Book Name:Wasail e Bakhshish

شور اُٹھا یہ محشر میں   خُلد میں   گیا عطارؔ

گر نہ وہ بچاتے تو نار میں   گیا ہوتا

 

کاش! پھر مجھے حج کا، اِذْن مل گیا ہوتا

کاش! پھر مجھے حج کا، اِذن مل گیا ہوتا

اور روتے روتے میں  ، کاش! چل پڑا ہوتا

ہائے! پھوٹی قسمت نے، حاضِری سے روکاہے

کاش! میں   مدینے میں  ، پھر پہُنچ گیا ہوتا

اِس سفر کی تیّاری، کرچکا تھا میں   ساری

کاش! میری قسمت نے ساتھ دیدیا ہوتا

میرے قلبِ مُضطَر کو بھی قرار آجاتا

حج کا مُژدہ کوئی کاش! آکے دے گیا ہوتا

مجھ کو چھوڑ کر تنہا قافِلہ چلا طیبہ

کاش! ساتھ میں   لے کر مجھ کو بھی گیا ہوتا

کاش! اِن کی راہوں   کو پھول اور کانٹوں   کو

چومتا گیا ہوتا جھومتا گیا ہوتا

 

 

مِثلِ سالِ رَفتہ پھر کاش! چشمِ تر لے کر

سبزسبز گنبد کے روبرو کھڑا ہوتا

مجھ کو پھر مدینے میں   اس برس بھی بُلواتے

آپ کا بڑا اِحساں   مجھ پہ یہ شہا ہوتا

زیرِ گنبدِ خَضرا اشکبار آنکھوں   نے

کاش! میری فُرقت کا داغ دھو دیا ہوتا

 

 



Total Pages: 406

Go To