Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

        اب سبق یاد کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پھرحمد ِ باری  تَعَالٰی ٰ کی نیت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پڑھ لیجئے۔ اس کے بعد دل ہی میں سہی  اللہ  تَعَالٰی سے سبق کو یاد کرنے میں کامیابی کی دعا کر لیجئے ۔

        اب سبق کو پوری توجہ سے اول تاآخر پڑھ لیں اور اس کے مفہوم کو بھی سمجھ لیجئے۔ اگر عربی کتاب سے یاد کر رہے ہوں تو پہلے عبارت پڑھ کر ترجمہ کریں پھر اس کے مفہوم کو بھی سمجھ لیجئے۔اب اگر سبق طویل ہوتو اسے دویا تین حصوں میں تقسیم کرلیجئے اور ہر حصے کے اہم الفاظ کو نشان زدکر لیں ۔پھر پہلے حصے کو چند مرتبہ (مثلاً ۴ یا ۵ مرتبہ ) درمیانی آواز کے ساتھ اس طرح پڑھیں کہ آپ کے قریب بیٹھنے والے تشویش میں مبتلاء نہ ہوں ۔ آواز کے ساتھ پڑھنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ یاد کرنے میں ہمارے تین حواس یعنی آنکھ ، زبان اور کان استعمال ہوں گے اورجو بات تین حواس کے ذریعے دماغ تک پہنچے گی اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  جلد یاد ہوگی ۔

        اس کے بعد سبق کے مذکورہ حصے پر ہاتھ یا کوئی کاغذ وغیرہ رکھ کر نگاہیں جھکا کر یا  آنکھیں بند کر کے اسے زبانی دہرانے کی کوشش کریں ، نگاہیں جھکانے یا آنکھیں بند کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ سبق کے الفاظ کا نقشہ ہمارے ذہن میں بیٹھ جائے گا کہ پہلی سطر میں کون سے الفاظ تھے اور دوسری میں کون سے ؟علی ھذا القیاس ۔ اس دوران اگر کوئی لفظ بھول جائے تو ہاتھ اٹھا کر صرف اسی لفظ کو دیکھ کر دوبارہ ہاتھ رکھ دیجئے ۔ اپنی  اس مشق کو اس وقت تک جاری رکھیں جب تک آپ بغیر دیکھے اس حصے یا پیراگراف کو دہرانے میں کامیاب نہ ہو جائیں ۔ پہلے حصے کو یاد کرنے کے بعد دوسرے حصے کی طرف بڑھ جائیں پھر اسے بھی اسی طرح یاد کریں پھر تیسرے حصے کو یاد کریں ۔ جب سبق کے تمام حصوں کو الگ الگ یاد کرچکیں تو مکمل سبق کو اتنی مرتبہ زبانی دہرا ئیں کہ زبان میں روانی آجائے۔

        زبانی یاد کرچکنے کے بعد اگر وقت میں وسعت ہو تو اس سبق کو لکھ کربھی دہرالیں ۔اس کے بعداسے ضرور بالضرور کسی ساتھی طالبُ العلم سے تکرار کر کے پختہ کرلیں کہ مشہور عربی مقولہ ہے : ’’ اَلسَّبَقُ حَرْفٌ وَالتَّکْرَارُ اَلْفٌ یعنی سبق ایک حرف اور اس کی تکرار ہزار بار ہونی چاہئیے۔‘‘ عموماً اقامتی (یعنی رہائشی) مدارس میں اوقاتِ تعلیم کے بعد پڑھائی کے حلقوں کی ترکیب ہوتی ہے جو کہ طلبہ کی پڑھائی کے لئے بہت مفید ہے لیکن متعدد طلبہ اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا پاتے جس کی ایک وجہ اُن کا تکرار کے مفید طریقے سے نابلد ہونا بھی ہے ، لہذا ! ذیل میں حلقوں میں تکرار کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔

