Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

چومے گی ۔  اللہ   تَعَالٰی  نے ارشاد فرمایا :

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ

ترجمہء کنزالایمان : اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے ۔۲۱، العنکبوت : ۶۹)

مشہور عربی مقولہ ہے :

        مَنْ طَلَبَ شَیْئًا  وَجَدَّ وَجَدَ وَمَنْ قَرَعَ الْبَابَ وَلَجَّ وَلَجَیعنی جو کسی چیز کی طلب میں محنت وکوشش کرتا رہا وہ اسے ایک دن ضرور پالے گا اور جو کسی دروازے کو کھٹکھٹائے اور مسلسل کھٹکھٹاتا ہی چلا جائے تو ایک دن وہ اس کے اندر ضرور داخل ہو گا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص۴۵)

        عموماً دیکھا گیا ہے کہ حصول ِعلمِ دین کے لئے آنے والے طلبہ کی بہت بڑی تعداداستقامت سے محروم رہتی ہے اوراکثر طلبہ اپنی تعلیم (خصوصاً ابتدائی درجات میں ) اَدھوری چھوڑ کراپنے علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور دیگر کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں پہلے درجہ میں داخل ہونے والوں کی بہت کم تعداد آخری درجہ یعنی دورۂ حدیث میں پہنچ پاتی ہے ۔

        ایسے طلبہ کو غور کرنا چاہئے کہ ایک ایسا کام جو ہمارے لئے عظیم ثواب کا سبب بن سکتا ہو اوراس میں اُخروی کامیابی کا راز پوشیدہ ہو، اور سب سے بڑھ کر جس کے ذریعے رب  تَعَالٰی ٰ اور اس کے حبیب، بیمار دلوں کے طبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی رضا حاصل ہو سکتی ہو تو اس کام کو چھوڑ دیناکس قدر نقصان دہ ہے ۔ طلبہ اسلامی بھائیوں کو عدمِ استقامت سے دوچار کرنے والی چند وجوہات اور ان کا حل سطورِ ذیل میں ملاحظہ کیجئے ،

(1)  سبق سمجھ نہ آنا :

        بعض طلبہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں سبق سمجھ نہیں آتا لہذا پڑھنے کا کیا فائدہ ، کیوں نہ ہم کوئی دوسرا کام کر لیں ۔     

اس کا حل :

        ایسے اسلامی بھائیوں کو چاہئے کہ پچھلے صفحات میں دئیے گئے طریقہ کار کے مطابق سبق کا پیشگی مطالعہ کرنے کی عادت بنائیں اور سبق پڑھنے اور سنانے سے متعلق دئیے گئے مشورے پر عمل کریں تو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  انہیں بہت جلد سبق سمجھ میں آنا شروع ہوجائے گا ۔

(2)   بیمار ی :

        بعض طلبہ اس لئے بھی تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیتے ہیں کہ ان کی طبیعت مسلسل خراب رہتی ہے ۔

اس کا حل :

        ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ کسی اچھے حکیم یا ڈاکٹر سے اپنا علاج کروائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی غور کریں کہ نفس کی لذت کی خاطر کہیں وہ مسلسل بدپرہیزی کے مرتکب تو نہیں ہورہے ، ظاہر ہے کہ جو آدمی گول گپے ، دہی بڑے، مصالحے دار بریانی، پیزہ اورطرح طرح کی کھٹی میٹھی چیزیں کھانے کا عادی ہوگا اسے بیماریاں نہیں گھیریں گی تو اور کیا ہوگا؟(اس سلسلے میں تفصیلی راہنمائی کے لئے بانیٔ دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی کی مایہ ناز تحریر ’’پیٹ کا قفلِ مدینہ ‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔)

        نیز بازار جاکر کھانا کوئی اچھی بات نہیں ، جیسا کہ بانیٔ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی اپنی کتاب ’’آدابِ طعام‘‘ میں نقل فرماتے ہیں :

        ’’حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایَت ہے کہ نبیِّ کریم، رسولِ عظیم، رء ُوفٌ رَّحیم  علیہِ افضلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسلیم نے اِرشاد فرمایا، ’’بازار میں کھانا بُرا ہے۔‘‘

 (جامع صغیر، الحدیث ۳۰۷۳ ، ص۱۸۴ )

        صدرُ الشَّریعہ بدرُ الطَّریقہ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القوی  فرماتے ہیں ، ’’راستے اور بازار میں کھانا مکروہ ہے۔ ‘‘  ( بہارِشریعت حصہ ۱۶ ص ۱۹)

بازار کی روٹی

        حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدین ابراھیم زَرْ نُوجی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں ، امامِ جلیل حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فَضل  رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دَورانِ تعلیم کبھی بھی بازار سے کھانا نہیں کھایا ان کے والِد صاحِب ہر جُمُعہ کو اپنے گاؤں سے ان کیلئے کھانا لے آتے تھے ۔ ایک مرتبہ جب وہ کھانادینے آئے تو ان کے کمرے میں بازار کی روٹی رکھی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بیٹے سے بات تک نہیں کی۔ صاحِبزادے نے معذرت کرتے ہوئے عرض کی، ابّا جان! یہ روٹی بازار سے میں نہیں لایا میر ارفیق میری رِضا مندی کے بِغیر خرید کر لایا تھا ۔ والِد صاحِب نے یہ سُن کر ڈانٹتے ہوئے فرمایا، اگر تمہارے اندر تقویٰ ہوتا تو تمہارے دوست کو کبھی بھی یہ جُرأَت نہ ہوتی۔(تعلیم المتعلّمِ طریق التعلّم، ص۶۷ )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        مسلسل بیمار رہنے والے اسلامی بھائی طبی علاج کے ساتھ ساتھ روحانی علاج بھی کروائیں ۔ اس کے لئے اپنے شہر میں مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ کے بستے(اسٹال) سے تعویذ اور وظائف وغیرہ حاصل کریں ، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کا فائدہ وہ کھلی آنکھوں سے ملاحظہ کریں گے ۔ امیرِ اہل ِ سنت بانیٔ دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی کے عطا کردہ تعویذاتِ عطاریہ کی برکات جاننے کے لئے ’’خوفنا ک بلا، پُر اَسرار  کُتّااورسینگوں والی دلہن ‘‘نامی رسائل کا مطالعہ فرمائیں ۔

(3)   مالی پریشانی :

        بعض اوقات طلبہ اس لئے بھی علومِ دینیہ کی تکمیل نہیں کر پاتے کہ ان کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے ۔

اس کا حل :

        تنگ دست طالبُ العلم یقینا بڑی آزمائش میں مبتلاء ہوتا ہے ، خصوصاً اس وقت کہ جب گھر والوں کی طرف سے کوئی مالی تعاون نہ ہو۔مگر ایسے طالب العلم کو غور کرناچاہئے کہ کہیں اس نے



Total Pages: 22

Go To