Book Name:Wasail e Bakhshish

کاش! میں   مدینے کا کوئی دُنبہ ہوتا یا

سینگ والا چتکبرا مَینڈھا بن گیا ہوتا

تار بن گیا ہوتا مُرشِدی کے کُرتے کا

مُرشِدی کے سینے کا بال بن گیا ہوتا

دو جہاں   کی فِکروں   سے یوں   نَجات مل جاتی

میں   مدینے کا سچ مُچ کُتّا بن گیا ہوتا

کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طَیبہ کی

مصطَفٰے کے قدموں   سے میں   لپٹ گیا ہوتا

پھول بن گیا ہوتا گلشنِ مدینہ کا

کاش! ان کے صَحرا کا خار بن گیا ہوتا

میں   بجائے اِنساں   کے کوئی پودا ہوتا یا

نَخل بن کے طیبہ کے باغ میں   کھڑا ہوتا

 

گلشنِ مدینہ کا کاش! ہوتا میں   سبزہ

یا میں   بن کے اِک تنکا ہی وہاں   پڑا ہوتا

مَرغ زارِ طیبہ کا کاش! ہوتا پروانہ

گِردِ شَمع پِھر پِھر کر کاش! جل گیا ہوتا

کا ش ! خَر یاخَچَّر یا گھوڑا بن کر آتا اور

آپ نے بھی کُھو نٹے سے با ندھ کر رکھا ہوتا

جاں   کَنی کی تکلیفیں   ذَبح سے ہیں   بڑھ کر کاش!

مُرغ بن کے طیبہ میں   ذَبح ہو گیا ہوتا

آہ! کثرتِ عِصیاں   ہائے! خوف دوزخ کا

کاش! میں   نہ دنیا کا اِک  بَشَر بنا ہوتا

 



Total Pages: 406

Go To