Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

(۴۲)غم زدہ اسلامی بھائی کی غم خواری کروں گا ۔

 (۴۳)بیمار اسلامی بھائی کی عیادت کروں گا۔

 (۴۴) آپس میں ناراض ہوجانے والے اسلامی بھائیوں میں صلح کروانے کی کوشش کروں گا ۔

  (۴۵)   اگر کسی اسلامی بھائی کو مالی مدد کی ضرورت ہوئی تو استاذ صاحب کے مشورے یا ان کے ذریعے سے اس کی مالی مدد کر کے راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کرنے کا ثواب لوں گا ۔

  (۴۶) اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش کروں گا ۔

 (۴۷)  اگر ممکن ہوا تو کھانے وغیرہ کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کروں گا ۔

 (۴۸، ۴۹)  اگر کبھی تنگ دستی نے آگھیرا تو بھی بلاضرورتِ شرعی کسی سے سوال نہیں کروں گا بلکہ ایسی صورت میں قرض لے کر اپنی مشکل حل کروں گا اور قرض حسب ِ وعدہ واپس بھی لوٹا دوں گا ۔

 (۵۰)  اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع نہیں کروں گا بلکہ پڑھائی اور مدنی کاموں میں مشغول رہوں گا ۔

 (۵۱) اپنے علم پر عمل کرنے کے لئے مدنی انعامات پر عمل کروں گا ۔

 (۵۲) ہرمدنی ماہ کی ابتدائی تاریخوں میں اپنا رسالہ مدنی انعامات کے ذمہ دار کو جمع کروا دیا کروں گا ۔

(۵۳)مدنی مرکز کی طرف سے دئیے گئے جدول کے مطابق عاشقان ِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کرتا رہوں گا ۔   

کامیاب طالبُ العلم کون؟

        نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَکے فرامین ِمبارکہ اور بزرگانِ دین  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم  کے ارشادات کی روشنی میں وہی طالبُ العلم کامیاب کہلائے گا جو دورانِ تعلیم بالخصوص اور بعدِ تکمیل ِ تعلیم بالعُموم…

        اپنے مقصد (رضائے الہٰی کے حصول )کو ہر لحظہ پیش ِ نظر رکھنے والا ہو، …ضیاعِ وقت سے پرہیز کرنے والاہو، …حسن ِاخلاق کا پیکرہو، …زبان ، نگاہ اور دل کی حفاظت کرنے والاہو، … سوال سے بچنے والا ہو، … عاجزی کا خُوگرہو ، … حرص مال سے کوسوں دورہو، …حریصِ علم ہو، … مرشد ، اساتذہ اور والدین کا ادب کرنے والا ہو، …جامعہ کے نظام الاوقات کی پابندی کرنے والاہو، …حق ِصحبت کا خیال رکھنے والاہو ، …تکالیف وآلام پر صابر ہو، … ذوقِ عبادت رکھنے والا ہو، … نیکی کی دعوت دینے والا ہو ، …نیز اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کرنے والا ہو ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

      ان تمام اوصاف کے حصول کے لئے امیرِاہل ِ سنت ، بانی ٔ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری  مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کے عطا کردہ مدنی انعامات پر عمل کرنابے حدمفید ہے ۔اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ، اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد آپ کا دل گواہی دے گا کہ یہ خود احتسابی کا ایک جامع اور خود کار نظام ہے جس کو اپنا لینے کے بعد نیک بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں  اللہ  تَعَالٰی کے فضل وکرم سے بتدریج دور ہوتی چلی جاتی ہیں اوراس کی برکت سے باجماعت نماز پڑھنے پر استقا مت پانے، پابند ِ سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنتا ہے ۔ مدنی انعامات پر عمل کرنے میں آسانی کے لئے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’نیک بننے اور بنانے کے طریقے‘‘کا مطالعہ نفع بخش ہے ۔

        طالبُ العلم کو چاہئے کہ نہ صرف خود مدنی انعامات پر عمل کرے بلکہ دوسرے طلبہ کو ان مدنی انعامات پر عمل کرتے ہوئے مدنی انعامات کا رسالہ پر کرنے کی وقتا ًفوقتاًترغیب دیتارہے۔ جامعۃ المدینہ میں پڑھنے والے اسلامی بھائی اپنے مدنی انعامات کے رسالے ہر مدنی ماہ (یعنی قمری مہینے ) کے ابتدائی دس دن کے اندر اندراپنے درجہ ذمہ دار کو جمع کروائیں پھر درجہ ذمہ دار اپنے جامعہ کے ذمہ دار کو اور وہ اپنے شہرکے مدنی انعامات کے ذمہ دار کو وہ رسالہ جمع کروا دیں ۔جبکہ دیگر جامعاتِ اہل سنت میں پڑھنے والے اسلامی بھائی اپنے جامعہ میں رسالہ جمع کرکے اپنے علاقے میں دعوت ِ اسلامی کے ذمہ داراسلامی بھائی کو جمع کروانے کا معمول بنا لیں ۔

 اسباق کا پیشگی مطالعہ کس طرح کرے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        اسباق کوبہترانداز میں سمجھنے کے لئے ان کا پیشگی مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ پڑھائے جانے والے اسباق کا مطالعہ کرکے استاذکے سامنے بیٹھنے والے طالبُ العلم کو استاذ کی بات بہت جلد سمجھ میں آجاتی ہے جبکہ بغیر مطالعہ کے آنے والے طالبُ العلم کے چہرے پر ہوائیاں اڑتی دکھائی دیتی ہیں  ۔

        طالبُ العلم کو چاہئے کہ جب وہ اسباق کا مطالعہ کرنے بیٹھے تو بِسْمِ  اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط پڑھ لے کہ نیک کام سے قبل بسم  اللہ  پڑھنا مستحب بھی ہے اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا ، ’’کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَمْ یُبْدَأْ بِبِسْمِ اللّٰہِ فَھُوَ اَقْطَعُ یعنی جو کام بِسْمِ اللّٰہْ سے شروع نہیں کیا جاتا وہ ادھورا رہ جاتا ہے ۔‘‘(کنزالعمال ، کتاب الاذکار ، ج۱، ص۲۷۷، الحدیث :  ۲۴۸۷)

  پھرحمد ِ باری  تَعَالٰی ٰ کی نیت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ   کہہ لے کہ ذکر  اللہ  کا ثواب بھی ملے گا اور حدیثِ پاک میں ہے ،’’کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَمْ یُبْدَأْ بِحَمْدِ اللّٰہِ فَھُوَ اَقْطَعُ  یعنی جو کام  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی حمد سے شروع نہیں کیا جاتا وہ ادھورا رہ جاتا ہے ۔‘‘(کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، ج۳، ص۱۰۷، الحدیث :  ۶۴۵۹)

        اس کے بعد دل ہی میں سہی  اللہ  تَعَالٰی سے دعا کر لینی چاہیے کہ’’ یا  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ ! میں ان اسباق کو سمجھنا چاہتاہوں ، میری مدد فرما اور اس مضمون کو میرے لئے آسان فرما دے۔ ‘‘

        یہ دعا مانگنے کے بعد ایک ایک مضمون کے بارے میں غور کرے کہ استاذ محترم کل اس مضمون کاکتنا سبق پڑھائیں گے اور مجھے اس کی تیاری کے لئے کتنا وقت درکارہے ۔ پھر اپنے



Total Pages: 22

Go To