Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

(1)  حروفِ اصلیہ نکالتے وقت تعلیل شدہ یا تخفیف شدہ صیغے کو اس کی اصلی حالت پر ضرور واپس لے جائیں وگرنہ شدید دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔

 (2)  لغت میں تقریباًہر باب کے معانی دئیے ہوتے ہیں مثلاً ثلاثی ، ثلاثی مزید فیہ (مثلاً باب اِفْعَال، تَفْعِیْل ، اِفْتِعَال ، اِنْفِعَال ، اِسْتِفْعَالوغیرہ)، مصدر اور دیگر اسماء وغیرہ ۔ اس لئے لغت دیکھنے والے کوچاہئیے کہ اپنے مطلوبہ باب ہی کو دیکھے مثلاً اگر  اِجْتَنَبَکا معنی دیکھنا ہے تو محض جَنِبَ کا معنی دیکھنے ہی پر اکتفاء نہ کرے بلکہ آگے بھی نظر دوڑائے تو اسے اِجْتَنَبَ کا معنی باب ِ افتعال کے تحت لکھا ہوا مل جائے گا ۔

 (3)  بسا اوقات کوئی لفظ ایک سے زائد ابواب سے آتا ہے ۔ ایسی صورت میں ہر باب کے تحت دیا گیا معنی اپنی عبارت میں رکھ کر دیکھئے پھر جو معنی سیاق وسباق کے اعتبار سے درست لگے اسی کو منتخب کر لیجئے ۔

 (4) اسی طرح بعض الفاظ کے معنی مختلف حروفِ جر کے ساتھ مختلف ہوتے ہیں ، ایسی صورت میں دیکھ لیں کہ آپ کی کتاب میں مطلوبہ لفظ کس حرفِ جر کے ساتھ استعمال ہوا ہے ۔ پھر لغت میں اس لفظ کا معنی اسی حرف ِجر کے ساتھ دیکھئے ۔‘‘

 (5) بعض طلبہ الفاظ کے معانی لُغت میں دیکھنے کی بجائے قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہیں اور اپنی مرضی کا معنی مراد لے لیتے ہیں جبکہ حقیقت میں اس لفظ کا معنی کچھ اور ہوتا ہے ۔ اس لئے راہِ سلامت یہی ہے کہ جس لفظ کا معنی معلوم نہ ہو اس کے لئے لغت دیکھ لی جائے ۔

مدینہ : اس طریقے کی عملی مشق کے سلسلے میں راہنمائی کے لئے اپنے اساتذہ سے رجوع کریں ۔

        جب طالبُ العلم عبارت کے ہر ہر لفظ کی ترکیبی حیثیت اور معنی کے بارے میں شرح ِصدر حاصل کرچکے تو اب پہلے جملے کا ترجمہ کرے ۔ عربی زبان میں عموماً پہلے فعل ہوتا ہے پھر فاعل اور اس کے بعد مفعول ہوتا ہے ۔ جب کہ اردو زبان میں پہلے فاعل پھر مفعول اور اس کے بعد فعل ہوتا ہے ۔ لہذا عربی زبان میں بیان کردہ بات کو اُردو زبان میں منتقل کرنے کے لئے لفظی ترجمے پر مہارت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اردوزبان کے اسلوب کا بھی خیال رکھنا ہوگا جس کے نتیجے میں آپ کا کیا ہوا ترجمہ خود بخود بامحاورہ بن جائے گا ۔ مثلاً   ضَرَبَ زَیْدٌ بَکْراً    کا لفظی ترجمہ ہے ’’مارا زید نے بکر کو۔‘‘ ، لیکن یہ ترجمہ اردوزبان کے محاورے سے میل نہیں کھاتا لہذا بامحاورہ ترجمہ یوں ہوگا ، ’’ زید نے بکر کو مارا ۔وعلی ھذا القیاس

مختلف الفاظ کے ترجمے کا انداز :  

(۱)  مضاف اور مضاف الیہ کا ترجمہ کرتے وقت پہلے مضاف الیہ کا ترجمہ کریں پھر مضاف کا اور ان کے درمیان ’’کا، کی ، کے ، میرا ، میری ، میرے ، تمہارا ، تمہاری، تمہارے ‘‘جیسے الفاظ کے ذریعے ربط ملائیں ۔ مثلاً غُلَامُ زَیْدٍ (زید کا غلام)، غُلَامِیْ (میرا غلام)، غُلَامُکَ (تمہارا غلام )وغیرہم

 (۲)  بعض اوقات مضاف مضاف الیہ کے ترجمہ میں ’’کا، کی ، کے وغیرہ‘‘ نہیں آئے گا مثلاًذُوْ مَالٍ (مال والے )، اَصْحَابُ الْجَنَّۃِ(جنت والے)

