Book Name:Wasail e Bakhshish

لازمی ہے ہر صورت چھوڑنا گناہوں   کا

بھائی موت سے پہلے کاش! تُو سدھر جاتا

غیر کے تُو فیشن کو چھوڑ دے مِرے بھائی

اُن کی سنّتیں   اپنا کیوں   ہے دربدر جاتا

بے عدد غلام آقا خُلد جا رہے ہیں   کاش!

میں   بھی ساتھ ان کے یا شاہِ بحر و بر جاتا

یاخدا! مبلِّغ میں   سنَّتوں   کا ہوتا کاش!

تیرے دین کی خدمت کچھ جہاں   میں  کر جاتا

ان کا آگیا عطارؔ اُن کا آگیا عطارؔ

شور تھا یہ ہر جانب حشر میں   جدھر جاتا

 

کاش کے نہ دنیا میں   پیدا  میں    ہوا ہوتا

 (نَزع کی سختیوں  ، قبر کی ہو لناکیوں   ، محشر کی دشواریوں   اور جہنَّم کی خو فناک وادیوں   کا تصوُّر با ندھ کر خوفِ خدا عزوجل سے لرزتے ہو ئے اشکبار آنکھوں   سے اِس کلام کو پڑھئے)

کاشکے نہ دنیا میں   پیدا مَیں  ہوا ہوتا

قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا

آہ! سَلْبِ ایماں   کا خوف کھائے جاتا ہے

کاشکے مِری ماں   نے ہی نہیں   جنا ہوتا

 میں  نہ پھنس گیا ہوتا آکے صورتِانساں 

کاش! میں   مدینے کا اُونٹ بن گیا ہوتا

اُونٹ بن گیا ہوتا اور عیدِ قُرباں   میں   

کاش! دَستِ آقا سے نَحر ہو گیا ہوتا

 

 

 



Total Pages: 406

Go To