Book Name:Wasail e Bakhshish

کاش! گنبدِ خضرا کے حسین جلووں   میں   

میرا روتے روتے ہی دم نکل گیا ہوتا

دم نکل گیا ہوتا میرا اِن کے قدموں   میں 

ساتھ گر مقدَّر نے میرا دے دیا ہوتا

جن دنوں   مدینے میں   حاضِری ہوئی تھی کاش!

مَرکے ان کے کُوچے میں   دَفن ہو گیا ہوتا

کاش! ایسا ہو جاتا گورے گورے قدموں   میں 

گر کر آپ کا عطارؔ آپ پر فِدا ہوتا

 

دل ہائے گنا ہوں   سے بیزار نہیں   ہوتا

دل ہائے گناہوں   سے بیزار نہیں   ہوتا

مغلوب شہا! نفسِ بدکار نہیں   ہوتا

شیطان مُسلَّط ہے افسوس! کسی صورت

اب صبر گناہوں   پر سرکار نہیں   ہوتا

اے رب کے حبیب آؤ! اے میرے طبیب آؤ

اچّھا یہ گناہوں   کا بیمار نہیں   ہوتا

گو لاکھ کروں   کوشش اِصلاح نہیں   ہوتی

پاکیزہ گناہوں   سے کِردار نہیں   ہوتا

یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے

دل آہ! مگر اب بھی بیدار نہیں   ہوتا

سنّت کی طرف لوگو تم کیوں   نہیں   آجاتے

کیوں   سرد گناہوں   کا بازار نہیں   ہوتا

سرکار کا عاشِق بھی کیا داڑھی مُنڈاتا ہے!

کیوں  عِشق کا چِہرے سے اظہا ر نہیں   ہوتا

 

آقا کی اطاعت سے جی اپنا چُراتے ہیں 

 



Total Pages: 406

Go To