Book Name:Wasail e Bakhshish

دے نَزْع و قبر وحشر میں   ہر جا اَمان، اور

دوزخ کی آگ سے بچایا ربِّ مصطَفٰے

آنکھوں   میں   جلوہ شاہ کا اور لب پہ نعت ہو

جب روح تن سے ہو جدا  یاربِّ مصطَفٰے

 

اے کاش! زیرِ گنبدِ خضرا پئے  ضیا

ایمان پر ہو خاتِمہ یاربِّ مصطَفٰے

مجھ کو بقیعِ پاک میں   مدفن نصیب ہو

غوثُ الوریٰ کا واسِطہ یاربِّ مصطَفٰے

جس دم وہ آئیں   قبر میں  ، میری زَبان پر

بس مرحبا کی ہو صدا یاربِّ مصطَفٰے

مَحْشر میں    پُلْ صراط پہ میرے قدم کہیں 

 جائیں   پھسل نہ یا خدا یا ربِّ مصطَفٰے

فردوس میں   پڑوس دے اپنے حبیب کا

مولیٰ علی کا واسِطہ یاربِّ مصطَفٰے

تو بے حساب بخش دے عطاّرِؔ زار کو

تجھ کو نبی کا واسِطہ یاربِّ مصطَفٰے

 

سرہے خَم ہاتھ میرا اُٹھا ہے یا خُدا تجھ سے میری دُعا ہے

(یہ کلام ۸ شوال المکرم ۱۴۳۱ھ کو کمپوز کیا گیا)

سرہے خَم ہاتھ میرا اُٹھا ہے یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے

فَضل کی رحم کی اِلتِجا ہے               یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے

قَلب میں   یاد لب پر ثنا ہے           میرے ہر درد کی یہ دوا ہے

کون دُکھیوں   کا تیرے سِوا ہے        یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے

قَلب سختی میں   حد سے بڑھا ہے       بندہ طالِب تِرے خوف کا ہے

 



Total Pages: 406

Go To