Book Name:Wasail e Bakhshish

ہے:جس نے دن اور رات میں   میری طرف شوق و مَحَبَّت کی وجہ سے تین تین مرتبہ دُرودِ پاک پڑھا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   پر حق ہے کہ وہ اُس کے اُس دن اور رات کے گُناہ بخش دے۔

    (الترغیب و الترھیب ج۲ص ۳۲۸ حدیث۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        بِسْمِ اﷲِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم ط  سگِ مدینہ  محمد الیاس عطّار قادری رضوی کی جانب سے بُلبلِ مدینہ ، میرے میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹے............ سَلَّمَہُ الْباری کی خدمت میں   حضرت سیِّدُناحسّان  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی مُعَنبریں  جَبِیں   کو چومتا ہوا، جھومتا ہوا مشکبار و پُر بہار سلام

 اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہ اَلْحَمْدُ للّٰہِ ربِّ العٰلَمِیْنَ عَلٰی کُلِّ حال

رضاؔ جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب

تو پیارے قیدِ خودی سے رَھیدہ ہونا تھا

        ۲۱ صفَرُ المُظَفّر۴۲۵اکو نگرانِ شوریٰ نے بابُ المدینہ کراچی کے نعت خواں   اسلامی بھائیوں   سے ’’ مَدَنی مشورہ ‘‘ فرمایا ۔ اُنہوں  نے جب حرص و طمع کی مذمّت بیان کر کے اِس بات پر اُبھار ا کہ اجتماعِ ذِکر و نعت میں   ہر نعت خواں   اپنی باری آنے پر اِعلان کر دے: ’’ مجھے کسی قسم کا نذرانہ نہ دیا جائے میں   اس کو قبول نہیں   کروں   گا۔‘‘ اس پر آپ نے ہاتھ اُٹھا کر اس عزم کا اظہار فرمایا کہ میں   اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اعلان کر دیا کروں   گا ۔  یہ خبَرِ فَرحَت اَثر سن کر میرا دل خوشی سے باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ بن گیا ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو اس عظیم مَدَنی نیّت پر استِقامت بخشے۔ میرے دل سے یہ دعائیں   نکل رہی ہیں   کہ مجھے اور آپ کو اور جس جس نے یہ مَدَنی نیّت کی ہے اس کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّدونوں   جہاں   میں   خوش رکھے ، ایمان کی حفاظت اورحتمی مغفِرت سے نواز ے ، مدینے کے سدا بہار پھولوں   کی طرح ہمیشہ مسکراتا رکھے ، حبِّ جاہ و مال کی اندھیریوں   سے نکل کر، عشقِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی روشنیوں   میں   ڈوب کر ، خوب نعتیں   پڑھنے سننے کی سعادت بخشے ۔کاش!خود بھی روتے رہیں   اور سامِعین کوبھی رُلاتے اور تڑپاتے رہیں   ۔ رِیا کاری سے حفاظت ہو اور اخلاص کی لازَوال دولت ملے۔

اٰمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

نعت پڑھتا رہوں   ، نعت سنتا رہوں   ، آنکھ پُر نَم رہے دل مچلتا رہے

ان کی یادوں   میں   ہر دم میں   کھویار ہوں  ، کاش ! سینہ محبت میں   جلتا رہے

 



Total Pages: 406

Go To