Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

ترجمہ کنز الایمان : سمجھنے کے بعد اسے دانستہ بدل دیتے۔(پ : ۱، البقرۃ ۷۵)

(فتاوی رضویہ (قدیم) کتاب الحظر والاباحۃ، ج ۱۰ ، ص ۲۲۹)

دیگر اساتذہ کا احترام :

        جامعہ کے دیگر اساتذہ کا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھے ایسانہ ہو کہ صرف انہی اساتذہ کا احترام کرے جن سے یہ اسباق پڑھتا ہو ۔

دیگر طلبہ سے کیسے تعلقات رکھے؟

        طالبُ العلم کو چاہئیے کہ دیگر طلبہ سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے ۔ انہیں بھی   حاصل ہونے والی حصول ِ علم کی فضیلت کی بنا پر ان کا دل سے احترام کرے اور کسی ساتھی کو اس کی کم علمی یا کندذہنی یا کسی اور وجہ سے حقیر نہ جانے اور استاذ یا انتظامیہ کی طرف سے کسی طالبُ العلم کی حوصلہ افزائی ہونے کے سبب اس سے حسد میں مبتلاء نہ ہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑیوں کو کھا جاتی ہے ۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب الحسد، الحدیث ۴۲۱۰، ج۴، ص۷۴۳)

         ان کے اندازِ تکلم پر ’’تبصرے‘‘ نہ کرے اور نہ ہی کبھی ان کی غیبت کے جرم کا ارتکاب کرے۔ان کی اشیاء بلااجازت استعمال نہ کرے ۔ اپنی ضرورت کی اشیاء ان پر ایثار کر کے ایثار کا ثواب کمائے ۔ اگر کوئی طالبُ العلم بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت وخیرخواہی کرکے اُخروی فوائد حاصل کرے ۔ اگر کسی طالبُ العلم کو کوئی پریشانی لاحق ہوتو اس کی غم خواری کرنے میں بخل نہ کرے ۔

        ان کے ذاتی معاملات میں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کرے ۔اگر کسی طالبُ العلم سے کوئی شکایت ہوتو پہلے اسی سے رجوع کرے اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے اسے سمجھائے ، پھر اگر مسئلہ حل نہ ہو تو اس کی اصلاح کی نیت پیش ِ نظر رکھتے ہوئے استاذ محترم کی بارگاہ میں رجوع کرے۔

انتظامیہ سے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں ؟

        جامعات کا انتظام وانصرام چلانے میں انتظامیہ کی اہمیت مسلّمہ ہے۔لہذا طالبُ العلم کو چاہئیے کہ انتظامیہ کے افراد سے حسنِ اخلاق سے پیش آئے ۔ اگر اسے مطبخ(کچن) یا دیگر معاملات میں انتظامیہ کی کسی کمزوری کا پتا چلے تو اسے عام کرکے انتشار پھیلانے کی بجائے براہِ راست ذمہ داران سے رجوع کرے ، مثلاً کھانے میں نمک کی کمی پر شور مچانا ، یا مزیدار کھانا نہ ملنے پرسراپا احتجاج بننا ، طالبُ العلم کے وقار کے منافی ہے ۔ انتظامیہ کی طرف سے وقتاً فوقتاًجوہدایات جاری کی جائیں ، ان پر عمل کرنے میں سستی کا مظاہرہ نہ کرے۔جب کبھی انتظامیہ کی طرف سے مستحق طلبہ کے لئے کسی سہولت مثلاً کتابوں کی فراہمی ، یا نظر کے چشمے (عینکیں )وغیرہ مفت دینے، یا ضرورت مند طلبہ کے لئے چھٹیوں میں گھر جانے کا کرایہ فراہم کرنے کی پیش کش کی جائے توہر طالبُ العلم کو چاہئے کہ ایک سو ایک مرتبہ غور کر لے کہ کیا میں اس سہولت کا حقدارہوں یا نہیں ، اگر جواب ہاں میں ہو تو ضرور سہولت سے فائدہ اٹھائے ورنہ اس کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دے ۔

