Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

کہ اگر علم سے افضل کوئی شے ہوتی تو رسولِ مقبول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ اسی کا حکم ارشاد فرماتے ۔‘‘ (تفسیر کبیر ، ج۱، ص۴۱۰)

اللّٰہ ورسول (عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا کرم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

         علمِ دین سیکھنے والے سعادت مندوں پر  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا کیسا کرم ہوتا ہے ، اس کا اندازہ اِن روایات سے لگائیے :

 (1)  حضر ت قبیصہ بن مخارق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں سرکارِ مدینہ سلطانِ باقرینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَنے مجھ سے فرمایا : ’’اے قبیصہ ! کیسے آئے ؟ میں نے عرض کیا، میری عمر زیادہ ہوگئی اور ہڈیاں نرم پڑ گئیں ہیں لہذا آپ  کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ  مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں جو میرے لئے مفید ہو، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَنے فرمایا :  اے قبیصہ !( علم کی جستجومیں ) تم جس پتھر یا درخت کے قریب سے بھی گزرے اس نے تمہارے لئے استغفارکیا ۔‘‘(مسند اما م احمد ، مسند البصرین / حدیث قبیصہ بن مخا رق ، الحدیث ۲۰۶۲۵ ، ج ۷ ص ۳۵۲ )

 (2) حضرتِ حسن بصری عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ سے مرسلاً روایت ہے کہ نبی اکرم ، رسول مکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جسے اس حالت میں موت آئے کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے علم سیکھ رہا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان ایک درجہ ہو گا (یعنی وہ ان کا قُرب پائے گا ۔)(مشکوۃ المصابیح ، کتاب العلم ، الحدیث ۵۲، ج۱، ص۱۱۵)

   

 (3) حضرتِ صفوان بن عسال المرادی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں رسول  اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ مسجد میں اپنے (دھاری دار)سرخ کمبل سے ٹیک لگائے تشریف فرماتھے، میں نے عرض کیا، یا رسول  اللہ   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  !میں علم حاصل کرنے آیا ہوں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ طالبُ العلم کو خوش آمدید، بیشک طالبُ العلم کو ملائکہ اپنے پروں سے ڈھا نپ لیتے ہیں پھران میں بعض ملائکہ دیگر بعض ملائکہ پر سواری کرتے ہوئے طلب علم کی وجہ سے طالبُ العلم کی محبت میں آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں ۔‘‘  (طبرانی کبیر ، الحدیث۷۲۳ ، ج ۸ ص ۵۴

 (4) حضرتِ سیدنا واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرورِ کونینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَنے فرمایا :

  ’’ جو علم حاصل کرے اور اسے پابھی لے تو اس کے لئے دوہرا ثواب ہے اور جو نہ پا سکے اس کے لئے ایک ثواب ہے ۔ (مشکوۃ المصابیح ، کتاب العلم، الحدیث ۵۶، ج۱، ص۱۱۶)

 (5) حضرتِ سیدنا عبد اللہ  بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَاپنی مسجد میں دومجلسوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ’’ یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے کہ یہ لوگ  اللہ  تَعَالٰی سے دعا کررہے ہیں ، اس کی طرف راغب ہیں ، اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے ۔ اور وہ لوگ خود بھی علم سیکھ رہے ہیں اور نہ جاننے والوں کو سکھا بھی رہے ہیں ، یہی افضل ہیں ، میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ انہیں میں تشریف فرما ہوئے ۔

(مشکوۃ المصابیح ، کتاب العلم ،