Book Name:Wasail e Bakhshish

جلوہ مجھے پھر گنبدِ خَضرا کا دکھا دے

غم ایسا مدینے کا عطا کردے الٰہی

خوشیوں  ([1])کے گلستان کو جو میرے جلا دے

یارب! میں   ترے خوف سے روتا رہوں   ہر دم

دیوانہ شَہَنشاہِ مدینہ کا بنا دے

جب نعت سُنوں   جھوم اٹھوں   عشقِ نبی میں 

ایسا مجھے مستانہ محمد کا بنا دے

صدقے میں   مرے غوث کے تُو خواب میں  یارب

جلوہ مجھے سلطانِ مدینہ کا دکھا دے

   

 

سکرات میں   گر رُوئے محمد پہ نظر ہو

ہر موت کا جھٹکا بھی مجھے پھر تو مزا دے

جب حشر میں   آقا نظر آئیں   مجھے اے کاش!

بے ساختہ قدموں   میں   مرا شوق گرا دے

اُف حشر کی گرمی بھی ہے اور پیاس بَلا کی

اے ساقیِ کوثر مجھے اِک جام پلا دے

ہر وقت جہاں   سے کہ انہیں   دیکھ سکوں   میں 

جنت میں   مجھے ایسی جگہ پیارے خدا دے

اللّٰہ! مجھے سوز وگداز ایسا عطا کر

تڑپا دے بیاں   نعتِ نبی مجھ کو رُلا دے

تو پیچھے نہ ہٹنا کبھی اے پیارے مبلِّغ!

شیطان کے ہر وار کو ناکام بنا دے

 



[1]     یہاں   اللّٰہ و رسول سے دُوری کا سبب بننے والی غفلت بھری’’ خوشیاں  ‘‘  مُراد ہیں  ۔



Total Pages: 406

Go To