        طالبُ العلم کو چاہئے مختلف قسم کی شرارتوں کا ارتکاب کر کے انتظامیہ کے لئے پریشانی کا سبب بننے سے باز رہے ۔نیز اپنا وقت نصابی کتب کے مطالعہ میں صرف کرے ، فضول قسم کے ناولوں اور ڈائجسٹ پڑھنے سے مکمل گریز کرے ۔ انتظامیہ کے کسی فرد یا کسی استاذ کی (معاذ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ) نقلیں اتار کر اپنے لئے دنیا وآخرت کی تباہی کے اسباب پیدا نہ کرے ۔اگر انتظامیہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی بنا پر کسی طالبُ العلم کو سرزنش کرے یا کوئی نوٹس جاری کرے تو اسے چاہئے کہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی کا طلبگار ہو نہ کہ اَکڑنا شروع کردے ۔

        طالبُ العلم کو چاہئیے کہ کبھی بھی بلاحاجت ِ شدیدہ چھٹی نہ کرے کہ اس سے برکت جاتی رہتی ہے اور سبق کا نقصان الگ سے ہوتا ہے ۔اس سلسلے میں اکابرین کا طرزِ عمل ملاحظہ ہو :  

        فقہ حنفی کی مشہور کتاب ھدایہ کے مؤلف شیخ الاسلام امام برھان الدین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے تمام ساتھیوں پر صرف اس لئے فوقیت لے گیا کہ میں نے دورانِ تعلیم کبھی چھٹی نہیں کی ۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم ، ص۸۳)

        اعلیٰ حضرت ، مجددِ دین وملت الشاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی ہمشیرہ محترمہ آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے بچپن کے بارے میں فرماتی ہیں : اعلیٰ حضرت نے کبھی پڑھنے میں ضد نہیں کی ۔خود سے برابر پڑھنے کو تشریف لے جایا کرتے ، جمعہ کے دن بھی چاہا کہ پڑھنے کو جائیں مگر والد صاحب کے منع فرمانے پر رُک گئے اور سمجھ لیا کہ ہفتہ میں جمعہ کے دن کی بہت اہمیت کی وجہ سے نہیں پڑھنا چاہئیے ، باقی چھ دن پڑھنے کے ہیں ۔‘‘(حیات ِ اعلیٰ حضرت ، ج۱، ص۶۹)

        ہر طالبُ العلم کو چاہئے کہ اپنی جامعہ کے جدول (نظام الاوقات )پر پابندی سے عمل کرے اور اپنی مرضی کے مطابق وقت گزارنے کی بجائے اپنی سوچ کو اپنے اساتذہ و انتظامیہ کی سوچ پر قربان کردے۔چونکہ یہ جدول ان کے طویل تجربات کا نچوڑ ہوتا ہے ، اس لئے طالب العلم سونے جاگنے ، کھانے پینے اور پڑھائی کے سارے معاملات کے سلسلے میں جدول پر عمل کرے۔

جامعۃ المدینہ کا جدول :  

  تبلیغ ِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوت ِ اسلامی‘‘ کے زیر ِ انتظام قیام پذیر’’ جامعات المدینہ ‘‘کے طلبہ کا جدول ملاحظہ ہو :

۱۔خوش نصیب اسلامی بھائی نماز تہجد باجماعت ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں ۔

۲۔نماز فجر سے تیس منٹ قبل تمام طلبہ بیدار ہوں اور طبعی حاجات سے فارغ ہوکر صدائے مدینہ لگائیں ۔

۳۔نماز فجر کے بعد کنزالایمان سے چند آیات مع ترجمہ وتفسیر پڑھنے والے مدنی انعام پر عمل کریں ۔ ایک ہی حلقہ بنایا جائے یا ضرورتاًایک سے زائد۔

۴۔مئی ، جو ن، جولائی ، اگست اور ستمبرمیں بعد فجر ایک گھنٹہ تعلیمی حلقے لگائے جائیں ۔

۵۔مذکورہ بالا مہینوں میں تعلیمی حلقوں کے اختتام پر اشراق وچاشت کی نماز باجماعت اداکرنے کی ترکیب بنائی جائے جبکہ بقیہ مہینوں میں درجہ شروع ہونے سے دس منٹ قبل یہ ترکیب بنائی جائے ۔

۶۔تمام طلبہ اپنی اپنی جامعہ کے تدریسی اوقات میں درجوں میں حاضری دیں ۔ البتہ باب المدینہ کراچی میں بروز ہفتہ تحصیل اجتماعات کی وجہ سے درجوں کا وقت آٹھ بجے سے بارہ بجے ہے ۔

نوٹ :    بروز ہفتہ بارہ بجے کے بعد مقیم وغیرمقیم طلبہ کو اپنے اپنے درجوں میں پڑھنے کا پابند کیا جائے ۔     

 



Total Pages: 22

Go To