Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

        اب میری بات غور سے سن لے !اس میں خوب غور و فکر کر ، اس پر عمل کر ، یقینا تیری نجات اور کامیابی کی صورت بن جائے گی۔اگر تجھے یہ معلوم ہو جائے ، کہ باد شاہ  وقت تجھے ایک ہفتہ بعد ملنے آ رہا ہے تو اس عرصہ میں جہاں تیرا گمان ہو کہ بادشاہ کی نظرپڑ سکتی ہے ، اس کی اصلاح و درستگی میں مشغول او رمصروف ہو جائے گا ۔مثلا اپنے کپڑوں کوصاف ستھرا رکھے گا اپنے بدن کی دیکھ بھال اور زیب و زینت پر خصوصی توجہ دے گا ۔گھر کی اِک اِک چیز کو صاف و آراستہ کرنے کی کوشش کرے گا ۔اب تو خوب سوچ اور سمجھ اورغورو فکر کر کہ میں نے کس جانب اشارہ کیا ہے ۔اور عقلمند کے لیے تو اشارہ ہی کافی ہے رسولوں کے تاجدار ، باذنِ پرورد گار  عَزَّ وَجَلَّ  غیبوں سے خبر دار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَکا فرمانِ مشکبار ہے :

        اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَلَا اِلٰی اَعْمَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَنِیَّاتِکُمْ  اللہ  تَعَالٰی تمہاری شکل و صورت اور تمہارے ظاہری اعمال کو نہیں دیکھتا، وہ تو تمہارے دلوں اور تمہار ی نیّتوں پر نظر فرماتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب القناعۃ ، الحدیث ۴۱۴۳، ج۴، ص۴۴۳  )

        اگر تو احوال ِقلب کے متعلق علم کاارادہ رکھتا ہے تو ’’احیاء العلوم‘‘اور ہماری دیگر تصانیف کا مطالعہ کر کیونکہ کیفیات قلب سے آگاہی حاصل کرنا تو فرض عین ہے جبکہ دیگر علو م کاحصول فرض کفایہ ہے مگر اس قدر علم حاصل کرنا فرض ہے کہ  اللہ   تَعَالٰی  کے مقرر کردہ فرائض و احکام کو کامل و بہتر اور اچھے طریقے سے سر انجام دیا جا سکے ۔ اللہ   تَعَالٰی  تمہیں یہ علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(ایھا الولد ص ۲۶۶)

مرشد کی ضرورت :

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے ظاہر وباطن کی اصلاح کے لئے کسی تربیت کرنے والے کا ہونا بہت ضروری ہے ۔چنانچہ امام غزالی  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِلکھتے ہیں :     

        تربیت کی مثال بالکل اس طرح ہے ، کہ جس طرح ایک کسان کھیتی باڑی کے دوران اپنی فصل سے غیر ضروری گھاس، جڑی بوٹیاں نکال دیتا ہے تاکہ فصل کی ہریالی اور نشونما میں کمی نہ آئے اسی طرح سالکِ راہِ حق(مرید)کے لیے شیخ(مرشد کامل )کا ہونا نہایت ضروری ہے ۔جو اس کی احسن طریقے سے تربیت کرے اور  اللہ   تَعَالٰی  تک پہنچنے کے لیے اس کی راہنمائی کرے ۔رب کریم  عَزَّ وَجَلَّ  نے انبیاء اور رسولوں عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُکو لوگوں کی طرف اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو  اللہ  تَعَالٰی تک پہنچنے کا راستہ بتائیں ، مگر جب آخری رسول، نبی مقبول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ اس جہاں سے پردہ فرما گئے اور نبوت و رسالت کا سلسلہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ پر ختم ہوا تو اس منصب جلیل کوخلفائے راشدین  رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِم اَجْمَعِیْن نے بطور نائب سنبھال لیا اور لوگوں کو راہ حق پر لانے کی سعی و کوشش فرماتے رہے ۔(ایھا الولد ، ص۲۶۲)

مدنی مشورہ :

        جوطلبہ اسلامی بھائی کسی کے مُرید نہ ہوں اُن کی خدمت میں مَدَنی مشورہ ہے!کہ وہ شیخ طریقت امیراہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مُرید بن جائیں اور جو پہلے سے کسی پیر صاحب سے بیعت ہوں وہ امیراہل ِ سنت مُدَّظِلُّہُ الْعَالِیْ سے طالب ہوکر اپنے پیر صاحب کے فیض کے ساتھ ساتھ امیرِ اہل سنتمُدَّظِلُّہُ الْعَالِیْ کا فیض بھی حاصل کریں ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ  !آپ مُدَّظِلُّہُ الْعَالِیْ  کی نگاہِ فیض سے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا اور وہ گناہوں سے تائب ہوکر صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے۔

           امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں مُرید کرتے ہیں ، اورقادری سلسلے کی تو کیا بات ہے! کہ حضور غوثِ اعظم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، ’’میں اپنے مریدوں کاقیامت تک کے لئے توبہ پر مرنے کا (بفضلِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ )ضامن ہوں ۔‘‘(بہجۃ الاسرار، ص۱۹۱)

استاذسے تعلقات کیسے ہوں ؟

        استاذ اور طالبُ العلم کا رشتہ انتہائی مقدس ہوتا ہے۔ لہذا طالبُ العلم کو چاہئیے کہ  وہ درج ِ ذیل امور پیش ِ نظر رکھے …

استاذ کے حقوق پورے کرے :

                اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کتب ِمعتبرہ کے حوالے سے اُستاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ’’عالم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر ایک سا حق ہے اور وہ یہ کہ

(۱)  اس سے پہلے گفتگو شروع نہ کرے۔

 (۲)  اس کی جگہ پراس کی غیرموجودگی میں بھی نہ بیٹھے۔

 (۳)  چلتے وقت اس سے آگے نہ بڑھے۔

 (۴)  اپنے مال میں سے کسی چیز سے اُستاد کے حق میں بخل سے کام نہ لے یعنی جو کچھ اسے درکار ہو بخوشی حاضرکردے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت تصور کرے۔   

(۵)  اس کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے۔

 (۶)  اور اگر چہ اس سے ایک ہی حرف پڑھا ہو، اس کے سامنے عاجزی کا اظہارکرے۔

 (۷)  اگر وہ گھر کے اندر ہو، توباہرسے دروازہ نہ بجائے ، بلکہ خود اس کے باہر آنے کا انتظار کرے۔

 (۸(اسے اپنی جانب سے کسی قسم کی اَذیت نہ پہنچنے دے کہ)جس سے اس کے استاد کو کسی قسم کی اذیت پہنچی، وہ علم کی برکات سے محروم رہے گا۔(فتاویٰ رضویہ۔جلد ۱۰۔صفحہ ۹۶، ۹۷)

اپنے اُستاذ کا ادب کرے :

        کسی عربی شاعر نے کہا ہے ،

 



Total Pages: 22

Go To