Book Name:Ashkon Ki Barsat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماہِ رمضان میں 62خَتْمِ قراٰن

          امام ابو یُوسُف رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :  امامِ اعظم عَلَیْہ رَحمَۃُ اللہ الاکرم رَمَضانُ المبارَک میں مَع عیدالفِطْر62قرآنِ پاکخَتْم کرتے،     (دن کو ایک،   رات کو ایک،   تراویح کے اندر سارے ماہ میں ایک اور عید کے روز ایک)  اور مال میں سخاوت کرنے والے تھے،   علم سکھانے میں صابِر  (یعنی صبر کرنے والے)  تھے،   اپنے حق میں کئے جانے والے اعتِراضات کو سنتے تھے،   غصّے سے کوسوں دور تھے۔      (اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان ص۵۰ )

عطا ہو خوفِ خدا خدارا دو الفتِ مصطَفٰے خدا را

کروں عمل سنّتوں پہ ہر دم،   امامِ اعظم ابو حنیفہ  (وسائلِ بخشش ص ۲۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کبھی ننگے سر نہ دیکھا

          ’’تذکِرۃُ الْاَولیاء‘‘ میں ہے،   سیِّدُنا داؤد طائی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :  میں امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی خدمت میں بیس سال حاضر رہا۔   خَلوت ہو یاجَلوت   (یعنی لوگوں کے درمیان ہوں یا ا کیلے) ،   کبھی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ننگے سر دیکھا،   نہ کبھی پاؤں پھیلائے دیکھا۔    ایک بار عرض کی:  حضور!  تنہائی میں توپاؤں پھیلا لیا کریں ۔    فرمایا:  ’’مَجمع میں تو لوگوں کا احتِرام کروں اور تنہائی میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کا احتِرام نہ کروں ،   یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔   ‘‘  (تذکرۃُا لاولیاء ۱۸۸)

اُستاد کے مکان کی طرف پاؤں نہ پھیلاتے

          ’’ اَلْخَیْراتُ ا لْحِسان‘‘   میں ہے : آپ  رضی اللہ تعالٰی عنہ زندَگی بھر اپنے استاذِ محترم سیِّدُنا امام حَمّادعلیہ رحمۃُ اللہ الجواد  کے مکانِ عَظَمت نشان کی طرف پاؤں پھیلا کر نہیں لیٹے حالانکہ آپ  رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مکانِ عالی شان اور استاذِ محترم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم  کے مکانِ عظیم الشّان کے درمِیان تقریباً سات گلیاں پڑتی تھیں !   ( اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان ص۸۲)  

اُستاد کی چوکھٹ پر سر رکھ کر سو جاتے

          سبحٰنَ اللہ!  ہمارے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے استاد کا کس قَدَر احتِرام فرماتے تھے،   جبھی تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  علمِ دین کی دولت سے نِہال و مالا مال تھے ۔    حضرتِ سیِّدنا عبداللہبن عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما  کا بھی اپنے استاذِ محترم کے سا تھ احتِرام مثالی تھا چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت  (مُخَرَّجہ) صَفْحَہ 143تا 144پر میرے آقا اعلیٰ حضرت،  اِمامِ اَہلسنّت،  مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رَحمۃُ الرَّحمٰنکا ارشاد ہے:  حضرتِ سیِّدنا عبداللہ بن عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما  فرماتے ہیں :  جب میں بَغَرضِتحصیلِ علم   (یعنی علمِ دین سیکھنے کے لئے) حضرت ِزَید بن ثابِت رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درِ دولت پرجاتاا وروہ باہَر تشریف نہ رکھتے ہوتے تو براہِ ادب ان  (یعنی اپنے استاذِ محترم)  کو آواز نہ دیتا ،   ان کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ رہتا ۔    ہَوَا خاک اور رَیتا اُڑا کر مجھ پر ڈالتی ،   پھر جب   (اپنے طورپر استاذِ گرامی)  حضرت زید   (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا شانۂ اقدس سے تشریف لاتے   (تو)  فرماتے :   ’’ ابنِ عَمِّ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!    (یعنی اے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چچا کے بیٹے )  آپ نے مجھے اِطِّلاع کیوں نہ کرادی؟ ‘‘  میں عرض کرتا :  مجھے لائق نہ تھا کہ میں آپ کو اطِّلاع کراتا ۔    ‘‘  (مِراۃُ الجِنان للیافعی ج۱ ص۹۹بِتَصَرُّف دارالکتب العلمیۃ بیروت)

          اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے یہ فرمانے کے بعد مزید فرمایا : یہ ادب ہے جس کی تعلیم قرآنِ عظیم نے فرمائی :  

 



Total Pages: 14

Go To