 (۳)  بعض اوقات ترجمہ مضاف ہی سے شروع ہوگا ، (i)جب لفظ کل کسی اسم کی طرف مضاف ہو جیسے کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ (ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔)(ii) جب تین سے دس تک کے اعداد اور مائۃ کا ترجمہ ان کے معدودات کے ساتھ کیا جائے جیسے ثَلَاثَۃُ اَشْجَارٍ (تین درخت )، مِائَۃُ عَامِلٍ (سو عوامل )

 (۴)  غائب کی ضمیر کا ترجمہ کرتے وقت مرجع بولنے سے ترجمے میں مزید نکھار آجاتا ہے ، جیسے فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ (وہ یعنی  اللہ  جسے چاہے بخش دے ۔)

 (۵)  موصول صلہ کا ترجمہ کرتے وقت پہلے موصول بولیں پھر فعل اور اس کے بعد لفظ ِ’’جس یا جو ‘‘ سے ملا کر صلہ کا ترجمہ کریں جیسے جَائَ نِی الَّذِیْ ھُوَ ضَرَبَکَ (میرے پاس وہ شخص آیا جس نے تجھے مارا۔)

 (۶) جار مجرور کا ترجمہ کرتے وقت پہلے مجرور ‘ پھر حرفِ جر کا ترجمہ کریں اور یہ ضرور دیکھ لیں کہ مذکورہ حرفِ جر یہاں کس معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ (  اللہ  تَعَالٰی نے ان کے دلوں پر مہر کردی ۔) اور کَتَبْتُ بِالْقَلَمِ (میں نے قلم کی مدد سے لکھا ) یہاں ب استعانت کے معنی میں استعمال ہوئی ہے ۔

 (۷)  مفعولِ مطلق کا ترجمہ کرتے وقت اس کی اقسام کو ضرور پیش ِ نظر رکھاجائے جیسے قَامَ زَیْدٌقِیَامًا میں قِیَامًا   مفعولِ مطلق تاکیدی ہے اور اس کا ترجمہ یوں  ہوگا(زید حقیقۃً کھڑا ہوا )، جَلَسْتُ جِلْسَۃَ الْقَارِیْ میں جِلْسَۃَ الْقَارِیْ مفعولِ مطلق نوعی ہے اور اس کا ترجمہ یوں ہوگا ، (میں قاری کے انداز میں بیٹھا۔) ضَرَبْتُہٗ ضَرْبَۃً میں ضَرْبَۃً مفعولِ مطلق عددی ہے اور اس کا ترجمہ یوں ہوگا ، (میں نے اسے ایک مرتبہ مارا ۔)‘‘

 (۸)  مفعولِ معہ کا ترجمہ فعل کے معمول (فاعل یا مفعول ) سے ملا کر کیا جائے گا جیسے جَاءَ الْبَرْدُ وَالْجُبَّاتِ (سردی جُبّوں کے ساتھ آئی ۔)

 (۹)  مفعولِ لہ کے ترجمے میں عموماً’’ کے لئے ، کی وجہ سے ، کی خاطر ، کے سبب ‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں مثلاً ضَرَبْتُہٗ تَادِیْباً کا ترجمہ یوں ہوگا ، میں نے اسے ادب سکھانے کے لئے مارا ، یا، میں نے اسے ادب سکھانے کی خاطر مارا ۔

 (۱۰)  حال کا ترجمہ کرتے وقت عموماً’’ حالانکہ ، جبکہ ، اس حال میں ، کی حالت میں ‘ ‘ کے لفظ استعمال ہوتے ہیں مثلاً جَائَ نِیْ زَیْدٌ رَاکِباً کا ترجمہ زید میرے پاس سوار ی کی حالت میں آیا ۔ اور لَقِیْتُ زَیْدًا رَاکِبَیْنَ یعنی میں زید سے اس حال میں ملاکہ ہم دونوں سوار تھے ۔أَضَرَبْتَہٗ وَھُوَ مَرِیْضٌ ترجمہ :  کیاتم نے اسے مارا حالانکہ وہ بیمار ہے ۔۔یا۔۔ کیا تم نے اسے بیماری کی حالت میں مارا ۔

 (۱۱) تمییز کا ترجمہ کرتے وقت عموماً ’’بطورِ، کے طور پر، ازروئے ، ہونے کے اعتبار سے ، باعتبارِ‘‘ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ مثلاً طَابَ زَیْدٌ اباً کا ترجمہ یوں ہوگا، … زید بطورِ باپ اچھا ہے ، زید باپ کے طور پر اچھا ہے ، زید باپ ہونے کے اعتبار سے اچھا ہے ، زید باعتبار ِ باپ اچھا ہے ۔

 (۱۲)   قد جب ماضی پر داخل ہوتو اس کا معنی ’’تحقیق ‘‘ کریں گے جیسے قَدْ ضَرَبَ زَیْدٌ ، تحقیق زید نے مارا ۔اور جب مضارع پر داخل ہو تو اس کا معنی ’’کبھی ‘‘ کریں گے جیسے قَدْ یَکُوْنُ فِیْ مَعْنَی النَّفْیِ ،



Total Pages: 22

Go To