Book Name:Wasail e Bakhshish

 

نور کی برسے پُھوار اس میں   رہے ہردم بہار

خوبصورت ہے نگرمیٹھا مدینہ مرحبا

حُسنِ پیرس کا فِدائی بھی یہاں   پر جھوم اُٹھے

سبز گنبد دیکھ کرمیٹھا مدینہ مرحبا

بکریاں  تو بکریاں  ، چڑیاں   بھی اِس کی محترم

اور کبوتر بختور([1])میٹھا مدینہ مرحبا

ہجرِ طیبہ میں  جو روتے ہیں   خدایا ہو نصیب

ان کو طیبہ کا سفر میٹھا مدینہ مرحبا

یارسولَ اللّٰہ کہتے  ہی  ٹلیں    گی  مشکلیں 

غمزدو آؤ اِدھر میٹھا مدینہ مرحبا

رات روشن دن منوَّر سب سَماں   پر نُور ہے

دیکھ لو اہلِ نظرمیٹھا مدینہ مرحبا

جھوم کر تارے کریں   دیدارِ طیبہ روز اور

ہوں   فِدا شمس و قمر میٹھا مدینہ مرحبا

جو مدینے آگیا عطارؔ آکر مرگیا

وہ بڑا ہے بختور میٹھا مدینہ مرحبا

 

کاش! دشتِ طیبہ میں   میں  بھٹک کے مرجاتا

کاش! دشتِ طیبہ میں  ، میں   بھٹک کے مرجاتا

پھر بقیعِ غرقد میں   دفن کوئی کر جاتا

کاش! جانبِ طیبہ آہ! یوں   اگر جاتا

چاک چاک میں   لیکر سینہ و جگر جاتا

کاش! گنبدِ خَضرا پر نگاہ پڑتے ہی

کھا کے غش میں   گرجاتا پھر تڑپ کے مرجاتا

 

 



[1]     نصیب دار ۔



Total Pages: 406

Go To