٭  ہمارے اُستاذ صاحِب جب دیکھو مجھے ذلیل کرتے رہتے ہیں ٭  طَلَبہ پر بِلاوجہ سختی کرتے ہیں ٭  پڑھانا آتا نہیں ،  اُستاذ بن بیٹھے ہیں !  ٭  دیکھا ! آج اُستاذ صاحِب میرے سُوال پر کیسے پھنسے! ٭  استاذ صاحِب کوکتاب کے حاشئے سے مُتَعلِّق کوئی سُوال پوچھ لو تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں ٭  اُستاذ صاحِب نے اس سُوال کا جواب غَلَط دیا ہے ،  آؤ میں تمہیں کتاب دکھاتا ہوں ٭ اُستاذ صاحِب کو خود عبارت پڑھنی نہیں آتی اس لئے ہم سے پڑھواتے ہیں ٭  اُستاذ صاحِب کو تو ڈھنگ سے ترجَمہ کرنا بھی نہیں آتا٭   اُستاذ صاحِب سبق کو خواہ مخواہ  (خاہ۔   مَخاہ)  لمبا کردیتے ہیں ٭    فُلاں اُستاذ سے تو میں مجبوراً پڑھ رہا ہوں ،  میرا بس چلے تو ان سے پیریڈ  (یاسبق)  لے کر کسی اور کو دے دوں یا انہیں مدرَسے ہی سے نکال دوں ٭  فلاں اُستاذ تو  ’’بابائے اُردو شُرُوحات‘‘  ہیں ،  اردو شرح سے تیّاری کر کے آتے ہیں ،   جب تک اُردوشَرح نہ پڑھ لیں سبق نہیں پڑھا سکتے ٭   آج  اُستاذ صاحِب سبق تیاّرکر کے نہیں آئے تھے اِسی لئے اِدھر اُدھر کی باتوں میں وقت گزار دیا ٭   جب یہ زیرِ تعلیم تھے توپڑھائی میں اِتنے کمزور



Total Pages: 14

Go To