Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

جمع ہوکر باقاعدہ علمِ دین سیکھتے رہے اور نیکی کی دعوت عام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اِس گئے گزرے دور میں بھی مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی ایک تعداد ہے جو علمِ دین سیکھنے کے لئے درسِ نظامی اور حفظ وناظرہ وغیرہ کا کورس کرتی ہے ۔  

        پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح ہر قیمتی شے چوروں کے لئے کشش رکھتی ہے اسی طرح ہر اس شے پر شیطان کی خصوصی توجہ ہوتی ہے جو اِبن ِ آدم کے لئے اُخروی لحاظ سے قیمتی ہو ۔ یہی وجہ کہ راہِ علم پر چلنے والے مسلمان، نفس وشیطان کی’’ نظرِ عنایت ‘‘ کا مرکز ہوتے ہیں ۔ راہِ علم کے مسافر( یعنی طالب العلم)شیطان پر کس قدر بھاری ہیں ، اس کا اندازہ ان روایات سے لگائیے،

          حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے ، کیونکہ عابداپنے لئے کرتا ہے اور عالم دوسرے کیلئے کرتا ہے ۔‘‘(کنزالعمال ، کتاب العلم ، الحدیث ۲۸۹۰۴، ج۱۰، ص۷۶)

           حضرت سیدنا واثلہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرورِعالم ، نورِ مجسم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’اس عالم سے بڑھ کر شیطان کی کمرتوڑ کر رکھ دینے والی کوئی شے نہیں ہے جو اپنے قبیلہ میں ظاہر ہو ۔‘‘(کنزالعمال ، کتاب العلم ، الحدیث ۲۸۷۵۱، ج۱۰، ص۶۴)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

                شیطان ہر سمت سے طالب ُالعلم پر مسلسل حملہ آور ہوتا رہتا ہے اور اسے اُخروی سعادت سے محروم کروادینے کواپنی کامیابی تصور کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں شیطان کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس راہِ عظیم کا مسافر نہ بن پائے اور اگر کوئی بننے میں کامیاب ہوبھی جائے تو یہ اس طالبُ العلم کوخرابیٔ نیت، مایوسی ، عجب ، تکبر ، سستی اور حرص ِ مال جیسی ہلاکتوں میں مبتلا کرکے اسے علمِ دین کے ثمرات سے محروم کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔لہذا! وہ خوش نصیب اسلامی بھائی اور بہنیں جو علمِ دین سیکھ رہے ہیں یا سیکھنا چاہتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ آنے والی سطور کابغور مطالعہ فرمائیں تاکہ وہ علمِ دین کی زیادہ سے زیادہ برکتیں سمیٹنے میں کامیاب ہوسکیں ۔

حصولِ علم کا مقصد کیا ہونا چاہئے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        علمِ دین حاصل کرنا یقینا بہت بڑی سعادت ہے لیکن یہ علم اسی وقت نافع ثابت ہوگا جب طالب ُالعلم اسے رضائے الہٰی  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے حاصل کرے ۔اس کے برعکس اگر وہ دنیا کی دولت کمانے ، عزت وشہرت حاصل کرنے ، جاہلوں پر رعب جمانے یا علماء سے جھگڑنے کے لئے علم حاصل کرے گا تو طویل اور تھکا دینے والی مشقت میں مبتلاء ہونے کے بعد بھی اس کا دامن خالی کا خالی رہ جائے گا ۔جیسا کہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص رضائے الہی کو حاصل کرنے والا علم، دنیاکا سازوسامان حاصل کرنے کی نیت سے سیکھتا ہے، تووہ جنت کی خوشبوبھی نہیں پاسکتا۔‘‘ (ابوداؤد۔کتاب العلم، الحدیث ۳۶۶۴، ج۳، ص۴۵۱)

