Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

٭  اگر استاذ صاحب کو مخاطب کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو باادب لہجے میں مخاطب کرے ۔

٭  دورانِ سبق اپنے ذاتی مسائل مثلاً بیماری ، تنگ دستی وغیرہ کا رونا رو کر بقیہ طلبہ کو پڑھائی سے محروم نہ کرے بلکہ تدریسی اوقات کے علاوہ استاذ صاحب سے ملاقات کر لے ۔

٭  نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر کسی بھی مضمون سے اکتاہٹ کا اظہار نہ کرے اورنہ ہی اس سبق کے دوران غیر سنجیدہ حرکتیں کرے مثلاً چھت کو گھورنا ، جمائیاں لینا یا بار بار گھڑی دیکھنا وغیرہ۔

٭  اگر استاذ صاحب بشری تقاضے کے تحت کبھی غلط ڈانٹ بھی پلادیں تو خاموش رہ کر صبر کا ثواب کمائے ، استاذ کا کینہ ہرگز ہرگز اپنے دل میں نہ بٹھائے اور نہ ہی اِس وجہ سے مدرسہ چھوڑ کر جائے ۔

٭  اگر حوصلہ افزائی یا انعام کا مستحق ہونے کے باوجود استاذ صاحب حوصلہ افزائی نہ کریں تو اسے اپنے اخلاص کی کمی کا نتیجہ تصوّر کرے ،

٭  اگر اس کے حاصل ِ مطالعہ اور استاذ صاحب کے درسی بیان میں فرق ہوتو استاذ صاحب کو غلط کہنے کی بجائے اپنے فہم کو ناقص تصور کرے ، اور اگر کسی طرح استاذ ہی کی غلطی ثابت ہو تو استاذ محترم سے سبق کے بعد عاجزی وانکساری کے ساتھ احسن انداز میں اشارۃً اس طرح عرض کرے کہ’’ استاذ صاحب اس سبق کا مطلب فلاں حاشیے یا عربی شرح سے مجھے اس طرح سمجھ میں آیا ہے ، اس سلسلے میں کچھ مزید وضاحت فرمادیں ۔‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ استاذ صاحب اپنی غلطی کو محسوس کرلیں گے اور انہیں شرمندگی بھی نہیں ہوگی ۔

 روزمرّہ معمولات کے جدول کی اہمیت

        طالبُ العلم کو چاہئیے کہ اپنا ایک جدول بنائے جس میں ہوم ورک کرنے، اگلے دن کے اسباق تیار کرنے ، خارجی مطالعہ کرنے اورنیکی کی دعوت عام کرنے کے اوقات مقرر کرے ۔اس جدول پر عمل کی برکت سے تمام کام مناسب وقت میں ہوجائیں گے۔   

        اس کے برعکس اگر طالبُ العلم اپنے وقت کو اِدھراُدھر کے کاموں میں ضائع کرنے کی عادت بنا لے تو قوی امکان ہے کہ وہ علم کی برکتوں سے محروم رہ جائے ۔ رسولِ مقبول ، حضرت ِ آمنہ کے پھول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :

        عَلَامَۃُ اِعْرَاضِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَنِ الْعَبْدِ اِشْتِغَالُہٗ بِمَا لَایَعْنِیْہِ ، وَاِنَّ اِمْرَأً ذَھَبَتْ سَاعَۃٌ مِنْ عُمُرِہٖ فِیْ غَیْرِ مَا خُلِقَ لَہٗ لَجَدِیْرٌ أَنْ تَطُوْلَ عَلَیْہِ حَسْرَتُہٗ وَمَنْ جَاوَزَ الْاَرْبَعِیْنَ وَلَمْ یَغْلِبْ عَلَیْہِ خَیْرُہٗ شَرَّہٗ فَلْیَتَجَھَّزْ اِلَی النَّارِیعنی :  بندے کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ  اللہ  تَعَالٰی نے اس سے اپنی نظر عنایت پھیرلی ہے۔اور جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ، اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گیا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عرصہ حسرت دراز کر دیا جائے ۔اور جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو جائے اور اس کے باوجود اُس کی برائیوں پر اس کی اچھائیاں غالب نہ ہوں ، تو اسے جہنم کی آگ میں جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔(الفردوس بماثور الخطاب ، باب المیم، الحدیث ۵۵۴۴ ، ج ۳، ص۴۹۸)

