Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

کبھی وہ یعنی ما نفی کے معنی میں ہوتا ہے ۔

 (۱۳)  مبدل منہ اور بدل کا ترجمہ کرتے وقت غور کریں کہ اگر بدل کل ہو تو پہلے بدل کا پھر مبدل منہ کا ترجمہ کریں گے جیسے جَائَ نِیْ زَیْدٌ اَخُوْکَ (میرے پاس تیرا بھائی زیدآیا ۔)‘‘ اور اگر بدلِ بعض یا اشتمال ہو تو مبدل منہ کو ’’مضاف الیہ ‘‘اور بدل کو ’’مضاف‘‘ تصور کر کے ترجمہ کریں گے جیسے ضَرَبْتُ زَیْدًا رَأْسَہٗ (میں نے زید کے سر کو مارا ۔) اور سُلِبَ زَیْدٌ ثَوْبُہٗ (زید کا کپڑا چھینا گیا ۔) اوراگر بدل ِغلط ہو تو مبدل منہ اور بدل کے درمیان ’’بلکہ‘‘ کا لفظ آئے گا جیسے صَلَّیْتُ الظُّہْرَ الْعَصْرَ (میں نے ظہر …بلکہ عصر کی نماز پڑھی۔)

 (۱۴)عربی میں پہلے موصوف پھر اس کی صفت درج ہوتی ہے جبکہ ترجمہ کرتے وقت پہلے صفت پھر موصوف کا بیان ہوتا ہے ۔اگر صفت حقیقی ہو تو اس کا ترجمہ اس طرح ہوگا  جیسے جَائَ نِیْ الرَّجُلُ الطَّوِیْلُ یعنی میرے پاس ایک لمبا مرد آیا ۔ اگر صفت سببی ہو تو اس کا ترجمہ موصول صلہ کے انداز میں ہوگا مثلاً جَائَ نِیْ رَجُلٌ عَالِمٌ اَبُوْہُ (میرے پاس وہ مرد آیا جس کا باپ عالم ہے ۔)

 (۱۵)   مؤکد تاکید کے ترجمے میں ’’بے شک ‘‘ کا لفظ استعمال کیا جائے گا جیسے زَیْدٌ زَیْدٌ قَائِمٌ (بے شک زید ہی کھڑا ہے ۔)

 (۱۶)   معطوف علیہ معطوف کو ملاکر ترجمہ مکمل کیا جائے گا جیسے جَائَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو (زید اور عمرو آئے ۔)

 (۱۷)   عطف ِ بیان آنے کی صورت میں مبین اور عطف ِ بیان کے درمیان لفظ ’’یعنی‘‘ لایا جائے گا ۔جیسے اَقْسَمَ بِاللّٰہِ اَبُوْحَفْصٍ عُمَرُ (ابوحفص یعنی عمر(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)نے قسم اٹھائی ۔)

 (۱۸)   عربی اسباق میں وَاعْلَمْ کا لفظ اکثر مقامات پر آتا ہے اس کا ترجمہ یوں کیا جاسکتا ہے (جان لو ، جان لیجئے ، یاد رکھئے )     

سبق کا مفہوم کس طرح سمجھیں ؟

        جو طالبُ العلم عربی عبارت پر اعراب جاری کرنے اوراس کا بامحاورہ ترجمہ کرنے پر قادر ہو اس کے لئے تھوڑے سے غور وفکر کے بعد سبق کا مفہوم سمجھناچنداں مشکل نہیں کیونکہ ایسا طالبُ العلم اس سبق پر دئیے گئے عربی حاشئے کا بھی بلاتکلف مطالعہ کرلے گا اور ضرورت محسوس ہونے پر اس کی عربی شرح بھی دیکھنے سے گریز نہیں کرے گا ۔ مذکورہ دونوں امور میں مہارت حاصل کئے بغیر کامل طور پر مفہوم کو سمجھنے کی خواہش خوابوں ہی میں پوری ہوسکتی ہے ۔لہذا! جوطالبُ العلم سبق کو احسن انداز میں سمجھنا چاہتا ہو اسے چاہئیے کہ وہ ماقبل دئیے گئے طریقے پر عمل کرکے اپنی عبارت اور ترجمہ مضبوط کر لے ۔

