Book Name:Wasail e Bakhshish

زاہدِینِ دنیا بھی رشک کرتے عاصی پر

مصطَفٰے کے قدموں   میں   دفن ہو اگر جاتا

یانبیِّ رحمت یہ میرے دل کی حسرت ہے

خاک بن کے طیبہ کی کاش! میں   بکھر جاتا

کاش! ایسا مل جاتا عشق نام سنتے ہی

آنکھ بھی اُمنڈ آتی دل بھی غم سے بھر جاتا

 

دل سے الفتِ دنیا بالیقیں   نکل جاتی

خار ان کے صَحرا کا دل میں   گر اُتَر جاتا

جذبۂ غزالی دو وَلْوَلہ بلالی دو

کاش مرشدی جیسا مل تَپاں   جگر جاتا

زائرِ مدینہ تُو چل رہا ہے ہنس ہنس کر

کاش! لے کے مُضطَر قلب اور چشمِ تر جاتا

بے دھڑک مدینے میں   داخِلہ ہوا تیرا

کاش! پاؤں   کے بدلے سر کے بل اگر جاتا

روتے روتے مرجاتا  وقتِ رخصتِ طیبہ

کاش! میں   مدینے سے لوٹ کر نہ گھر جاتا

کاش! فرقتِ طیبہ سے میں   رہتا رنجیدہ

ہر خوشی کا لمحہ بھی روتے ہی گزر جاتا

 

کام میرا بن جاتا جو تری نظر ہوتی

میرا ڈوبا بیڑا بھی یانبی اُبھر جاتا

 

 



Total Pages: 406

Go To