        ہمارے اسلاف  رَحِمَھُمُ اللّٰہُ اپنے وقت کو کس طرح استعمال کیا کرتے تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو :

        حضرت داؤد طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے، ’’جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے، اتنی دیر میں قرآن کریم کی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہوں ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء ، صفحہ ۲۰۱)   

        امام محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمیشہ شب بیداری فرمایا کرتے تھے اور آپ کے پاس مختلف قسم کی کتابیں رکھی ہوتی تھیں جب ایک فن سے اکتا جاتے تو دوسرے فن کے مطالعے میں لگ جاتے تھے ۔یہ بھی منقول ہے کہ آپ اپنے پاس پانی رکھا کرتے تھے جب نیند کا غلبہ ہو نے لگتا تو پانی کے چھینٹے دے کر نیند کو دور فرماتے اور فرمایا کرتے تھے کہ نیند گرمی سے ہے لہذا ٹھنڈے پانی سے دور کرو ۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم ، ص۸۷)

ہوم ورک کس طرح کرے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        استاذصاحب کا دیا ہوا کام عموماًدوطرح کا ہوتا ہے ،

ایک : لکھنے والا              دوسرا :  یاد کرنے والا ۔

        چونکہ لکھنے کی نسبت یاد کرنے میں زیادہ توانائی صرف ہوتی ہے ، لہذا! ہوم ورک کرنے میں ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ جب تھکن غالب ہو لکھنے والا کام کیا جائے اور جب اعصاب پُر سکون ہوں تو یاد کرنے والا کام کیا جائے ۔

(۱)لکھنے والا کام کرنے کا طریقہ :  

        ممکن ہو تو ہر سبق کے لئے الگ الگ رجسٹر یا کاپی بنائے اور اس کے پہلے صفحے پر اپنا نام اور درجہ وغیرہ لکھ دے تاکہ گم ہونے کی صورت میں تلاش کرنے میں زیادہ دشواری نہ ہو ۔ جب بھی ہوم ورک کرے تو رَوانی سے چلنے والے قلم سے کرے ۔ حسبِ ضرورت مارکر وغیرہ سے عنوانات بھی قائم کرے اور سکون کے ساتھ خوش خطی سے ہوم ورک کرے نیز اس کے لکھے ہوئے الفاظ نہ بہت چھوٹے ہوں کہ پڑھنے ہی میں نہ آئیں اور نہ ہی اتنے بڑے کہ بلاحاجت زائد صفحات استعمال ہوجائیں ۔     

سبق یاد کرنے کا بہتر طریقہ :

                 سبق کو زبانی یاد کرنے کے لئے ان اوقات کا انتخاب کریں جب آپ تازہ دم ہو کر سبق یاد کرسکیں ۔اور ہوسکے توایسے مقام کا انتخاب کریں جہاں آپ تنہا بیٹھ کر یکسوئی سے سبق یاد کر سکیں اور اگر ایسی تنہائی میسر نہ ہو اور دیگر طلبہ کے درمیان بیٹھ کر ہی سبق یاد کرنا پڑے توکچھ ایسا کریں کہ آپ کو کچھ نہ کچھ یکسوئی حاصل ہوجائے مثلاً نگاہوں کو جھکائے رکھیں (یعنی آنکھوں کا قفل ِ مدینہ لگالیں )اور چادر کو سر سے اوڑھ لیں (یعنی ایک طرح کی خلوت ِ صغریٰ اپنالیں ) ۔

 



Total Pages: 22

Go To