Book Name:Ashkon Ki Barsat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دن  رات  کے معمولات

          جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خواب میں تشریف لا کر سیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی حوصَلہ افزائی فرمائی اورسُنَّتوں کی خدمت کا حکم دیا،   جس کے نتیجے میں ہمارے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا سُنَّتوں کی خدمت کی مصروفیت اور ذوقِ عبادت مُلاحَظہ ہو۔    چُنانچِہ حضرت ِمِسْعَر بِن کِدامعلیہ رَحمۃُ اللہِ السَّلام فرماتے ہیں :  ’’ میں امامِ اعظم ابو حنیفہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی مسجِد میں حاضِر ہوا،   دیکھا کہ نمازِ فَجر ادا کرنے کے بعد آپ رضی اللہ تعالٰی عنہلوگوں کو سارا دِن علمِ دین پڑھاتے  رہتے،   اِس دوران صِرف نَمازوں کے وَقفے ہوئے۔    بعدنَمازِ عشاء آپ رضی اللہ تعالٰی عنہاپنی دولت سَرا   (یعنی مکانِ عالیشان)  پر تشریف لے گئے۔    تھوڑی ہی دیر کے بعد سادہ لباس میں ملبوس خوب عِطْر لگا کر فَضائیں مہکاتے،   اپنا نورانی چِہرہ چمکاتے ہوئے پھر آکر مسجِد کے کونے میں نوافِل میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ صبحِ صادِق ہوگئی،   اب درِ دولت  (یعنی مکانِ عالیشان)  پر تشریف لے گئے اور لباس تبدیل کرکے واپَس آئے اورنَمازِ فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد گزَشتہ کل کی طرح عِشاء تک سلسلۂ درس و تدریس جاری رہا۔   میں نے سوچا آپرضی اللہ تعالٰی عنہ بَہُت تھک گئے ہونگے،   آج رات تو ضَرور آرام فرمائیں گے،   مگر دوسری رات بھی وُہی معمول رہا۔    پھر تیسرا دن اور رات بھی اِسی طرح گزرا۔    میں بے حد مُتَأَثِّر ہوا اور میں نے فیصلہ کرلیا کہ عمر بھر ان کی خدمت میں رہوں گا۔    چُنانچِہ میں نے ان کی مسجِد ہی میںمستقل قِیام اختِیار کرلیا۔    میں نے اپنی مدّتِ قِیام میں ،   امامِ اعظم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو دن میں کبھی بے روزہ اور رات کو کبھی عبادت و نوافِل سے غافِل نہیں دیکھا ۔     ا لبتّہ ظہر سے قَبل آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ تھوڑا سا آرام فرما لیا کرتے تھے۔      (اَ لْمَناقِب  لِلْمُوَفَّق  ج ۱ ص۲۳۰تا۲۳۱ کوئٹہ)  حضرتِ سیِّدُنا ابنِ ابی مُعاذ رحمۃُاللہ تعالٰی علیہ کی رِوایت ہے،   مِسْعَر بِن کِدامعلیہ رَحمۃُ اللہِ السَّلامبے حد خوش نصیب تھے کہ ان کی وفات امامِ اعظم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی مسجِد میں سَجدے کی حالت میں ہوئی۔      (اَیضاً ص ۲۳۱)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔  

جو بے مثال آپ کا ہے تقویٰ،   تو بے مثال آپ کا ہے فتویٰ

ہیں علم و تقویٰ کے آپ سنگم،   امامِ اعظم ابو حنیفہ  (وسائلِ بخشش ص ۲۸۳)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 تیس سال مسلسل روزے

          ’’ اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان‘‘ میں ہے،   آپ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے،   تیس سال تک ایک رَکعَت میں قرآنِ پاک خَتْم کرتے رہے،   چالیس   (بلکہ 45) سال تک عِشا ئکے وُضُو سے فجر کی نَماز ادا کی،   جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قرآنِ پاک خَتْم کئے۔    حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سامنے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پر کسی نے اعتِراض کیا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:  ’’ کیا تم ایسے شخص پر اعتِراض کرتے ہو جس نے پینتالیس سال تک پانچوں نَمازیں ایک ہی وُضو سے ادا کیں اور وہ ایک رَکْعَتمیں پورا قرآن کریم خَتْم کرلیتے تھے اور میرے پاس جو کچھ فِقْہْ ہے وہ انہیں سے سیکھا ہے۔   ‘‘ روایت میں ہے: شُروع میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ ساری رات عبادت نہیں کرتے تھے۔    آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک بار  کسی کو یہ کہتے ہوئے سُن لیا کہ’’ ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ساری رات سوتے نہیں ہیں ۔    ‘‘ چُنانچِہ اُس کے حُسنِ ظن کی لاج رکھتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے تمام رات عبادت شُروع کردی۔     (اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان ص۵۰ )  

تری سخاوت کی دھوم مچی ہے،   مُراد منہ مانگی مل رہی ہے

عطا ہو مجھ کو مدینے کا غم،   امامِ اعظم ابو حنیفہ  (وسائلِ بخشش ص ۲۸۳)

 



Total Pages: 14

Go To