حلقوں میں تکرار کا طریقہ

        سب سے پہلے شرکاء ِ حلقہ کا تعیّن کر لیجئے کہ ایک حلقہ کن کن طلبہ پر مشتمل ہو گا اس سلسلے میں استاذ ِ محترم سے راہنمائی لینا بہت مفید ہے ، حلقہ کا ایک نگران اور وقت ِ تکرار بھی مقرر کر لیا جائے ۔ حلقے میں شرکت سے پہلے تمام طلبہ اپنا سبق یاد کرلیں ۔ تکرار کے حلقے میں سب سے پہلے اُن اسباق کی تکرار کریں جن کا سبق آج پڑھ چکے ہوں ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نگرانِ حلقہ کسی اسلامی بھائی کو سبق کی عربی عبارت پڑھنے کا کہے ، پھر دوسرا اسلامی بھائی اس کا ترجمہ کرے ، اس دوران باقی اسلامی بھائی اپنی توجہ انہی کی جانب مرکوز رکھیں ۔ ترجمہ ہوجانے کے بعد نگرانِ حلقہ اس سبق کا مفہوم بیان کریں پھر تمام اسلامی بھائی وہ مفہوم ایک دوسرے کے سامنے بیان کریں ۔ اسی طرح دوسرے پھر تیسرے حتٰی کہ تمام اسباق کی تکرار کر لیں ۔

        اس کے بعد کل پڑھے جانے والے اسباق کی عبارت ایک ایک کرکے سنالیں جس سے زبان میں روانی بھی آجائے گی اور غلطیوں کی اصلاح بھی ہوجائے گی ۔ حلقے میں سنجیدگی کا عنصر برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے ورنہ کامل فائدہ حاصل نہ ہوسکے گا ۔ خواہ مخواہ کی ابحاث اور غیرضروری باتوں سے بچا جائے کہ وقت کا ضیاع ہوگا ۔حلقے کے معاملات میں کسی بھی قسم کی پیچیدگی کی صورت میں آپس میں الجھنے یا حلقہ ہی ختم کردینے کی بجائے اپنے استاذ محترم کی بارگاہ میں رجوع کیجئے ۔

چند اہم باتیں :

 (۱) سبق کو بغیر سمجھے رٹنے کی کوشش نہ کریں کہ بغیر سمجھے رٹا ہوا سبق جلد بھول جاتا ہے ۔( یاد رہے !علمِ صرف کی گردانوں کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ۔)

 (۲) دئیے گئے طریقے کے مطابق سکون کے ساتھ سبق یاد کریں ، جلد بازی مت کریں کہ سوائے وقت کے ضیاع کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

 (۳)یاد کرنے میں ترتیب یوں رکھئے کہ پہلے آسان سبق یاد کریں پھر مشکل پھر اس سے مشکل ۔علی ھذا القیاس

 (۴)اس دوران کسی سے گفتگو نہ فرمائیں ۔

 (۵) نگاہ کو آزاد‘ نہ چھوڑیں کہ سبق یاد کرنے میں خلل پڑے گا ۔

 (۶) اگر نفس سبق یاد کرنے میں سستی دلائے تو اسے سزا دیجئے مثلاً کھڑے ہو کر سبق یاد کرنا شروع کردیں یا پھرجب تک سبق یاد نہ ہوجائے اس وقت تک کھانا نہ کھائیں یا پانی نہ پئیں ۔

 (۷)ذہن کو اِدھر اُدھر نہ بھٹکنے دیں کہ کبھی تو(اپنے یا ماموں وغیرہ کے) گھر پہنچے ہوئے ہوں اور کبھی جامعہ کے مطبخ میں ، بلکہ انہماک کے ساتھ سبق یاد کریں ۔

 سبق سنانے کا انداز کیسا ہو؟

        دوسرے دن جب استاذ محترم درجہ میں سبق سنیں تو طالبُ العلم کو چاہیے کہ درج ِ ذیل امور اپنے پیش ِ نظر رکھے ،

٭   احساس ِ کمتری میں مبتلا ہونے کے بجائے ہاتھ بلند کرکے خود کو سبق سنانے کے لئے پیش کرے ۔

٭   اگر استاذ صاحب سبق سنانے کے لئے کہیں تو مؤدبانہ اندازمیں کھڑے ہوکر بھر پور خود اعتمادی کے ساتھ سبق سنائے ۔

٭  سبق سنانے کے دوران الفاظ کی ادائیگی کی رفتار مناسب رکھے ، حروف نہ چبائے ۔

٭  جو پوچھا گیا ہے اسی کا جواب دے ، غیر ضروری طوالت سے بچے ۔

٭  سبق پر مشتمل جملوں کی ترتیب پہلے سے قائم کر لے اور خلط ِ مبحث سے دامن بچائے ۔

 



Total Pages: 22

Go To