Book Name:Wasail e Bakhshish

ہو۔اول تو سیِّدِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ذکر ِپاک خود عمدہ طاعات واَجَلّ عبادات سے ہے اور طاعت وعبادت پر فیس لینی حرام  ([1]) ۔۔۔۔ ۔ ثانِیاً بیانِ سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شعِر خوانی وزَمْزَمہ سَنْجی ( یعنی راگ اور تَرَنُّم سے پڑھنے )کی فیس لیتا ہے یہ بھی محض حرام ۔فتاوٰی عالمگیری میں   ہے : گانا اور اشعار پڑھنا ایسے اعمال ہیں   کہ ان میں   کسی پر اُجرت لینا جائز نہیں  ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۷۲۴۔ ۷۲۵ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)

        جو نعت خواں   اسلامی بھائی T.V. یا محفلِ نعت میں   نعت شریف پڑھنے کی فیس وُصول کرتے ہیں   اُن کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔ میں   نے اپنی طرف سے نہیں   کہا، اہلِ سنّت کے امام، ولیِ کامِل اور سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے عاشقِ صادِق کا فتویٰ جو کہ یقینا حکمِ شریعت پر مَبنی ہے، وہ آپ تک پہنچانے کی جَسارت کی ہے، حبِّ جاہ و مال کے باعث طیش میں   آکر، تیوری (تیو۔رِی) چڑھا کر، بل کھا کر الٹی سیدھی زبان چلا کر عُلَمائے اہلِ سنّت کی مخالَفت کرنے سے جو حرام ہے، وہ حلال ہونے سے رہا، بلکہ یہ تو آخِرت کی تباہی کا مزید سامان ہے۔

طے نہ کیا ہو تو۔۔۔۔۔۔۔

        ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں   یہ بات آئے کہ یہ فتویٰ تو اُن کیلئے ہے جو پہلے سے طے کر لیتے ہیں  ، ہم تو طے نہیں   کرتے ، جو کچھ ملتا ہے وہ تبرُّکاً لے لیتے ہیں  ، اس لئے ہمارے لئے جائز ہے ۔ اُن کی خدمت میں   سرکارِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا ایک اور فتویٰ حاضِر ہے، سمجھ میں   نہ آئے تو تین بار پڑھ لیجئے:

        تلاوتِ قراٰنِ عظیم بغرضِ ایصالِ ثواب وذِکر شریف میلادِ پاک حُضُور سیِّدِ عالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمضَر ور مِنْجملہ عبادات وطاعت ہیں   تو ان پر اِجارہ بھی ضَرور حرام ومَحْذُور(یعنی ناجائز)۔اور اِجارہ جس طرح صَریح عَقْدِ زَبان(یعنی واضِح قول و قرار) سے ہوتا ہے ، عُرفاًشَرْطِ مَعْرُوف ومَعْہُود ( یعنی رائج شدہ انداز ) سے بھی ہوجاتا ہے مَثَلاً پڑھنے پڑھوانے والوں   نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں   کہ دیناہوگا(اور)وہ (پڑھنے والے بھی) سمجھ رہے ہیں   کہ ’’کچھ ‘‘ملے گا ، اُنہوں   نے اس طور پر پڑھا ، اِنہوں   نے اس نیَّت سے پڑھوایا ، اجارہ ہوگیا، اور اب دو وجہ سے حرام ہوا، (۱)ایک تو طاعت (یعنی عبادت )پر اِجارہ یہ خود حرام ، (۲)دوسرے اُجرت اگرعُرفاًمُعَیَّن نہیں   تو اس کی جَہالت سے اجارہ فاسِد ، یہ دوسرا حرام۔ (مُلَخّص اَز:  فتاوٰی رضویہ ج۱۹ص ۴۸۶ ۔ ۴۸۷)لینے والا اور دینے والا دونوں   گنہگار ہوں   گے۔    (ایضاً  ص۴۹۵)     اِس مبارَک فتوے سے روز روشن کی طرح ظاہِر ہو گیا کہ صاف لفظوں   میں   طے نہ بھی ہو تب بھی جہاں   UNDERSTOOD ہو کہ چل کرمحفل میں   قراٰنِ پاک ، آیتِ کریمہ ، دُرُود



[1]     امام ، مؤَذِّن، مُعَلّمِ دینیات اور واعظ و غیرہ اِس سے مستثنٰیٰ ہیں  ۔( ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ج ۱۹ ص ۴۸۶ )

 



Total Pages: 406

Go To