Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

٭   سبق سنانے کے بعد اگر استاذ کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جائے تو مریض ِ عُجب بننے سے بچے اور اپنی کامیابی کو اللہ  تَعَالٰی کی عطا تصور کرے اور اگر ناقص انداز میں سبق سنانے کی بنا پر ڈانٹ کھانے کو ملے تو مایوس ہونے کی بجائے مزید محنت کرے۔

امتحان(Test) کی تیاری کس طرح کریں ؟

        امتحان کی تیاری کے سلسلہ میں مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’امتحان کی تیاری کیسے کریں ؟‘‘ کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔اس کتاب کے مطالعے کی برکت سے طلبہ کو ادارے کی طرف سے ہونے والے سہ ماہی ، ششماہی اور سالانہ امتحان کی تیاری میں خاص دِقّت محسوس نہیں ہوگی ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ

حافظہ کیسے مضبوط کریں ؟

        بلاشبہ اسباق کو یاد کرنے میں حافظہ بنیادی اہمیت رکھتاہے بلکہ اس کی کمزوری کو علم کے لئے آفت قرار دیا گیا ہے چنانچہ مشہور ہے ’’ اٰفَۃُ الْعِلْمِ النِّسْیَانُیعنی بھول جانا علم کے لئے آفت ہے ۔‘‘ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی قوتِ حافظہ کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوشش کریں ۔ اس ضمن میں درجِ ذیل امور پیشِ نظر رکھنا بے حد مفید ثابت ہوگا اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ۔

        (۱)  اللہ  تَعَالٰی کی بارگاہ میں اپنے حافظے کی مضبوطی کے لئے دعا کریں کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے ۔یہ دعا اس طرح بھی کی جاسکتی ہے ، ’’(بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر رب  عَزَّ وَجَلَّ کی حمد بیان کرنے اور رحمت ِ عالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پردرودِ پاک پڑھنے کے بعد یوں  عرض کریں ) اے میرے مالک ومولا  عَزَّ وَجَلَّ !تیرا عاجز بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہے ، اے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ! میں تیرے دین کا علم حاصل کرنا چاہتا ہوں لیکن میری یادداشت میرا ساتھ نہیں دیتی ، اے ہر شے پر قادر رب  عَزَّ وَجَلَّ !تُو اپنی قدرت ِ کاملہ سے میرے کمزور حافظے کو قوی فرما دے اور مجھے بھول جانے کی بیماری سے نجات عطافرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ‘‘

 (۲) ہر وقت باو ضو رہنے کی کوشش کریں ۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ ہمیں سنت پر عمل کا ثواب ملے گا جبکہ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں خوداعتمادی کی دولت نصیب ہوگی اور احساسِ کمتری ہمیں چھونے بھی نہ پائے گا جو کہ حافظے کے لئے شدید نقصان دہ ہے۔

 (۳)  سرکارِ مدینہ سرور قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درودو سلام کی کثرت کریں کہ اس کے نتیجے میں ثواب کے ساتھ بہتر یادداشت کا تحفہ بھی نصیب ہوگا جیساکہ نبی اکرم نور مجسم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ، ’’جب تم کسی چیز کو بھول جاؤ تو مجھ پر درود پاک پڑھو وہ چیز اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  تمہیں یاد آجائے گی ۔‘‘(القول البدیع، ص ۲۱۷)

 (۴)حافظے کو نقصان دینے والی چیزوں سے بچیں مثلاً گناہوں سے پرہیز کریں کہ مشہور ہے ’’اَلنِّسْیَانُ مِنَ الْعِصْیَانِ ۔یعنی عصیاں سے نسیان ہوتا ہے ۔‘‘ ، اس کے علاوہ چکنائی والی ، کھٹی اور بلغم پیدا کرنے والی اشیاء سے دور رہیں کہ یہ حافظے کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں ۔ بلغم کے علاج کے لئے موسم کی مناسبت سے روزانہ یا وقفے وقفے سے مٹھی بھر کشمش (سوغی) کھانا بے حد مفید ہے جیسا کہ قبلہ امیراہل ِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِیْ فرماتے ہیں کہ ’’بلغم اور زکام کے علاج کے سلسلے میں جو فائدہ کشمش نے دیا کسی دواء نے بھی نہیں دیا ۔‘‘

(مدنی مذاکرہ : کیسٹ نمبر۱۲۴)

