Book Name:Wasail e Bakhshish

۲۹صفرالمظفر ۱۴۳۱ھ

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طاَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کچھ وسائلِ بخشش کے بارے میں  .........

                        میرے آقا اعلٰی حضرت، اِمامِ اَہل سنّت، عاشقِ ماہِ نُبُوَّت،  ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂ شمعِ رِسالت،  امامِ عشق ومَحَبَّت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت،  پیکرِ فُنُون وحکمت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، حَسَّانُ الھِند، حضرتِ علّامہ مولانا مفتی الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  جنہیں   55سے زائد عُلُوم وفُنُون پرعُبور حاصل تھا ، بَہُت بڑے مُفتی ، مُحدِّث ، مُفَسِّر اورفَقِیہ ہونے کے ساتھ ساتھ نعتیہ شاعِری میں   بھی کمال درجہ مَہارت رکھتے تھے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں  :’’ حقیقۃً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لو گ آسان سمجھتے ہیں  ، اِس میں   تلوار کی دھار پر چلنا ہے ، اگر بڑھتا ہے تو اُلوہِیَّت میں   پہنچا جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص (یعنی شان میں   کمی یاگستاخی)ہوتی ہے، البتَّہ’’ حمد ‘‘آسان ہے کہ اِس میں   راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے ۔غرض’’ حمد‘‘ میں   ایک جانب اصلاً حد نہیں   اور   ’’ نعت شریف ‘‘میں   دونوں   جانِب سخت حدبندی ہے۔‘‘(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ص۲۲۷مکتبۃ المدینہ)اَلحمدُللّٰہ عَزَّوَجَلّ بَفَیضِ رضا سگِ مدینہ عفی عنہ کے قلم سے بھی گاہے بگاہے حمدیہ، نعتیہ اور مَنقبتیہ اشعار کاصُدور ہوتارہا ہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکی تعلیمات کی برکات ہیں   کہ میں   نے اپنا سارا دیوان عُلَمائے کرام(کثَّرھُمُ اللّٰہُ تعالٰی) کی خدمت میں   پیش کر کے شَرعی تفتیش کروانے کی سعادت حاصِل کر لی ہے۔

                         اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلّ  اِس’’ دیوان ‘‘کی خُصوصیَّت بلکہ اِنفرادیت میں   سے یہ بھی ہے کہ پڑھنے والوں   کوسَہولت فراہم کر کے ثواب کمانے کی نیَّت سے الفاظ پر جا بجا اِعراب لگائے گئے ہیں   نیز کتاب کے ابتِدائی صَفحات پر موجود ’’ حلِّ لُغات‘‘ میں   مشکل الفاظ کے وہ معانی پیش کر نے کی سعی کی گئی ہے جو کہ اشعار میں   مُراد لئے گئے ہیں   علاوہ ازیں  بعض کلاموں   کا پس منظر بھی اوربعض جگہ وَضاحتی حَواشی بھی شامل کئے گئے ہیں   ۔ ایک عجیب بات کا بارہامُشاہَدہ ہوا ہے کہ نعتیہ اشعار بِالخصوص مَقْطَع(یعنی آخِری شِعر جس میں   شاعر اپنا تخلُّص شامِل کرتا ہے



Total Pages: 406

Go To