Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

۷۔نمازِظہر باجماعت ادا کی جائے اس کے بعد حلقوں میں فیضان ِسنت یا کسی رسالہ سے چار صفحات پڑھنے والے مدنی انعام پر عمل کیا جائے ۔

۸۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد تعلیمی حلقے لگائے جائیں ۔

۹۔دن کے تعلیمی حلقوں کا وقت مارچ ، اپریل ، مئی ، جون ، جولائی ، اگست اور ستمبرمیں ڈیڑھ گھنٹہ جبکہ اکتوبر، نومبر، دسمبر، جنوری اور فروری میں ایک گھنٹہ ہو گا۔

۱۰۔اس کے بعد وقفہ برائے آرام ہو۔

۱۱۔نماز عصر سے بیس منٹ قبل تمام طلبہ بیدار ہوکر نماز عصر باجماعت ادا کریں ۔

۱۲۔نما ز عصر سے مغرب تک اپنی ضروریات سے فراغت حاصل کرلیں ۔

۱۳۔نماز مغرب باجماعت ادا کی جائے پھر رات کا کھانا کھا کر اپنے اپنے مدنی حلقوں میں تمام طلبہ مدنی کاموں کے لیے روانہ ہو جائیں اورنماز عشاء سے ایک گھنٹہ چھبیس منٹ تک واپس جامعہ میں آکر تعلیمی حلقے لگائیں ۔

مدینہ : شیخ طریقت امیرِ اہل سنت بانی ٔدعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں کہ میں جامعۃ المدینہ کے طلبہ و علماء سے بہت، بہت، بہت محبت کرتا ہوں ، مجھے اِن سے بے حد امیدیں وابستہ ہیں ۔دعوتِ اسلامی کے جامعات کا عظیم مقصد ، علمِ دین کو فروغ دے کر شرعی خطوط پر دنیا بھر میں اُمت کی رہنمائی کرنا ہے۔اس کا مؤثر ترین ذریعہ مدنی قافلے ہیں ۔

        مزید فرماتے ہیں کہ جو طلبہ خوش دِلی کے ساتھ دعوتِ اسلامی کا باقاعدہ مدنی کام کرتے ہیں ان سے میرا دِل بے حد خوش ہوتا ہے۔ وہ ان وسوسوں میں نہ پڑیں کہ تعلیم میں حرج ہوتا ہے، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ علمِ نافع میں مزید اضافہ ہوگاکہ مدنی قافلے میں سفر علمِ دین کے حصول کے ساتھ ساتھ باعمل بننے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔یا  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میرے جامعات کے طلبہ کو محض سَند کا نہیں ، عِلم کا عالمِ باعمل بنا۔(اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

۱۴۔رات کے تعلیمی حلقوں کا وقت ستمبر، اکتوبر، نومبر، دسمبر، جنوری ، فروری، مارچ اوراپریل میں رات ساڑھے گیارہ بجے جبکہ مئی ، جون ، جولائی اوراگست میں بارہ بجے تک ہوگا۔

          پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے کہ ’’جدول ‘‘کو پس پشت ڈال دینے میں ہمارا ہی نقصان ہے اور اس پر عمل کرنے میں کثیر فوائد پوشیدہ ہیں ۔ اس لئے ہمیں چاہئیے کہ سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اپنے جامعات میں اس جدول پر عمل کریں ۔

گھر والوں سے کیسے تعلقات رکھے؟

        طالبُ العلم کو چاہئے کہ جامعہ کے اساتذہ ، انتظامیہ اور ساتھی طلبہ کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں سے بھی خوشگوار تعلقات رکھے ۔ اپنے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کا اَدب کرے ۔بے احتیاطی کی صورت میں اس کے گھر والے اس سے بدظن ہوسکتے ہیں کہ ’’کیا تمہیں جامعہ میں یہی سکھایا جاتا ہے؟‘‘

        جو طالبُ العلم اپنے گھر میں مَدَنی ماحول بنانے کا خواہش مند ہو تو اسے چاہئے کہ امیرِاہل ِ سنت ، بانیٔ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کے عطاکردہ اِن مدنی پھولوں پر ممکنہ طور پرعمل کرے ۔

’’گھر میں مدنی ماحول ‘‘کے پندرہ حروف  کی نسبت سے ۱۵مدنی پھول

۱۔گھر میں آتے جاتے بلند آواز سے سلام کریں ۔

۲۔والدیا والدہ کو آتے دیکھ کرتعظیماً کھڑے ہو جائیں ۔   

۳۔ دن میں کم از کم ایک بار اسلائی بھائی والدصاحب اور اسلامی بہنیں ماں کا ہاتھ اور پاؤں چوما کریں ۔

۴۔  والدین کے سامنے آواز دھیمی رکھیں ، ان سے آنکھیں ہرگز نہ ملائیں ۔

۵۔ان کا سونپا ہوا ہر وہ کام جو خلاف شرع نہ ہو فورًا کر ڈالیں ۔

۶۔ماں بلکہ گھر (اور باہر)کے ایک دن کے بچے کو بھی آپ کہہ کر ہی مخاطب ہوں ۔

۷۔ اپنے محلہ کی مسجدکی عشاء کی جماعت کے وقت سے لے کر دوگھنٹے کے اندر سو جایا کریں ، کاش !تہجد میں آنکھ کھل جائے ورنہ کم از کم نماز فجر تو بآسانی (مسجد کی پہلی صف میں باجماعت )میسر آئے اور پھر کا م کاج میں بھی سستی نہ ہو ۔

۸۔ گھر میں اگر نمازوں کی سستی ، بے پردگی ، فلموں ڈراموں اور گانے باجوں کا سلسلہ ہو تو بار بار نہ ٹو کیں ، سب کو نرمی کے ساتھ سنتو ں بھر ے بیانا ت کی کیسٹیں سنائیں ۔ان شا ء  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ’’مدنی ‘‘نتا ئج برآمد ہو ں گے۔

۹۔گھر میں کتنی ہی ڈانٹ بلکہ ما ر بھی پڑے ، صبرصبراور صبر کیجئے۔اگر آپ زبان چلائیں گے تو ’’مدنی ماحول ‘‘ بننے کی کوئی اُمید نہیں بلکہ مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے کہ بے جا سختی کرنے سے بسا اوقات شیطان لوگو ں کوضدی بنا دیتا ہے۔لہذا غصہ ، چڑچڑا پن اور جھاڑنے وغیرہ کی عا دت بالکل ختم کردیں ۔

۱۰۔ گھر میں روزانہ(ابوابِ) فیضا ن سنت کا درس ضرورضرور ضرور دیں یا سنیں ۔

۱۱۔اپنے گھر والوں کی دنیا و آخرت کی بہتری کے لئے دل سوزی کے ساتھ دعا بھی کر تے رہیں کہ دعا ء مومن کا ہتھیار ہے۔

۱۲۔ سسرال میں رہنے والیا ں جہاں گھر کا ذکر ہے وہاں سسرال اور جہاں والدینکاذکر ہے وہا ں ساس اور سسر کے ساتھ وہی حسن سلو ک بجا لائیں جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو۔

 



Total Pages: 22

Go To