Book Name:Wasail e Bakhshish

نبی کے عاشِقوں   کو موت تو انمول تحفہ ہے

کہ ان کو قبر میں   دیدارِ شاہِ اَنبیا ہوگا

اندھیری گور ہے تنہا ہوں   مجھ پر خوف طاری ہے

تم آؤ گے تو آقا دُور اندھیرا قبر کا ہوگا

فِرِشتے قبر میں   پوچھیں   گے جب مجھ سے سُوال آکر

مِرے لب پر ترانہ اِنْ شَآءَ اللہ نعت کا ہوگا

نبی کے عاشِقوں   کی عید ہوگی عید محشر میں 

کوئی قدموں   میں   ہوگا کوئی سینے سے لگا ہوگا

ترے دامانِ رَحمت کی کُھلے گی حشر میں   وُسعت

وہ آآکر چُھپے گا جو گنہگار اور بُرا ہوگا

تسلّی رکھ تسلّی رکھ نہ گھبرا حشر سے عطارؔ

تِرا حامی وہاں   پر آمِنہ کا لاڈلا ہوگا

نہ گھبرا موت سے عطارؔ بَرزَخ میں   تُو مِل لینا

وہاں   غوثُ الوَرا ہونگے وہاں   احمدرضا ہوگا

 

قا فِلہ آج مدینے کو روا نہ ہو گا

(اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ذُوالحجّۃِ الحرام شریف ۱۴۱۶ ھ کو روانگیِ مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً سے قبل مکّۂ مکرَّمہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  میں  یہ کلام تحریر کرنے کی سعادت حاصل ہو ئی )

قافِلہ آج مدینے کو روانہ ہوگا

عنقریب اپنا مدینے میں   ٹھکانا ہوگا

لب پہ نغماتِ محمد کا ترانہ ہوگا

جھومتے جھومتے دیوانہ روانہ ہوگا

کس قَدَر زائرو! وہ وقت سُہانا ہوگا

رُوبرو جب درِ سلطانِ زمانہ ہوگا

درد و آلام کا جب لب پہ فَسانہ ہوگا

ابرِ رَحمت کے برسنے کا بہانہ ہوگا

نیکیاں   پلّے مدینے کے مسافِر کے کہاں  !

آنسوؤں   کا مِری جھولی میں   خزانہ ہوگا

 



Total Pages: 406

Go To