Book Name:Wasail e Bakhshish

 

جُھک گیاکعبہ سبھی بُت منہ کے بل اَوندھے گرے

دبدبہ آمد کا تھا، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

چودہ کنگُورے گرے آتَشکدہ ٹھنڈا ہوا

سٹپٹا شیطاں   گیا، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

سوئی قسمت جاگ اٹھی اور سب کی بگڑی بن گئی

بابِ رحمت وا ہوا، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

آتے ہی سجدہ کیا اور ربِّ ھَبْلِی اُمَّتی([1])  

کی، زباں   پر تھی دعا، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

خوب جھومو عاصیو! وہ مسکراتے آگئے

شافِعِ روزِ جزا، اہلاً وَّ سَہلاً مرحبا

عیدِ میلادُالنَّبی ہے چار جانب روشنی

ہر طرف ہے غُلغُلہ، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

چَھٹ گئے ظُلمت کے بادَل نور ہر ُسو چھا گیا

آگئے نورِ خدا، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

جن کے پَر تَوسے ہے ساری جگمگاتی کَہکشاں 

آئے وہ شمسُ الضُّحیٰ، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

آسمانوں   پر گئے اور خلد کی بھی سَیر کی

شاہ کا یہ مرتبہ، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

حاضِر و ناظِر بھی ہیں   اور باطِن و ظاہِر بھی ہیں 

کچھ نہیں   ان سے چُھپا، اہلاًوَّسَہلاًمرحبا

 

 



[1]     اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں  :دنیا میں   تشریف لاتے ہی آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بارگاہِ الٰہی میں  سجدہ کیا۔ اس وقت ہونٹوں   پر یہ دُعاجاری تھی:رَبِّ ہَبْ لِیْ اُمَّتِیْ یعنی پروردگار!میری اُ مّت مجھے ہِبہ کر دے ۔   (فتاوٰی رضویہ ج۳۰ص۷۱۷)۔



Total Pages: 406

Go To