Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

خواہ مخواہ اپنی ضروریات نہ بڑھا رکھی ہوں کیونکہ اکثر بنیادی ضروریات مثلاً اقامت ، طعام اور علاج معالجہ وغیرھا ، تو جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے پوری کی جاتیں ہیں ۔ بہرحال ایسے طالبُ العلم کو چاہئیے کہ کسی سے سوال کرنے کی بجائے ناظم صاحب یا اپنے استاذ صاحب کو اس پریشانی سے آگاہ کردے ، امیدِ واثق ہے کہ وہ اس کی پریشانی کے حل کی کوئی ترکیب بنادیں گے ۔بصورتِ دیگر وہ عارضی طور پر کوئی جز وقتی روزگار تلاش کرے ، مثلاً کتابوں کی جلدبنانا وغیرہ

        فقہ حنفی کے عظیم پیشوا اِمام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ہونہار شاگرد امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جب امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی شاگردی اختیار کی تو آپ نہ صرف شادی شدہ تھے بلکہ مالی طور پر بھی زبوں حالی کا شکار تھے۔ لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل علم حاصل کرتے رہے اور آخرِ کار فقہ حنفی کے امام کہلائے ۔

(4)  گھر والوں کی طرف سے رُکاوٹ :

        بعض طلبہ اس لئے مدرسہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ ہمیں گھر والے کمانے پر مجبور کرتے ہیں ۔

اس کا حل :

        واقعی ایسی صورتِ حال بہت نازک ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو طالبُ العلم اپنے گھر والوں کوعلم کے فضائل بتائے اور اس کی اہمیت ان کے دلوں میں اُتار نے کی کوشش کرے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اپنے مطالبے سے کسی مجبوری کے سبب دستبردار نہ ہوں تو طالبُ العلم کو چاہئے کہ تعلیم چھوڑنے کی بجائے کسی مسجد میں امامت یا اذان دینے کی خدمت سرانجام دے اور اپنے گھر والوں کو مناسب رقم ہر ماہ روانہ کرتا رہے ۔

(5)   دوسرے طلبہ سے اختلاف :

                بسااوقات طالبُ العلم یہ کہتے ہوئے مدرسہ چھوڑ دیتا ہے کہ میری اپنے ساتھیوں سے بنتی نہیں ۔

اس کا حل :

        ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں درخواست ہے کہ وہ اپنے گھر کے حالات پر نظر دوڑائیں کہ کیا وہاں ان کا کسی سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ مثلاً بھائیوں اور بہنوں سے اختلافات تو درکنار جھگڑا تک ہوجاتا ہے تو کیا محض اس وجہ سے وہ گھر چھوڑ دینے پر تیار ہوں گے کہ ہماری اپنے گھر والوں سے نہیں بنتی ۔ المختصر ! اختلافات کی بنیاد پر جامعہ چھوڑ دینا دانش مندی نہیں ہے ۔

(6)  جامعہ میں دل نہیں لگتا :

        بعض طلبہ یہ کہتے ہوئے گھرواپسی کی تیاریاں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ یہاں ہمارا دل نہیں لگ رہا ۔   

اس کا حل :

        اس قسم کی باتیں عموماً ابتدائی درجے میں ہوا کرتی ہیں ۔ ایسے بھائیوں کی خدمت میں التجا ہے کہ شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کی بجائے ذرا غور کریں کہ نئی جگہ سے مانوس ہونے کے لئے کچھ نہ کچھ وقت تو لگتا ہی ہے ۔لہذا !بار بار علمِ دین کے فضائل پڑھئے اور ثابت قدمی سے علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہوجائیے ، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دل بھی لگ ہی جائے گا ۔

 کتابوں کی تعظیم کریں

        ’’باادب بانصیب ‘‘کے مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی کتابوں ، قلم، اور کاپیوں کی تعظیم کریں ۔ انہیں اونچی جگہ پر رکھئے ۔ دورانِ مطالعہ ان کا تقدس برقرار رکھئے۔ کتابیں اُوپر تلے رکھنے کی حاجت ہوتو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہئے ، سب سے اُوپر قرآنِ حکیم ، اس کے نیچے تفاسیر ، پھر کتبِ حدیث ، پھر کتبِ فقہ ، پھر دیگر کتب ِ صرف ونحو وغیرہ ۔ کتاب کے اوپر بلاضرورت کوئی دوسری چیز مثلاً پتھر اور موبائل وغیرہ نہ رکھیں ۔

        شیخ امام حلوانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم و تکریم کرنے کے سبب حاصل کیا وہ اس طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیروضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا۔

(تعلیم المتعلم طریق التعلم ، ص ۵۲(

        ایک مرتبہ شیخ شمس الائمہ امام سرخسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا پیٹ خراب ہو گیا۔ آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار اور بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے ۔ ایک رات پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو17 بار وضو کرنا پڑا کیونکہ آپ بغیر وضو تکرار نہیں کیا کرتے تھے۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص۵۲)   

علم پر عمل کی ضرورت 

        حصولِ علم کے بعد اس پر عمل کرنا بھی بے حد ضروری ہے ۔ محض علم کے حصول ہی کو سب کچھ سمجھ لینا اور عمل کی طرف رغبت نہ کرنا باعثِ ہلاکت ہے ۔ حضرت سیدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اپنے کسی عزیز شاگرد کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :

  اے نورِ نظر!نیک اعمال سے محروم اور باطنی کمالات سے خالی نہ رہنا (یعنی ظاہر وباطن کو اخلاقِ حسنہ سے مزین و آراستہ کرنا )اور اس بات کو یقینی جان کہ (عمل کے بغیر) صرف علم ہی بروز حشر تیرے کام نہ آئے گا ۔جیسا کہ ایک شخص جنگل میں ہو اور اس کے پاس دس تیزاور عمدہ تلواریں اور دیگر ہتھیار ہوں ، ساتھ ہی ساتھ وہ بہادر بھی ہو اور اسے جنگ کرنے کا طریقہ بھی آتا ہو ، ایسے میں اچانک ایک مہیب اور خوفناک شیر اس پر حملہ کر دے !تو تیرا کیا خیال ہے ؟کہ استعمال کے بغیر صرف ان ہتھیاروں کی موجودگی اسے اس مصیبت سے بچا سکتی ہے ؟یقینا تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان ہتھیاروں کو استعمال میں لائے بغیر اس حملے سے نہیں بچا جا سکتا ۔لہذا اس بات کو اپنی گرہ سے باندھ لو !کہ اگر کسی شخص کو ہزاروں علمی مسائل پر عبور حاصل ہو اور وہ اس کی تعلیم بھی دیتا ہو ، لیکن اس کا اپنے علم پر عمل نہ ہو، تو اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا ۔(ایھا الولد، ص۲۵۸)

ظاہر کے ساتھ باطن بھی سنواریں

        حضرت سیدنا امام محمدغزالی  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ باطن کی آراستگی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ’’ایھا الولد ‘‘میں لکھتے ہیں :

 



Total Pages: 22

Go To