          ایک مقام پر ارشاد فرمایا :  ’’جس نے علم کو اس لئے سیکھا کہ اس کے ذریعے علماء سے فخرومباہات کرے گا ۔۔یا۔۔ جاہلوں سے جھگڑا کرے گا۔۔ یا۔۔ لوگوں کی توجہ حاصل کرے گا تواسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔‘‘(کنزالعمال، کتاب العلم، الحدیث، ۲۹۰۵۳، ج۱۰، ص۸۷)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ

        ’’ بے شک قِیامت کے دن لوگوں میں سے جس کے خلاف سب سے پہلے فیصلہ  کیا جائے گا وہ شخص ہوگا کہ جسے (راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں ) شہید کیا گیا ہوگا‘ پس اسے ( اللہ  تَعَالٰی کی بارگاہ میں ) حاضر کیا جائے گا‘  اللہ  تَعَالٰی اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا‘ وہ ان کا اِقرار کرے گا۔  اللہ  تَعَالٰی ارشاد فرمائے گا کہ’’ تو نے ان نعمتوں کے شکر کے طور پر کیا عمل کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا کہ’’ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا۔‘‘  اللہ  تَعَالٰی فرمائے گا، ’’ تو نے جھوٹ کہاکیونکہ تو نے جہادتو اس لئے کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے، سو وہ کہہ لیا گیا ۔‘‘ پھر اس کے بارے میں (جہنّم میں ڈالے جانے کا) حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

        اور (پھر) وہ شخص (حاضر کیا جائے گا کہ) جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآنِ پاک پڑھا‘  اللہ  تَعَالٰی اِسے (بھی) اپنی نعمتوں کی پہچان کروائے گا وہ ان کا اقرار کرے گا۔  اللہ  تَعَالٰی فرمائے گا کہ’’ تو نے ان کے شکرئیے میں کیا عمل کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا کہ ’’میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیری رِضا کی خاطر قرآن پڑھا۔‘‘  اللہ  تَعَالٰی فرمائے گا’’ تو نے جھوٹ کہا‘ تو نے علم اس لئے حاصل کیا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے سو وہ کہہ لیا گیا۔‘‘ پھر اس کے بارے میں (بھی دوزخ میں ڈالے جانے کا) حکم دیا جائے گا‘ پس اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

         اور (پھر) وہ شخص (لایا جائے گا کہ) جس کو  اللہ  تَعَالٰی نے وسعت بخشی اور اسے ہر قسم کا مال عطا فرمایا۔  اللہ  تَعَالٰی اسے (بھی) اپنی نعمتیں یاد دلائے گا‘ وہ ا ن کا اقرار کرے گا۔  اللہ  تَعَالٰی فرمائے گا کہ’’ تو نے ان کے بدلے میں کیا عمل کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا کہ ’’میں نے کوئی ایسی راہ نہ چھوڑی کہ جس میں تجھے مال خرچ کرنامحبوب ہو چنانچہ میں نے اس (راہ) میں تیری رضا کی خاطر مال خرچ کیا۔‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا کہ ’’تو نے جھوٹ کہا‘ کیونکہ تو نے یہ سب اس لئے کیا تھا تاکہ تجھے سخی کہا جائے، سو وہ کہہ لیا گیا۔‘‘ پھر اس کے بارے میں (بھی جہنم کا) حکم دیا جائے گا ‘ چنانچہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا ‘ یہاں تک کہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، الحدیث۱۹۰۵، ص۱۰۵۵)

پڑھنے میں کیا کیا نیِّتیں کرے؟

        جامعۃ المدینہ فیضان ِ مدینہ کے دورۂ حدیث ودرجہ سابعہ کے طلبہ کے ساتھ ہونے والے ایک مدنی مذاکرہ میں شیخ طریقت ، امیرِاہل ِ سنت ، بانیٔ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری  مُدَّظِلُّہُ الْعَالِیْ سے پڑھنے کی نیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے جواباً بہت سی نیّتوں کی طرف توجہ دلائی جن میں سے چند یہ ہیں :  

 (۱) رضائے الہی  عَزَّ وَجَلَّ  کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے اس نیت سے پڑھوں گاکہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ‘‘

 



Total Pages: 22

Go To