Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

وقت ِمطالعہ کو اِن اسباق پر تقسیم کر لے ۔ اس تقسیم کا فائدہ یہ ہوگا کہ کم سے کم وقت میں تمام مضامین کی تیاری ممکن ہوسکے گی ۔

         عالم کورس (درس ِ نظامی )کرنے والے طلبہ کو عموماً اردو اور عربی اسباق تیارکرنا ہوتے ہیں ، لہذا ذیل میں ہردوقسم کے اسباق کی تیاری کا طریقہ پیش کیا جارہا ہے ۔

اردو سبق کی تیاری کا طریقہ :  

        مطالعہ کا آغاز کرتے ہوئے اولاً سبق کااول تا آخر مطالعہ کریں پھر اگر کوئی ایسا لفظ دکھائی دے جس کا معنی آپ نہیں جانتے تو لُغت (ڈکشنری )سے اس کا معنی دیکھ لیں یا کسی سے پوچھ لیں ۔پھر سبق کے شروع سے ایک ایک جملہ یا پیراگراف پڑھتے جائیں اور اس کے مفہوم پر غور کرتے جائیں ۔ جب ایک اردو سبق کا مطالعہ مکمل ہوجائے تو دوسرے اردو سبق کی طرف بڑھ جائیں ۔

عربی سبق کی تیاری کا طریقہ :

        کسی بھی مضمون سے تعلق رکھنے والے عربی سبق میں طلبہ کو کم از کم تین چیزیں حاصل ہونا بے حد ضروری ہیں ۔

         پہلی :  عبارت کے ہر ہر لفظ پر درست اعراب جاری کرنے کی صلاحیت ،

        دوسری :  اس عبارت کا بامحاورہ ترجمہ کرنے کی قدرت ، …اور

         تیسری :  اس عبارت کے مفہوم پر آگاہ ہونا۔

  سطورِ ذیل میں ان تینوں صلاحیتوں کے حصول کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ،

(۱)  الفاظ پر اعراب کیسے جاری کریں ؟

        یاد رکھئے کہ اعراب کی تبدیلی کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے لفظ کی بنیادی طور پر دوقسمیں ہیں ، (۱) مبنی اور (۲) معرب ۔ مبنی کا تلفظ ہر مقام پر ایک جیسا ہوگا جبکہ معرب پر اعراب جاری کرنے کے لئے سب سے پہلے اس کے عامل پر غور کرنا پڑے گا ۔وہ عامل یاتو معنوی ہوگا یا لفظی ، اگر عامل معنوی ہو تو اس لفظ کو حالت ِ رفعی میں پڑھا جائے گا اور اگر عامل لفظی ہو تو دیکھا جائے گا کہ یہ اپنے مدخول کو رفع دے رہا ہے ۔۔یا۔۔ نصب ۔۔یا۔۔ پھر جَر، توجو اس عامل کا تقاضاہو ‘اس کے مطابق اس لفظ کو حالت ِ رفعی یا نصبی یا جری میں پڑھا جائے گا ۔ اب رہایہ سوال کہ اس لفظ کی تینوں حالتوں (یعنی رفعی ، نصبی اور جری) کا تلفظ کیا ہوگا ؟تو اس کے لئے اسم متمکن (یعنی اسمِ معرب) کی اعرابی حالتوں کا ذہن نشین ہونا ضروری ہے ۔ مثلاً ہمیں  ضَرَبَ زَیْدٌ پر اعراب جاری کرنا مقصود ہو تو  ضَرَبَ کے مبنی ہونے کی وجہ سے اسے مبنی برفتح  ضَرَبَ ہی پڑھا جائے گا جبکہ زَیْد  معرب ہے لہذا! اس کے عامل پر غور کیا گیا تو اس پر  ضَرَبَ عاملِ لفظی داخل ہے اور یہ زَیْد  کو رفع دے رہا ہے چنانچہ اس کے تقاضے کے مطابق زَیْد  کو حالت ِ رفعی میں پڑھا جائے گا اور زَیْد کی حالت رفعی ضمہ کے ساتھ آتی ہے پس اسے زَیْدٌ  پڑھا جائے گا ۔

        مذکورہ اَنداز میں مشق کرنے کی صورت میں کچھ ہی عرصہ میں آپ ہر قسم کی عربی عبارت پر اعراب جاری کرنے میں مہارت حاصل کرلیں گے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  (ان امور کی تفصیل کے لئے معیاری کتب ِ نحویہ کا مطالعہ فرمائیں ۔ )

