Book Name:Wasail e Bakhshish

ِس طرح پھیلے نیکی کی دعوت کہ نیک ہو

ہر ایک چھوٹا اور  بڑا یا ربِّ مصطَفٰے

بے پردَگی کا خاتِمہ ہو عورَتوں   کو دے

 زیور حیاو شرم کا یاربِّ مصطَفٰے

ہر ماہ مَدنی قافلے میں   سب کریں   سفر

اللّٰہ! جذبہ کر عطا یاربِّ مصطَفٰے

احکامِ شَرْع پر مجھے دے دے عمل کا شوق

پیکر خلوص کا بنا  یاربِّ مصطَفٰے

’’قفلِ مدینہ ‘‘ لب پہ ہو اور یہ شَرَف ملے

ہر دم کروں   تری ثنا یا ربِّ مصطَفٰے

ہو جائیں   مولا مسجدیں   آباد سب کی سب

سب کو نَمازی دے بنا یا ربِّ مصطَفٰے

 

غیبت سے اور تُہمت و چغلی سے دُور رکھ

خُوگر تُو سچ کا دے بنا یا ربِّ مصطَفٰے

عُجب و تکبُّر اور بچا  حُبِّ جاہ سے

آئے نہ پاس تک رِیا یا ربِّ مصطَفٰے

اَمراضِ عِصیاں   نے مجھے کرنیم جاں   دیا

مُرشِد کا صدقہ دے شِفا یاربِّ مصطَفٰے

 جوں   ہی گناہ کرنے لگوں  ، تیرے خوف سے

فوراً اُٹھوں   میں   تھرتھرا یا ربِّ مصطَفٰے

تیری  خَشیّت  اور ترے ڈر سے، خوف سے

ہر دم ہو دِل یہ کانپتا یا ربِّ مصطَفٰے

 

 



Total Pages: 406

Go To