 (۵)اپنی صحت کا خاص طور پرخیال رکھیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر وقت پڑھتے رہنے کی بناء پر اتنے کمزور ہوجائیں کہ اِدھر ذرا سی سرد ہوا چلی اُدھر حضرت کو زکام اور بخار نے آن گھیرا ، …اور نہ ہی اتنا وزن بڑھا لیں کہ نیند اور سستی سے دامن چھڑانا دشوار ہوجائے ۔

 (۶)حافظے کی مضبوطی کے لئے اپنے معالج کے مشورے سے دوائی کا استعمال بھی کریں اس کے لئے خمیرہ گاؤزبان کا استعمال بہت مفید ہے ۔

 (۷) ذہن کو آرام دینے کی غرض سے مناسب مقدار میں (مثلاً ۲۴ گھنٹوں میں ۶ سے ۸ گھنٹے )نیند ضرور لیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلے پہل توپڑھائی کے جوش میں نیند کو فراموش کر بیٹھیں لیکن چند دنوں کے بعد تھکاوٹ کا احساس آپ کے دل ودماغ کو ایسا گھیرے کہ تھوڑی سی دیر پڑھنے کے بعد ذہن پر غنودگی چھانے لگے اورآپ نیند کی آغوش میں جاپڑیں ۔ نیند کے بعد مکمل طور پر تازہ دم ہونے کے لئے حصول ِ ثواب کی نیت سے باوضو سونے کی عادت بنائیں اور سونے سے پہلے تسبیح فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا(یعنی ۳۳مرتبہ سبحان  اللہ  ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اور ۳۴ مرتبہ  اللہ  اکبر )پڑھ لیں ۔اگر آرام کرنے کے بعد بھی پڑھائی کے دوران نیند کا غلبہ ہونے کی شکایت ہوتوروزانہ لیموں ملے ایک گلاس پانی میں ایک چمچ شہد ملا کر پی لینا بے حد مفید ہے جیسا کہ شیخ ِ طریقت امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی فرماتے ہیں کہ ’’خلاف ِ معمول نیند کا آنا جگر کی کمزوری پر دال (دلالت کرتا) ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ لیموں والے پانی میں شہد کا ایک چمچ نہار منہ استعمال کریں ۔‘‘

(مدنی مذاکرہ : کیسٹ نمبر ۱۲۴)   

 (۸) اپنے اساتذہ اور پیر ومرشد کا احترام اپنی عادات میں شامل کر لیں اور ان کے فیوض وبرکات حاصل کریں ۔

 (۹)فضول گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے زبان کا قفل مدینہ لگائیں (اس کی تفصیلی وضاحت کے لئے امیر اہل سنت مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے رسالہ’’ قفلِ مدینہ ‘‘کا مطالعہ فرمائیں )، اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ زبان جتنی کم استعمال ہوگی ذہن کی توانائی اتنی زیادہ محفوظ رہے گی اور یہ توانائی سبق یاد کرنے کے وقت ہمارے کام آئے گی ۔ اِنْ شَآءَ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ

 (۱۰) نگاہیں نیچی رکھنے کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آنکھوں کا قفل مدینہ لگائیں ۔ اس کا بھی یہی فائدہ ہوگا کہ ہمارے ذہن کی توانائی محفوظ رہے گی ۔

 (۱۱)غیر ضروری اور گناہوں بھرے خیالات سے بچتے ہوئے ذہن کا قفل مدینہ لگائیں ۔ اس کا بھی وہی فائدہ ہوگا جو اوپر ذکر کیا جاچکا ہے ۔

 (۱۲)  جو اسلامی بھائی شیخ طریقت ، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی  مُدَّظُلُّہُ الْعَالِیْ سے بیعت یا طالب ہوں وہ یادداشت میں بہتری کے لئے۴۰ دن تک روزانہ ۲۱ مرتبہ ’’  یَاعَلِیْمُ ‘‘ پانی پر دم کرکے نہار منہ پئیں ، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  حافظہ روشن ہوجائے گا ۔(شجرۂ عطاریہ ، ص۴۶)

استقامت کیسے حاصل کریں ؟

        ایک طالبُ العلم کو حصول ِ علم میں کامیابی کے لئے سخت محنت کرنا اور پھر اس پر استقامت حاصل کرنا بے حد ضروری ہے ۔ مسلسل کوشش کے نتیجے میں ایک دن کامیابی ضرور اس کے قدم



Total Pages: 22

Go To