(۲)  ترجمے میں مہارت کس طرح حاصل کریں ؟

  بہترین ترجمے کے لئے بنیادی طور پر دو باتوں کا جاننا بے حد ضروری ہے ،

 (۱)  ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے ترکیبی تعلق ،

 (۲ مشکل لفظ کے مرادی معنٰی کی تعیین …

        ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے ترکیبی تعلق جوڑنا اس لئے ضروری ہے کہ جب تک اس لفظ کی حیثیت ہی متعین نہیں ہوگی کہ یہ لفظ فاعل بن رہا ہے یا مفعول ؟ تمییز بن رہا ہے یا حال ؟(علی ھذا القیاس )تو اس کا ترجمہ کس طرح ممکن ہے ۔ الفاظ کو ترکیبی طور پر آپس میں جوڑنے کا طریقہ لفظ پر اعراب جاری کرنے کے طریقے کے ضمن میں بیان کیاجاچکا ہے جبکہ مشکل لفظ کا مرادی معنٰی متعین کرنے کے لئے لغت (ڈکشنری )کی مدد لینا ناگزیرہے ۔ عام مشاہدہ ہے کہ بالخصوص ابتدائی درجات کے طلبہ لغت کے استعمال میں انتہائی دقت محسوس کرتے ہیں لہذا لغت میں کسی لفظ کا معنٰی دیکھنے کا مفید طریقہ ملاحظہ فرمائیں :  

لغت میں کسی لفظ کا معنٰی دیکھنے کا مفید طریقہ :

        ’’جب بھی کسی لفظ کا معنٰی دیکھنا ہو تو سب سے پہلے اس لفظ کے حروف ِاصلیہ متعین کریں ۔ حروفِ اصلیہ کی پہچان کے لئے صرفیوں نے تین حروف ف، ع اورل مقرر کئے ہیں ۔اب جس لفظ کے حروفِ اصلیہ تلاش کرنا مقصود ہو ف، ع ، ل کو بھی اسی وزن پر اُتار لیں ۔ اب جو الفاظ  ف، ع اورل کے مقابلہ میں آئیں گے وہ اس لفظ کے حروف ِ اصلیہ کہلائیں گے جبکہ بقیہ حروف زائد ہوں گے۔مثلاً ضَرَبَ  بروزن فَعَلَ میں ض ، ر اور ب ف ، ع اورل کے مقابلے میں آرہے ہیں چنانچہ یہی ضَرَبَ کے حروفِ اصلیہ ہیں ، اسی طرح اَکْرَمَ بروزن اَفْعَلَ میں ک، ر اور م  حروفِ اصلیہ ہیں جبکہ ہمزہ زائد ہے ۔ یاد رکھئے کہ حروفِ اصلیہ کی پہچان کے سلسلے میں وزن کرنے کے لئے عموماً ماضی معروف کی گردان کا پہلا صیغہ یعنی واحد مذکر غائب استعمال کیا جاتا ہے ۔

        جب آپ حروفِ اصلیہ تلاش کرچکیں تو لغت کھولئے اورہر صفحہ پر پہلی سطر میں لائن سے اوپر دئیے گئے الفاظ سے اِن حروف کا پہلا حرف ملائیے ، جب پہلا حرف مل جائے تو دوسرا پھر تیسرا حرف ملائیے ۔ جب تینوں حروف ِاصلیہ پہلی لائن میں مل جائیں تو اب لائن سے نیچے کالم میں دئیے گئے الفاظ پر نظر دوڑائیے اور اپنا مطلوبہ فعل یا اسم تلاش کیجئے۔ پھر اس کے سامنے لکھے گئے معنی کو دیکھئے ۔ مثلاًآپ کو اِجْتَنَبَ کا معنی دیکھنا ہے تو سب سے پہلے اوپر دئیے گئے طریقے کے مطابق حروفِ اصلیہ نکالئے جو کہ ج ، ن  اور ب ہیں ۔ اب لغت میں وہ صفحہ تلاش کریں جس پر ان حروف پر مشتمل الفاظ دئیے گئے ہیں پھر اِجْتَنَبَ کا معنی دیکھئے تو’’ بچنا، دور رہنا ‘‘ لکھا ہوگا ۔

 لُغت دیکھنے کے سلسلے میں چند ضروری باتیں :

 



Total Pages: 22

Go To