        عام مشاہدہ ہے کہ عبارت اور ترجمے میں کمزوررہ جانے والے طلبہ اپنی کمزوری دور کرنے کی مخلصانہ کوشش کرنے کی بجائے سستی کا شکار ہو کرناقص قسم کی اردو شروحات کی مدد سے سبق کو تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جس سے وقتی فائدہ تو شاید حاصل ہوجائے لیکن ان کی عربی عبارت کو سمجھنے کی رہی سہی صلاحیت بھی دم توڑ جاتی ہے ۔ پھر بعضوں کو تو اردوشروحات کا ایسا ’’نشہ‘‘لگ جاتا ہے کہ وہ فارغ التحصیل ہونے تک اس پر ’’استقامت پزیر ‘‘رہتے ہیں ۔ ایسے طلبہ اسلامی بھائیوں کو غور کرنا چاہئیے کہ جب وہ مسندِ تدریس پر متمکن ہوں گے تو انہیں سبق کی عربی عبارت بھی حل کروانی ہوگی ، نیز سمجھایا جانے والا سبق بھی عبارت پر منطبق کروانا ہوگا اور طلبہ کی طرف سے کئے جانے والے سوالات کے جوابات بھی دینا ہوں گے ۔ اور اگر طلبہ آپ سے کوئی ایسا سوال کرنے کی’’ جسارت‘‘ کربیٹھے جس کا جواب اردو شرح میں نہ ہواتوکتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ لہذا ! طلبہ کو چاہئے کہ (بالخصوص ابتدائی درجات میں )ہرگز ہرگز اُردوشرح کے محتاج نہ بنیں بلکہ اپنے اندر عربی عبارت سے سبق سمجھنے کی استطاعت پیدا کریں ، ہاں بعض اساتذہ کا یہ کہنا ہے کہ اگروسطانی درجات میں تمام تر عربی سبق سمجھنے کے بعد محض زیادتیٔ فہم کے لئے کسی معیاری اردو شرح کا مطالعہ کرلیا جائے تو نقصان دہ نہیں ہے ۔ و اللہ  تَعَالٰی اعلم

         طالبُ العلم کو چاہئیے کہ اپنا مطالعہ حتی الامکان اس وقت تک جاری رکھے جب تک مکمل سبق سمجھ میں نہ آجائے ۔ اگر تمام تر کوشش کے باوجود سبق کا کوئی حصہ حل نہ ہوپائے تو رب  تَعَالٰی ٰ سے اس کے حل کے لئے دعا کرے ۔پھراگرسبق سمجھ میں آجائے تو فبھا وگرنہ درجہ میں استاذ محترم تو سمجھا ہی دیں گے ۔

درجہ میں سبق کس طرح پڑھے ؟

طالبُ العلم کو چاہئے کہ

٭  پڑھائی کے دوران جتنا ممکن ہوتعظیمِ علم کی نیت سے دوزانو ہو کر بیٹھے ۔

٭  بلاحاجت ِ شدیدہ ٹیک نہ لگائے۔

٭  دوران ِ سبق ساتھی طالبُ العلم سے بات چیت نہ کرے ، اگر کوئی دوسرا اسے بلاوجہ مخاطب کرے تو نرمی سے منع کردے۔

٭  دل ودماغ کے ساتھ استاذمحترم کی طرف متوجہ رہے ،

٭  استاذ صاحب کے درسی بیان کے اہم نکات ڈائری وغیرہ میں نوٹ کرتا جائے۔

٭  اگر استاذ صاحب کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو آدابِ سوال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سوال کرے ، سوال پوچھنے کے چند آداب یہ ہیں ،

   (۱)  استاذ کے درسی بیان کے دوران سوال نہ کرے ، ہوسکتا ہے کہ اس کی بات کا جواب آگے آرہاہو ۔

   (۲)  سوال سبق سے ہٹ کر نہ ہو نیز ہوسکتا ہے کہ اس کا جواب حاشیے میں موجود ہو ۔

  (۳)  وہ سوال دیگر طلبہ کی ذہنی سطح کے مطابق ہو بصورت ِ دیگر تعلیمی اوقات کے بعد استاذ سے دریافت کر لے ۔

  (۴)  وہ سوال استاذ کا امتحان لینے کے لئے قطعاًنہ ہو اور نہ ہی کثرت ِ مطالعہ کی دھاک بٹھانا مقصود ہو ۔

٭  اگر استاذ صاحب عربی عبارت پڑھنے کی عام پیش کش کریں تو مکمل خود اعتمادی کے ساتھ اپنے آپ کو پیش کرے ۔

٭  اگر استاذ صاحب کو ئی سوال کریں تو جواب معلوم ہونے کی صورت میں بلاجھجھک اپنا ہاتھ بلند کردے ، لیکن اگر استاذ صاحب کسی اور کو جواب دینے کے لئے کہہ دیں تو یہ برا بھی نہ مانے ۔

 



Total Pages: 22

Go To